Learn with Ahsan ul haq

Learn with Ahsan ul haq

Share

The main objective of this page is to provide the best knowledge and motivation to all learning people

26/04/2026

Article :
🟢Teachers Career path( SUMMARY )

🔴Systemic crisis in the education sector:
the primary school teaching cadre is being used as a temporary "parking lot" for professionals waiting for better opportunities, leading to massive administrative waste and poor educational outcomes.

🔴The "Parking" Phenomenon
Many individuals entering the primary teaching workforce have no intention of staying in the profession.

🔴Non-Professional Recruitment: Applicants often lack education-specific degrees and view the role as a temporary stopgap.

🔴The "Parking" Strategy: Highly qualified professionals, including engineers, take these roles to:

Maintain eligibility for government jobs (avoiding "overage" status).

Secure a steady income while preparing for competitive exams like the CSS.

Wait for openings in administrative, subject-specialist, or high school roles.

🔴Immediate Attrition: As soon as a "better" or more relevant job appears, these individuals leave, rendering recruitment and training efforts a total loss.

🔴The Case of "Javed"
The author cites a typical example to illustrate the trend:

🔴Background: An engineering graduate who faced six months of unemployment.

🔴Motivation: Joined as a primary teacher solely for income and age-eligibility for civil service.

🔴Outcome: Left the profession as soon as a relevant engineering or higher-tier government job opened.

🔴Structural Failures in Career Paths
The current bureaucratic structure devalues primary education, leading to a drain of talent where it is needed most.

🔴Misconception of "Higher" Teaching: Bureaucracy assumes teaching older students requires "higher-level" skill, whereas early childhood education actually requires unique, distinct competencies.

🔴Resource Waste: Significant financial and administrative costs are sunk into recruiting and training people who have one foot out the door.

🔴Learning Crisis: Without a dedicated, high-quality teaching force in the foundational "early years," improving overall learning outcomes is nearly impossible.

🔴The Author's Verdict: To fix this, the system must find ways to reward and professionalize primary teaching as a career destination rather than a stepping stone.

Learn With Ahsan Ul Haq – WhatsApp channel 16/04/2026

*بورڈ امتحانات: نہم کلاس کے طلبہ کے لیے جامع اور ترتیب وار ہدایات*

مرحلہ 1: امتحان سے چند دن پہلے کی تیاری
رول نمبر سلپ کی فوٹو کاپی: جیسے ہی آپ کو رول نمبر سلپ ملے، اس کی فوٹو کاپی کروا کر گھر میں کسی محفوظ جگہ پر رکھ لیں تاکہ اصل سلپ گم ہونے کی صورت میں آپ کے پاس ریکارڈ موجود ہو۔

سینٹر کا معائنہ: امتحان سے کچھ دن پہلے اپنے امتحانی مرکز (Center) پر جا کر اسے دیکھ لیں کہ وہ کہاں واقع ہے۔ اس سے آپ کو یہ اندازہ ہو جائے گا کہ وہاں پہنچنے میں کتنا وقت لگتا ہے اور آپ پیپر والے دن کسی بھی پریشانی یا تاخیر سے بچ سکیں گے۔
مرحلہ 2: گھر سے روانگی اور ضروری سامان
لباس اور آرام: سادہ، ڈھیلے ڈھالے اور آرام دہ کپڑے پہنیں تاکہ آپ پرسکون رہیں۔

اپنی رول نمبر سلپ لازمی ساتھ لیں۔

پانی اور رومال: اپنے ساتھ پانی کی ایک شفاف بوتل اور پسینہ صاف کرنے کے لیے رومال لازمی رکھیں تاکہ پیپر گیلا نہ ہو۔

گھڑی (Wrist Watch): وقت کا حساب رکھنے کے لیے اپنے ساتھ ایک سادہ کلائی والی گھڑی ضرور رکھیں (سمارٹ واچ کی اجازت نہیں ہے)۔

شفاف جومیٹری باکس: تمام قلم، مارکر اور ایک بڑا اسکیل (تاکہ حاشیہ جلدی لگے) ایک ایسی شفاف جومیٹری میں رکھیں جس کے آر پار نظر آتا ہو۔
ریموور پر پابندی: ریموور یا وائٹنر بالکل نہ لے جائیں، اس کے استعمال پر UMC (ناجائز ذرائع کا کیس) بن سکتا ہے۔

مرحلہ 3: امتحانی مرکز پہنچ کر
وقت پر پہنچنا: پیپر شروع ہونے سے کم از کم30 منٹ پہلے سینٹر پہنچیں۔

لسٹ دیکھنا: سینٹر کے باہر لگی ہوئی رول نمبر لسٹ میں اپنا رول نمبر تلاش کریں تاکہ آپ کو اپنی لائن اور کمرہ امتحان ڈھونڈنے میں آسانی ہو۔
مرحلہ 4: جوابی کاپی (Answer Sheet) کی وصولی اور پڑتال
صفحات کی گنتی: کاپی ملتے ہی سب سے پہلے اس کے صفحات گن لیں (عموماً23 صفحات ہوتے ہیں)۔
تبدیلی: اگر کاپی پھٹی ہوئی ہے یا سلائی خراب ہے، تو فوراً نگران کو بتا کر کاپی تبدیل کروائیں۔

حاشیہ اور ببل فلنگ: اگر کاپی ٹھیک ہے تو بڑے اسکیل سے حاشیہ لگائیں اور ببل شیٹ پر اپنا رول نمبر اور پیپر کوڈ بہت احتیاط سے بھریں۔
مرحلہ 5: پرچہ (Question Paper) کی تقسیم
معروضی (Objective) پر رول نمبر: معروضی پرچہ ملتے ہی اس پر اپنا رول نمبر لکھیں تاکہ وہ تبدیل نہ ہو سکے۔ اس کا کوڈ جوابی کاپی کے دونوں طرف لازمی درج کریں۔

انشائیہ (Subjective) کی تقسیم: معروضی کا ٹائم ختم ہونے سے پہلے ہی تمام بچوں کو انشائیہ پرچہ دے دیا جائے گا۔ اس پر بھی اپنا رول نمبر لکھ لیں۔
معروضی کا وقت ختم ہونے پر نگران صرف معروضی سوال نامہ واپس لے گا، ببل شیٹ آپ کی جوابی کاپی کے ساتھ ہی رہے گی۔

مرحلہ 6: حاضری شیٹ پر اپنے نام اور تصویر والی لائن میں حاضری شیٹ کا نمبر اور معروضی کا پیپر کوڈ لکھ کر اپنے دستخط کریں گے۔

مرحلہ 7: پیپر کا اختتام
پیپر کو ایک دفعہ دوبارہ ضرور پڑھیں ۔
خالی جگہ: جوابی کاپی میں اگر کوئی صفحہ یا جگہ خالی بچ جائے، تو وہاں ایک ترچھی لائن لگا دیں تاکہ پیپر کا اختتام واضح ہو جائے۔
دعا: اللہ پاک تمام محنت کرنے والے بچوں کو ان کی امیدوں سے بڑھ کر کامیابی عطا فرمائے۔ آمین۔

🅓🅞🅝'🅣 🅜🅘🅢🅢 🅣🅗🅔 🅤🅟🅓🅐🅣🅔🅢 &
𝑭𝒐𝒍𝒍𝒐𝒘 𝑶𝒖𝒓 𝑶𝒇𝒇𝒊𝒄𝒊𝒂𝒍 𝑾𝒉𝒂𝒕𝒔𝑨𝒑𝒑 𝑪𝒉𝒆𝒏𝒏𝒂𝒍
https://whatsapp.com/channel/0029VbAdQH22Jl8GgBt0mR0z

𝐋𝐢𝐤𝐞 | 𝐂𝐨𝐦𝐦𝐞𝐧𝐭 | 𝐒𝐡𝐚𝐫𝐞

Learn With Ahsan Ul Haq – WhatsApp channel Follow Learn With Ahsan Ul Haq's WhatsApp channel. U ll be provided all kind of educational information and general information as well. Join 150 followers for the latest updates.

26/03/2026

*`🔰جن اداروں میں آن لائن اپلائی جاری ہے 👇:`*

*`:APPLY ONLINE:`*

`🔹Pak Army PMA LC 158:`
*Education:* Inter (60%)
*Age:* 17 - 23
*Last Date:* 3 May, 2026

`🔹PAK NAVY JOBS:`
*Education:* Inter (Pre-Eng ya ICs 60%)
*Age:* 16½ - 21
*Last Date:* 31 March, 2026.

`🔹PAK RANGERS JOBS:`
*Education:* Matric/Inter
*Age:* 18-30
*Last Date:* 29 March, 2026.

`🔹ELECTION COMMISSION:`
*Security Personnel (BPS-07):*
*Education:* Matric/Inter
*Age:* 18 - 45
*Last Date:* 25 March, 2026.

17/03/2026

چند ٹکوں کی زندگی — رحیم یار خان کا سانحہ اور ریاستی بے حسی کی انتہا

رحیم یار خان کے ایک گاؤں چک 125 میں پیش آنے والا دلخراش واقعہ، جہاں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم لینے آئی خواتین پر چھت گرنے سے قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں، محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ظالمانہ نظام کی کھلی ناکامی ہے۔ یہ سانحہ چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ ہمارے ہاں غریب کی جان کی کوئی قیمت نہیں، اور فلاح کے نام پر ایک ایسا ڈھانچہ کھڑا کر دیا گیا ہے جو عزت نہیں بلکہ ذلت بانٹتا ہے۔

سب سے پہلے بات ذمہ داری کی۔ یہ کہنا کہ “حادثہ ہو گیا” دراصل جرم پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ قتلِ خطا نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت ہے۔ مقامی انتظامیہ، متعلقہ محکمے، اور وہ تمام افسران جو اس عمل کی نگرانی کے ذمہ دار تھے، سب اس سانحے میں برابر کے شریک ہیں۔ کیا کسی نے یہ سوچا کہ سینکڑوں خواتین ایک خستہ حال عمارت میں جمع ہوں گی تو کیا ہوگا؟ یا پھر ہمیشہ کی طرح غریب کی جان کو سستا سمجھ کر سب کچھ نظر انداز کر دیا گیا؟

لیکن اس کہانی کا ایک اور بھیانک رخ بھی ہے—کرپشن، اقربا پروری اور اختیارات کا ناجائز استعمال۔ دیہات میں حکام اپنے من پسند دکانداروں کو ادائیگی کی ڈیوائسز دے دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں چند مخصوص جگہوں پر غیر معمولی رش جمع ہو جاتا ہے۔ یہ دکاندار اکثر بااثر افراد کے قریبی ہوتے ہیں، اور ان کا انتخاب میرٹ پر نہیں بلکہ تعلقات کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ نتیجہ؟ سینکڑوں خواتین ایک ہی مقام پر دھکے کھانے پر مجبور، نہ کوئی نظم، نہ کوئی تحفظ، نہ کوئی انسانی ہمدردی۔

یہ صرف بدانتظامی نہیں، بلکہ ایک منظم استحصال ہے۔ خواتین کو لمبی قطاروں میں کھڑا کر کے، ان سے گھنٹوں انتظار کروا کر، اور پھر چند ہزار روپے تھما کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ جیسے کوئی بہت بڑا احسان کیا جا رہا ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ فلاحی ریاست کا ماڈل ہے یا ایک ایسا نظام جہاں غربت کو کم کرنے کے بجائے اسے ایک کاروبار بنا دیا گیا ہے؟

مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ اس تمام عمل میں انسانی وقار مکمل طور پر نظر انداز ہو چکا ہے۔ نہ سایہ، نہ بیٹھنے کا انتظام، نہ سیکیورٹی، نہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری۔ کیا یہ خواتین شہری نہیں؟ کیا ان کی جان اور عزت کی کوئی حیثیت نہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ حکومت وقتی امداد کے ذریعے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کا تاثر دیتی ہے، مگر غربت کے اصل اسباب کو ختم کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں کیا جاتا۔ اگر انہی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے خواتین کو ہنر سکھایا جائے، چھوٹے کاروبار کے لیے سرمایہ فراہم کیا جائے، یا مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، تو یہ خواتین ہمیشہ کے لیے اس ذلت آمیز نظام سے آزاد ہو سکتی ہیں۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے غربت کے خاتمے کے لیے خود کفالت کا راستہ اپنایا، جبکہ ہم آج بھی خیرات کے نظام میں الجھے ہوئے ہیں—ایک ایسا نظام جو نہ صرف ناکام ہے بلکہ کئی بار جان لیوا بھی ثابت ہو رہا ہے۔

اب وقت آ چکا ہے کہ اس نظام کو جڑ سے بدلا جائے۔ شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کو سخت سزا، اور سب سے بڑھ کر—ایک ایسا فلاحی ماڈل جو عزت، خود مختاری اور تحفظ پر مبنی ہو۔

ورنہ کل کوئی اور چھت گرے گی، کچھ اور جانیں جائیں گی، اور ہم پھر یہی کہیں گے—“یہ ایک حادثہ تھا۔”

کب تک؟:

01/03/2026

(إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
The Ummah stands orphaned today, mourning the loss of its singular, steadfast caretaker. Ayatollah Khamenei’s departure leaves a void no other can fill, as we weep for the guardian who carried our collective burdens alone.

01/03/2026

امن کے تمغے اور خون کے داغ

جب بھی دنیا کے کسی کونے میں آگ بھڑکتی ہے، جب دھماکوں کی گونج میں بچوں کی چیخیں دب جاتی ہیں، تو کہیں نہ کہیں ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں امن کے سرٹیفکیٹ بھی تیار ہو رہے ہوتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جب دل طنز سے بھر جاتا ہے اور سوال تیر بن کر نکلتا ہے: آخر قاتلوں کو نوبیل انعام دینے کی سفارش کون کرتا ہے؟
نوبیل امن انعام — نام ایسا کہ گویا فرشتوں کی پیشانی پر لکھا ہو۔ مگر نامزدگی کا دروازہ سیاست دانوں، بااثر اراکینِ پارلیمنٹ اور طاقت کے کھلاڑیوں کے ہاتھ میں ہے۔ یعنی وہی لوگ جو کل جنگی قراردادوں پر دستخط کرتے ہیں، آج امن کے تمغے کی سفارش بھی کر سکتے ہیں۔ کیا خوب انصاف ہے! ہاتھ میں تلوار بھی، اور سینے پر امن کا بیج بھی۔
یہ دنیا عجیب تماشا گاہ ہے۔
جو شہر جلاتا ہے وہی کہلاتا ہے “امن کا داعی”،
جو معاہدہ لکھتا ہے وہی تاریخ کا منجی ٹھہرتا ہے۔
نامزدگی اور انعام میں فرق ضرور ہے، مگر سیاست کو فرق سے کیا غرض؟ سرخی بن گئی تو مقصد پورا۔ عوام کے زخموں پر نمک چھڑک دو اور کہہ دو: “یہ عالمی مفاد تھا۔” مفاد! یہ وہ لفظ ہے جس کے سائے میں انسانیت کی لاش رکھی جاتی ہے اور اس پر سفارتی تقریر پڑھ دی جاتی ہے۔
طنز تو یہ ہے کہ امن کی تعریف بھی طاقتور کے پاس ہے۔ اگر آپ کے پاس میزائل ہیں تو آپ “استحکام” لا رہے ہیں۔ اگر آپ کے پاس تیل ہے تو آپ “تزویراتی شراکت دار” ہیں۔ اور اگر آپ کے پاس صرف آنسو ہیں تو آپ اعداد و شمار ہیں۔
وہی قاتل تھا، وہی منصف بنا بیٹھا ہے آج
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کس کو انعام ملا؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب طاقت اخلاق پر غالب آ جائے تو ایوارڈ بھی ہتھیار بن جاتے ہیں۔ اور تب سوال طنز میں ڈھل کر چیختا ہے:
کیا امن اب صرف وہی ہے جو طاقتور لکھ دے؟
کیا انصاف وہی ہے جو کیمروں کے سامنے اچھا لگے؟
اگر امن واقعی مقدس ہے تو اسے سیاست کے بازار سے نکالنا ہوگا۔ ورنہ یہ دنیا یونہی تماشا دیکھتی رہے گی—
قاتل بھی معتبر،
اور مقتول بھی خاموش۔

Photos from Learn with Ahsan ul haq's post 28/02/2026

ڈان آف سرگودہا فیصل شفقت بھٹی کے خلاف کیس کی مدعیہ لڑکی منظر عام پر : ایس پی سی سی ڈی آفتاب پھلروان کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران محمد نواز فقیر کی بیٹی نے بتایا کہ چند روز قبل درجنوں مس.لح گارڈز کے ساتھ علاقہ کے معززین اور سیاستدان 50 لاکھ روپیہ لے کر ہمارے گھر آئے مجھے اور میرے والد کو کہا کہ 50 لاکھ روپے لے کر صلح کر لو تو فائدے میں رہو گے اور کیس کی مدعیت نہ چھوڑی تو باقی گھر والوں سمیت سب مارے جاؤ گے ۔۔۔ فیصل شفقت ویڈیو میں جس صلح کی بات کررہا تھا وہ یہ بندو۔قوں کی نوک پر ہونے والی صلح تھی جس کا ہم نے انکار کیا ، مدعیہ لڑکی کے مطابق فیصل شفقت نے 9 ماہ کے دوران ہمارے گھر کے 6 لوگ ق۔ت۔ل کر دیے، میرے 12 سال کے بھائی کو بیدردی کے ساتھ ق۔ت۔ل کیا گیا ، میرے چاچو کو روزے کی حالت میں ق۔ت۔ل کیا گیا اور میرے دو کزنوں کو اغ۔وا کرنے کے بعد بیہمانہ تش۔دد کرنے کے بعد سینے میں گو۔لیاں مار کر ق۔ت۔ل کردیا گیا ، فیصل شفقت اتنا ظالم تھا کہ اس کے ڈرسے علاقہ کے لوگ اپنے ساتھ ہوئے ظلم پر بولتے بھی نہیں تھے کہ ظلم ہو گیا خیر ہے زندگی تو بچ گئی ۔۔۔۔۔ہم فیصل شفقت کے ڈر سے علاقہ چھوڑ کر لاہور میں چھپے رہے ، شکر الحمد للہ حکومت اور سی سی ڈی نے اس ظالم کو اپنے انجام تک پہنچایا ، یقین ہے کہ اب پنجاب میں بڑے سے بڑا ظالم ظلم کرنے کے بعد اپنے انجام کو ضرور پہنچے گا

26/02/2026

*قدرت کا انتقام ظالم کا بھیانک انجام غریب کی آہ مظلوم کو انصاف ۔*

سرگودھا کا ایک بااثر جاگیردار، فیصل، جس نے 1997 سے اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کا آغاز کیا، وقت کے ساتھ ظلم اور بربریت کی علامت بن گیا۔ ذاتی دشمنیوں کے پس منظر میں اس نے مخالفین کے آٹھ افراد کو قتل کیا اور بعد ازاں زمین کے تنازع پر ایک غیر زمیندار خاندان کو نشانہ بنایا۔ اس خاندان کے پانچ افراد، جن میں ایک شاعر بھی شامل تھا جس نے نظم کے ذریعے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی تھی، کو بے دردی سے ہلاک کر دیا گیا۔ اس طرح وہ مجموعی طور پر تیرہ افراد کے قتل میں ملوث رہا اور خوف کی علامت بن گیا تاکہ کوئی آئندہ اس کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات نہ کرے۔

طاقت، دولت اور اثر و رسوخ کے نشے میں فیصل بیرونِ ملک بیٹھ کر بھی قتل کرواتا رہا اور سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے متاثرہ خاندانوں کو دبانے کی کوشش کرتا رہا۔ اس سلسلے میں اس نے مقامی سیاستدانوں، خصوصاً موجودہ ایم این اے ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی اور ایم پی اے رانامنور حسین المعروف رانا غوث، سے رابطہ کیا۔ اسلام آباد ایئرپورٹ پر بھی ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی اندر تک گئے جبکہ ایم پی اے صاحب نے بھی اہم شخصیات سے ملاقاتیں کر کے ملزم کو بچانے کی کوشش جاری رکھی، تاہم اپریل 2025 میں قائم ہونے والے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) نے واضح کیا کہ وہ معصوموں کو انصاف دلانے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
اور ایک متاثرہ نوجوان کی درخواست پر کیس کو سنجیدگی سے لیا۔ خاموشی سے تفتیش کا آغاز ہوا، شواہد اکٹھے کیے گئے اور قانونی عمل کو مرحلہ وار آگے بڑھایا گیا۔ نتیجتاً ملزم کی بین الاقوامی نقل و حرکت محدود ہوئی اور اسے پاکستان واپسی پر گرفتار کر لیا گیا۔

آج صبح جب پولیس اسے گرفتار کرکے ایئرپورٹ سے واپس لا رہی تھی تو مزاحمت اور فائرنگ کے تبادلے کے دوران ملزم ہلاک ہو گیا۔

اس کارروائی کے نتیجے میں:
• طویل عرصے سے جاری بے سزا رہنے کی روایت کو چیلنج کیا گیا
• طاقت اور دولت کے ذریعے انصاف سے بچنے کے تصور کو کمزور کیا گیا
• مظلوم خاندانوں کو آواز اور قانونی تحفظ ملا
• ریاستی رٹ بحال ہوئی


گناہ کو نہ چھپاؤ
کہ ماہتاب ہے وہ

ذرا جو ابر کا کالا نقاب سرکے گا
وہ سر ابھارے گا

زبان آستین بولے گی
خون پکارے گا
Copied from voice of sargodha

24/02/2026

ڈاکٹر مہوش کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے ایک فی میل مریضہ کے ساتھ آئے ہوئے مرد کو یہ کہہ تھا کہ

آپ باہر جاکر تھوڑا انتظار کرلیں یہ خواتین کے بیٹھنے کی جگہ ہے آپ کی مریضہ کا چیک اپ کرکے میں اسے ابھی باہر بھیج دیتی ہوں

بس یہ سننا تھا اس خبطی پٹھان کا دماغ گھوم گیا کہ مجھے تم نے باہر جانے کا کہہ دیا اس وقت وہ چپ رہا

اس کی انا کو تکلیف ہوئی کہ مجھے آج تک کسی نے ایسے نہیں کہا کہ یہاں سے چلے جاؤ اور اس نے کیسے کہہ دیا اس کے بعد وہ انتظار میں رہا کہ کب یہ ڈاکٹر باہر نکلتی ہے ۔

جیسے ڈاکٹر مہوش اپنے گھر کے لیئے باہر نکلیں تو اس انسان نے بیچاری کو سات فائر مار کر شہید کردیا ۔

اور پھر موقع سے فرار ہوگیا وہاں پہ مہوش کے گھر والے انتظار کر رہے تھے کہ بیٹی ابھی تک گھر نہیں پہنچی

روزے افطار ہونے کا وقت ہونے والا ہے لیکن ان کو کیا پتا تھا کہ ان کی بیٹی نام نہاد عزت اور غیرت والے ایک پٹھان کی گولیوں کی نذر ہوچکی ہے

اس سے پہلے کوہاٹ میں ڈاکٹر وردا کی جان لی گئی پولیس بک گئی آج بلے کی ہٹی دوبارہ کھل چکی ہے بیچاری کے مارنے والے سر عام گھوم رہے ہیں

خیر لوگوں کو کیا جس کا جاتا ہے تکلیف اس کو ہوتی ہے اگر ہوسکے تو آواز اٹھا لیں تاکہ قیامت کے روز ہم منہ دکھانے کے قابل ہوں ڈاکٹر مہوش کے بچے ابھی بھی اپنی ماں کا انتظار کررہے ہے کہ ہماری مما ڈیوٹی پر ہے وہ گھر آجائے گی لیکن ان کو کیا پتہ کہ انسانی جانور کب ان کا قتل عام کرچکے ہے💔🥲
ڈاکٹر وردہ کو اگر انصاف مل جاتا
تو شاید آج کوہاٹ میں ڈاکٹر مہوش قتل نہ ہوتیں۔
بلے دی ہٹی کھل چکی ہے،
جے آئی ٹی رپورٹ وزیرِ اعلیٰ کی میز پر دھول کھا رہی ہے،
اور ڈاکٹر وردہ کے معصوم بچے آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔
ہسپتالوں میں سیکیورٹی نام کی کوئی چیز نہیں۔
ڈاکٹر روز اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ڈیوٹی دے رہے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں:
🔴 ڈاکٹر وردہ کیس کی جے آئی ٹی رپورٹ پر فوری عملدرآمد
🔴 ڈاکٹر مہوش کے قاتلوں کی فوری گرفتاری
🔴 ہسپتالوں میں مؤثر سیکیورٹی نظام
انصاف میں تاخیر اب ناانصافی نہیں، شراکتِ جرم ہے۔
آج آواز نہ اٹھی تو کل کوئی اور ڈاکٹر ہوگا۔





😥😥😥😥

23/02/2026

کبھی کبھی تاریخ اپنے فیصلے ایوانوں میں نہیں بلکہ مٹی کے نیچے دبے ہوئے دلوں میں لکھتی ہے۔ دسمبر 1999 میں وینزویلا کی ساحلی ریاست وارگاس پر جب آسمان کئی دنوں تک مسلسل برستا رہا تو پہاڑوں نے پانی کو سہنے سے انکار کر دیا۔ پہاڑوں کی ڈھلوانوں سے مٹی، پتھر اور کیچڑ کا ایک طوفان نیچے اترا اور چند گھنٹوں میں بستیاں صفحۂ ہستی سے مٹا دیں۔ گھر، سڑکیں، اسکول، بازار — سب کچھ بہہ گیا۔ ہزاروں زندگیاں خاموشی سے مٹی میں دفن ہو گئیں اور جو بچ گئے، وہ بھی اپنے پیاروں کی تلاش میں بےیقینی اور خوف کے سمندر میں کھڑے رہ گئے۔

اسی قیامت خیز منظر کے درمیان ایک ایسا لمحہ آیا جس نے سانحے کو محض اعداد و شمار سے نکال کر انسانی دل کی گہرائیوں میں ثبت کر دیا۔ امدادی کارکن جب ملبے میں دبے لوگوں کو نکال رہے تھے تو انہیں ایک باپ ملا جو اپنی دو کمسن بیٹیوں کے ساتھ کیچڑ میں پھنسا ہوا تھا۔ اس کا چہرہ مٹی سے اٹا ہوا تھا، آنکھوں میں ایک بے بسی اور محبت کی شدت ایک ساتھ جھلک رہی تھی۔ جب ریسکیو اہلکاروں نے اسے باہر نکالنے کی کوشش کی تو اس نے کمزور مگر پُرعزم آواز میں کہا:

“Don’t pull me out… my daughters are holding my hands.”

"مجھے نہ نکالو… میری بیٹیاں میرے ہاتھ تھامے ہوئے ہیں۔"
(یہ الفاظ بعد میں دنیا بھر میں والد کی محبت اور قربانی کی علامت بن گئے) ۔

یہ الفاظ صرف ایک جملہ نہیں تھے، یہ ایک باپ کا آخری اعلان تھا۔ اس نے اپنی زندگی سے زیادہ اپنی بیٹیوں کے لمس کو اہم جانا۔ وہ جانتا تھا کہ شاید اس کی بچیاں اس دنیا میں واپس نہ آئیں، مگر ان کے ہاتھ چھوڑ دینا اس کے لیے سانس چھوڑ دینے سے بھی زیادہ کربناک تھا۔ انسانی فطرت بقا چاہتی ہے، ہر سانس کے لیے لڑتی ہے، مگر اس لمحے محبت نے بقا کو شکست دے دی۔ ایک باپ نے موت کو قبول کر لیا، مگر تنہائی کو نہیں۔

وارگاس کی تباہی نے پہاڑوں کا نقشہ بدل دیا، ساحلوں کو مٹا دیا، مگر اس ایک جملے نے انسانیت کی تاریخ میں اپنی جگہ بنا لی۔ اندازوں کے مطابق دس ہزار سے لے کر تیس ہزار تک جانیں ضائع ہوئیں، مگر ہر عدد کے پیچھے ایک کہانی تھی۔ اس باپ کی کہانی ان سب کہانیوں کی علامت بن گئی۔ قدرت کی بےرحمی کے سامنے انسان بےبس تھا، مگر محبت بےبس نہ تھی۔ مٹی نے اس کے جسم کو ڈھانپ لیا، مگر اس کے فیصلے کو نہیں۔

کچھ لمحے وقت سے بڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی ایسا ہی ایک لمحہ تھا۔

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Lahore