Faiz Ahmad Faiz | Parveen Shakir | Nasir Kazmi | Muner Niazi | Ahmad Faraz | Jaun Elia | NFAK 🤎🔥 . . . . . . .
Pak-o-Hind Poetry پاک و ہند شاعری
i have a big collection of poetry .i want to publish it .i also want to raise the sound of poetry to
16/01/2026
مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہی
وہ نگاہ شوق سے دور ہیں رگ جاں سے لاکھ قریں سہی
ہمیں جان دینی ہے ایک دن وہ کسی طرح وہ کہیں سہی
ہمیں آپ کھینچے دار پر جو نہیں کوئی تو ہمیں سہی
غم زندگی سے فرار کیا یہ سکون کیوں یہ قرار کیا
غم زندگی بھی ہے زندگی جو نہیں خوشی تو نہیں سہی
سر طور ہو سر حشر ہو ہمیں انتظار قبول ہے
وہ کبھی ملیں وہ کہیں ملیں وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی
نہ ہو ان پہ جو مرا بس نہیں کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں
میں انہیں کا تھا میں انہیں کا ہوں وہ مرے نہیں تو نہیں سہی
مجھے بیٹھنے کی جگہ ملے مری آرزو کا بھرم رہے
تری انجمن میں اگر نہیں تری انجمن کے قریں سہی
ترے واسطے ہے یہ وقف سر رہے تا ابد ترا سنگ در
کوئی سجدہ ریز نہ ہو سکے تو نہ ہو مری ہی جبیں سہی
مری زندگی کا نقیب ہے نہیں دور مجھ سے قریب ہے
مجھے اس کا غم تو نصیب ہے وہ اگر نہیں تو نہیں سہی
جو ہو فیصلہ وہ سنائیے اسے حشر پر نہ اٹھائیے
جو کریں گے آپ ستم وہاں وہ ابھی سہی وہ یہیں سہی
اسے دیکھنے کی جو لو لگی تو نصیرؔ دیکھ ہی لیں گے ہم
وہ ہزار آنکھ سے دور ہو وہ ہزار پردہ نشیں سہی
(پیر نصیر الدین نصیر)
Phir milenge kabhi magar shayad
15/10/2024
صدیوں سے راہ تکتی ہوئی گھاٹیوں میں تم
اک لمحہ آ کے ہنس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا
ان وادیوں میں برف کے چھینٹوں کے ساتھ ساتھ
ہر سو شرر برس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا
راتیں ترائیوں کی تہوں میں لڑھک گئیں
دن دلدلوں میں دھنس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا
راہیں دھوئیں سے بھر گئیں میں منتظر رہا
قرنوں کے رخ جھلس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا
تم پھر نہ آ سکو گے بتانا تو تھا مجھے
تم دور جا کے بس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا
مجید امجد
19/06/2024
19/06/2024
🍂
وفا، اخلاص، قربانی، محبت، اب اِن لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم ؟ 🥀 ۔ ۔ ۔
09/02/2024
رنگ تھاروشنی تھاقامت تھا
جس پہ ہم مرمٹے قیامت تھا
خوش جمالوں میں دھوم تھی اپنی
نام اسُ کابھی وجہءشہرت تھا
پاسِ آوارگی ہمیں بھی بہت
اسُ کوبھی اعترافِ وحشت تھا
ہم بھی تکرارکے نی تھے ہوگر
وہ بھی نہ آشنائے حجت تھا
خواب تعبیربن کے آئے تھے
کیاعجب موسمِ رفاقت تھا
اپنے لہجے کابانکپن سارا
اسُ کی پندارکی امانت تھا
اسُ کے کندن بدن کاروپ سروپ
حسنِ احساس کی بدولت تھا
اک اک سانس قربتوں کاگواہ
ہرنفس لمحہء غنیمت تھا
اورپھریوں ہواکہ ٹوٹ گیا
وہ جواک رشتہء محبت تھا.
افتخارعارف
12/12/2023
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی
جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد
پر طبیعت ادھر نہیں آتی
ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں
میری آواز گر نہیں آتی
داغ دل گر نظر نہیں آتا
بو بھی اے چارہ گر نہیں آتی
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
موت آتی ہے پر نہیں آتی
کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ
شرم تم کو مگر نہیں آتی🖤
04/12/2023
عشق میں غیرت جذبات نے رونے نہ دیا
ورنہ کیا بات تھی کس بات نے رونے نہ دیا
آپ کہتے تھے کہ رونے سے نہ بدلیں گے نصیب
عمر بھر آپ کی اس بات نے رونے نہ دیا
رونے والوں سے کہو ان کا بھی رونا رو لیں
جن کو مجبورئ حالات نے رونے نہ دیا
تجھ سے مل کر ہمیں رونا تھا بہت رونا تھا
تنگیٔ وقت ملاقات نے رونے نہ دیا
ایک دو روز کا صدمہ ہو تو رو لیں فاکرؔ
ہم کو ہر روز کے صدمات نے رونے نہ دیا
سدرشن فاخر
17/11/2023
وہ بے وفا ہے تو کیا مت کہو بُرا اُس کو
کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اُس کو
نظر نہ آئے تو اسکی تلاش میں رہنا
کہیں ملے تو پلٹ کر نہ دیکھنا اُس کو
وہ سادہ خُو تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا
ہوا کے ساتھ چلا ،لے اڑی ہوا اُس کو
وہ اپنے بارے میں کتنا ہے خوش گماں دیکھو
جب اس کو میں بھی نہ دیکھوں تو دیکھنا اُس کو
ابھی سے جانا بھی کیا اس کی کم خیالی پر
ابھی تو اور بہت ہو گا سوچنا اُس کو
اسے یہ دُھن کہ مجھے کم سے کم اداس رکھے
مری دعا کہ خدا دے یہ حوصلہ اُس کو
پناہ ڈھونڈ رہی ہے شبِ گرفتہ دلاں
کوئی پتاؤ مرے گھر کا راستا اُس کو
غزل میں تذکزہ اس کا نہ کر نصیرؔ کہ اب
بھلا چکا وہ تجھے تو بھی بھول جا اُس کو
نصیرؔ ترابی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Lahore