22/06/2026
🎉 Facebook recognized me as a top rising creator this week!
“اساتذہ کی تربیت، جدید تدریس، اور تعلیم میں جدت کے لیے ایک عملی کوشش 📚
🎥 آن لائن ٹریننگ | 🧠 AI Tools | 💬 تدریسی رہنمائی
22/06/2026
🎉 Facebook recognized me as a top rising creator this week!
پنجاب بھر کے ٹیچرز نے انگریزی کی تربیتی ورکشاپ کا بائیکاٹ کا اعلان کردیا ھے۔
کیا یہ درست عمل ھے؟
22/06/2026
پڑھائی، کھیل اور آرام کا توازن: کامیاب اور خوش بچوں کا راز
ہم اکثر بچوں کی اچھی تعلیم کے بارے میں سوچتے ہیں تو سب سے پہلے ذہن میں پڑھائی آتی ہے۔ لیکن کیا صرف کتابوں میں مصروف رہنا ہی کامیابی کی ضمانت ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ایک بچے کی متوازن نشوونما کے لیے صرف پڑھائی ہی نہیں، بلکہ کھیل اور مناسب آرام بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔
بچپن زندگی کا وہ خوبصورت دور ہے جہاں سیکھنا، کھیلنا اور خوش رہنا ایک ساتھ چلتے ہیں۔ اگر بچے کا پورا دن صرف ہوم ورک، ٹیوشن اور نصابی سرگرمیوں میں گزرے تو وہ ذہنی طور پر تھکن محسوس کرنے لگتا ہے۔ دوسری طرف اگر سارا وقت کھیل کود میں گزرے اور پڑھائی کو نظر انداز کیا جائے تو تعلیمی ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ان تینوں چیزوں کے درمیان ایک خوبصورت توازن قائم کیا جائے۔
ذرا ایک عام بچے کا تصور کریں۔ وہ صبح اسکول جاتا ہے، گھر آ کر کچھ دیر آرام کرتا ہے، اپنا ہوم ورک مکمل کرتا ہے اور پھر تھوڑی دیر دوستوں کے ساتھ کھیلتا ہے۔ شام کو گھر والوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے اور رات کو وقت پر سو جاتا ہے۔ ایسا معمول نہ صرف اس کی جسمانی صحت کو بہتر بناتا ہے بلکہ اس کی ذہنی صلاحیت، یادداشت اور سیکھنے کی رفتار میں بھی اضافہ کرتا ہے۔
کھیل صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ بچوں میں خود اعتمادی، ٹیم ورک، نظم و ضبط اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔ اسی طرح مناسب نیند دماغ کو تازگی فراہم کرتی ہے اور اگلے دن نئی چیزیں سیکھنے کے لیے تیار کرتی ہے۔ ایک تھکا ہوا بچہ نہ تو دل لگا کر پڑھ سکتا ہے اور نہ ہی اپنی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کر سکتا ہے۔
والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے کے بجائے ان کے لیے ایسا ماحول فراہم کریں جہاں پڑھائی کے ساتھ کھیل اور آرام کو بھی اہمیت دی جائے۔ مختصر گفتگو، روزانہ کی حوصلہ افزائی، چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر تعریف اور دلچسپ سرگرمیاں بچوں کی شخصیت پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں۔
یاد رکھیں، کامیاب بچے صرف وہ نہیں ہوتے جو ہر وقت کتابوں میں مصروف رہتے ہیں، بلکہ وہ بچے زیادہ کامیاب اور خوش رہتے ہیں جن کی زندگی میں سیکھنے، کھیلنے اور آرام کرنے کا خوبصورت توازن موجود ہو۔
ایک صحت مند معمول، ایک خوش باش بچہ اور ایک روشن مستقبل — یہی کامیابی کا اصل راستہ ہے۔
(منصور اختر غوری)
#تعلیم
22/06/2026
اے آئی اور ایجنٹک اے آئی میں کیا فرق ہے؟ مستقبل کس طرف جا رہا ہے؟
کچھ سال پہلے تک مصنوعی ذہانت (AI) کا مطلب صرف یہ تھا کہ آپ سوال پوچھیں اور کمپیوٹر آپ کو جواب دے دے۔ اگر آپ پوچھتے، "مجھے ایک ویب سائٹ کیسے بنانی ہے؟" تو اے آئی آپ کو مرحلہ وار طریقہ، مشورے اور ضروری معلومات فراہم کر دیتا۔ یعنی وہ سوچنے اور معلومات دینے میں آپ کی مدد کرتا تھا، لیکن اصل کام پھر بھی آپ کو خود کرنا پڑتا تھا۔
لیکن اب ٹیکنالوجی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جسے ایجنٹک اے آئی (Agentic AI) کہا جاتا ہے۔ یہ صرف معلومات دینے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ آپ کے مقصد کو سمجھ کر اس کے حصول کے لیے مختلف اقدامات بھی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر آپ کہیں، "میرے لیے ایک ویب سائٹ بنا دو"، تو ایجنٹک اے آئی صرف یہ نہیں بتائے گا کہ ویب سائٹ کیسے بنتی ہے، بلکہ وہ منصوبہ تیار کر سکتا ہے، مناسب ٹولز استعمال کر سکتا ہے، مواد تیار کر سکتا ہے، کوڈ لکھ سکتا ہے اور مکمل ویب سائٹ بنانے کی سمت میں خود کام کر سکتا ہے۔
سادہ الفاظ میں، روایتی اے آئی ایک ذہین مشیر (Advisor) کی طرح ہے، جو آپ کو بتاتا ہے کہ کیا کرنا چاہیے۔ جبکہ ایجنٹک اے آئی ایک ایسے معاون (Assistant) کی طرح ہے جو نہ صرف مشورہ دیتا ہے بلکہ آپ کے ساتھ مل کر کام بھی انجام دینے کی کوشش کرتا ہے۔
تصور کریں کہ آپ کے پاس دو ملازمین ہیں۔ ایک ملازم ہر سوال کا جواب دیتا ہے اور آپ کو راستہ دکھاتا ہے، جبکہ دوسرا ملازم نہ صرف آپ کی بات سمجھتا ہے بلکہ خود منصوبہ بناتا ہے، مختلف لوگوں سے رابطہ کرتا ہے، ضروری اوزار استعمال کرتا ہے اور آپ کا کام مکمل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی فرق اے آئی اور ایجنٹک اے آئی کے درمیان ہے۔
آنے والے سالوں میں ایجنٹک اے آئی تعلیم، کاروبار، صحت، تحقیق اور روزمرہ زندگی کے بے شمار شعبوں میں انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ شاید مستقبل میں ہمارے پاس ایسے ڈیجیٹل معاون ہوں جو صرف ہماری باتیں نہ سنیں بلکہ ہمارے لیے کام بھی کریں۔
مختصراً:
🧠 عام AI = سوچ کر جواب دینے والا
⚙️ Agentic AI = سوچنے کے ساتھ کام کرنے والا
اور یہی وجہ ہے کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلا بڑا انقلاب صرف "اے آئی" نہیں بلکہ "ایجنٹک اے آئی" ہوگا۔
21/06/2026
پاکستان کے مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر نظر ڈالی جائے تو ایک دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ملک میں تعلیم کو ترجیحات میں شامل تو رکھا گیا ہے، مگر مختلف حکومتوں کی ترجیحات اور مالی گنجائش میں واضح فرق دکھائی دیتا ہے۔ مجموعی طور پر پاکستان اب بھی تعلیم پر اپنی قومی آمدنی (GDP) کا تقریباً ڈیڑھ فیصد خرچ کر رہا ہے، جبکہ یونیسکو کے مطابق یہ شرح کم از کم 4 سے 6 فیصد ہونی چاہیے۔
وفاقی حکومت نے گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تعلیم کے لیے مختص رقوم میں نمایاں اضافہ نہیں کیا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 112 ارب روپے جبکہ وزارتِ وفاقی تعلیم کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 36.3 ارب روپے رکھے گئے ہیں، یوں مجموعی وفاقی تعلیمی اخراجات تقریباً 148 ارب روپے بنتے ہیں جو گزشتہ سال کے تقریباً 151 ارب روپے کے مقابلے میں معمولی کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اگر اسے 18.8 کھرب روپے کے مجموعی وفاقی بجٹ سے نسبت دی جائے تو تعلیم کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم بنتا ہے، جو اس شعبے کی کمزور ترجیح کی نشاندہی کرتا ہے۔
پنجاب نے اس بار تعلیم کے شعبے میں سب سے زیادہ توجہ دی ہے۔ گزشتہ مالی سال میں تقریباً 661 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، جبکہ نئے بجٹ میں یہ رقم بڑھ کر 750 ارب روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس طرح تقریباً 13 سے 14 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پنجاب کے تقریباً 5.9 کھرب روپے کے مجموعی بجٹ میں تعلیم کا حصہ 15 فیصد کے قریب بنتا ہے، جو ملک بھر میں سب سے نمایاں ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس اضافے کا مقصد سکولوں کی بہتری، ڈیجیٹل تعلیم، اساتذہ کی تربیت اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔
اس کے برعکس سندھ میں صورتحال کچھ مختلف ہے۔ گزشتہ سال تعلیم کے لیے 523.7 ارب روپے مختص کیے گئے تھے لیکن نئے مالی سال میں یہ رقم کم ہو کر تقریباً 497.8 ارب روپے رہ گئی ہے، یعنی تقریباً 5 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اگرچہ مجموعی رقم میں کمی آئی ہے، تاہم سکولوں کے لیے مخصوص فنڈز اور مفت نصابی کتابوں کے پروگرام کو برقرار رکھا گیا ہے۔ سندھ کے مجموعی بجٹ میں تعلیم کا حصہ تقریباً 17 سے 18 فیصد کے درمیان ہے، جو تناسب کے اعتبار سے ایک مناسب شرح ہے، لیکن حقیقی رقوم میں کمی باعثِ تشویش سمجھی جا رہی ہے۔
خیبر پختونخوا میں گزشتہ سال تقریباً 364 ارب روپے تعلیم کے لیے مختص تھے اور رواں سال بھی تقریباً یہی سطح برقرار رکھی گئی ہے۔ 363.4 ارب روپے کی موجودہ مختص رقم ظاہر کرتی ہے کہ صوبے نے تعلیم کے شعبے میں نہ کوئی بڑا اضافہ کیا ہے اور نہ ہی کوئی نمایاں کمی کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت موجودہ پروگراموں کو جاری رکھنے پر توجہ دے رہی ہے، تاہم نئی سرمایہ کاری محدود دکھائی دیتی ہے۔
بلوچستان کے تفصیلی اعدادوشمار ابھی مکمل طور پر سامنے نہیں آئے، تاہم بجٹ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترقیاتی اخراجات میں بلوچستان کو نسبتاً بہتر حصہ ملا ہے اور تعلیم کے شعبے میں بھی اضافی وسائل فراہم کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
تعلیم کے بجٹ کا تقابلی جائزہ
2025-26 اور 2026-27 میں ارب روپے
وفاق
2025-26
151
2026-27
148
پنجاب
2025-26
661
2026-27
750
سندھ
2025-26
524
2026-27
498
خیبر پختونخوا
2025-26
364
2026-27
363
اگر مجموعی تصویر دیکھی جائے تو پنجاب واحد صوبہ ہے جس نے تعلیم پر خرچ میں نمایاں اضافہ کیا ہے، خیبر پختونخوا نے موجودہ سطح برقرار رکھی ہے، سندھ میں کمی آئی ہے جبکہ وفاقی حکومت کی ترجیحات میں دفاع، قرضوں کی ادائیگی اور مالیاتی نظم و ضبط کو تعلیم پر فوقیت حاصل رہی ہے۔ نتیجتاً پاکستان اب بھی تعلیم پر عالمی معیار سے بہت کم خرچ کر رہا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ شرح خواندگی، سکول سے باہر بچوں کی تعداد اور تعلیمی معیار جیسے مسائل بدستور قومی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
(محمد حارث)
#تعلیم #2026-27
Rana Sikandar Hayat
21/06/2026
آج کا سوال
دس الفاظ یا رویے جو بچے کی شخصیت کو تباہ کر دیتے ہیں: توقیر بُھملہ
1 • بے عزتی
مثلاً: تم نہیں سمجھ سکتے / سکتی ، تم بیوقوف ہو، جاہل ہو، موٹے دماغ کے ہو / کی ہو وغیرہ وغیرہ.
2 • موازنہ
تمھارا بھائی یا تمھاری بہن تم سے بہتر ہے، فلاں لڑکا یا لڑکی تم سے پڑھائی میں اچھے ہیں ، فلاں اپنے کپڑوں یا چیزوں کو خراب نہیں کرتے، تم انتہائی لاپرواہ ہو وغیرہ وغیرہ.
3 • مشروط محبت
اگر فلاں کام کرو گے تو میں تم سے پیار کروں گا / کروں گی، لیکن اگر تم نے فلاں کام کیا تو میں تم سے پیار نہیں کروں گا / کروں گی، میں فلاں تحفہ واپس لے لوں گا / گی، کیونکہ یہ کام مجھے ذرا بھی پسند نہیں ہے، اور تم میری بات بھی نہیں مانتے / مانتی نہیں ہو.
4 • غلط تربیت
لڑکوں کو یہ باور کرانا کہ مرد نہیں روتے، مرد نہیں جھکتے، لڑکیوں کو کہنا کہ تم لڑکوں سے عقل میں کم ہو.
5 • مایوس اور دل برداشتہ
تم انتہا درجے کے سست، بیکار اور غبی ہو...
6• دھمکی
میں تمہارا خون پی جاؤں گی / گا، میں تمہیں مار ڈالوں گی / گا... میں تمھاری ہڈیاں توڑ دوں گا / گی، میں تمہیں منہ پر تھپڑ ماروں گا / گی.
7 • سفید انکار
نہ کا مطلب ہے نہ، تمہیں اس بات سے کوئی مطلب نہیں، کوئی لینا دینا نہیں، دفع ہو جاؤ.
8• بددعا کے کلمات
تم باز نہیں آتے، اللہ کرے تمھاری ٹانگ ٹوٹ جائے، تمھارے ہاتھ ٹوٹ جائیں، وغیرہ..
9 • سکینڈل
میں یہ بات تمھارے تمام دوستوں کو بتاؤں گا کہ آپ نے ان کے ساتھ کیا کیا... میں ان کے سامنے تمھاری بے عزتی کروں گا / گی، میں تمھیں ذلیل کروا کر رہوں گا / گی.
10 • الزام
اس لڑکے نے یا اس لڑکی نے مجھے پاگل کر دیا ہے، یہ مجھے پاگل کرکے مارنا چاہتا ہے / چاہتی ہے.
نتیجہ: ایک لفظ تعمیر ہے، اور دوسرا تباہ!
آپ اپنے الفاظ اور رویے کے انتخاب میں آزاد ہیں!
#تعلیم
جب غصہ آئے تو کیا کریں۔۔۔۔۔؟
غصہ نا پئیں بلکہ
غصہ کو راستہ دیں کہ وہ نکل جائے۔
غصہ دبانا نہیں چاہیے نکال دیناچاہیے۔
دوسری بات غصے کو خود پہ حاوی نا کریں کچھ لوگوں کے غصے دنوں، مہینوں چلتے ہیں یہ کینے کی نشانی ہے۔ دس منٹ بعد نارمل ہو جائیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیسے۔۔۔۔۔؟
سب سے پہلے تو سمجھ لیں گرہ باندھ لیں کہ غصے میں کوئی بھی ردعمل نہیں دینا۔ ردعمل پورے ہوش وحواس میں دینا ہے چاہے کسی کے منہ پہ جوابی تھپڑ ہی مارنا ہو۔
اگر کوئی غصہ دلا رہا ہے یا اشتعال دلا رہا ہے تو پلان کر لیں اشتعال میں نہیں آنا۔ یہ لوگوں کے حربے ہوتے ہیں اشتعال دلا کے غلطیاں کرواتے ہیں اور جکڑ لیتے ہیں۔
سپاٹ ہو جائیں۔
پھر یہ سوچیں کہ غصہ کیوں آیا کیا غصہ آنے والی بات تھی یا ہمیں زیادہ محسوس ہوئی اور محسوس ہوئی تو کیوں۔۔۔۔؟
جہاں اپنی خامی ہے غلطی ہے دیانتداری سے مانیں کہ مجھ سے غلطی ہوئی فورا رجوع کریں کوئی غلط عادت ہو جیسے کام میں لاپروائی یا وقت کی پابندی نا کرنا یا سستی یا کوئی بھی ایسی تو اس کے لیے دوسرے کو کھلے دل سے کہیں کہ آپ سے غلطی ہوئی یا آپ میں یہ خامی ہے وہ آپ کو کچھ وقت دے اور آپ کا ساتھ دے آپ اپنی خامی پہ قابو پا لیں گے اور اخلاص سے کوشش کریں وہ انسان ہی کیا جو اپنی ہی خامیوں پہ تو قابو پا نا سکے اور سوچے کہ پوری دنیا قابو میں رہے۔
اگر کوئی ناجائز بات کرئے، زیادتی کرئے، بہتان باندھے، جھوٹ بولے، تب بھی ردعمل سوچ سمجھ کے دیں غصے میں نہیں۔ لیکن ردعمل ضرور دیں۔ لوگوں کی زیادتیوں کو اتنا اگنور بھی نا کریں کہ وہ سمجھنے لگیں وہ حق بجانب ہیں۔
لوگ ہماری شرافت کو کمزوری اور ردعمل نا دینے پہ شہہ پاتے ہیں لوگوں کو پہلے قدم پہ روک دیں اور بتائیں کہ یہ حد ہے اسے نا تم کراس کرو نا ہم۔
لیکن ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی دیکھانا بھی ٹھیک نہیں کوئی سمجھانے والی بات کرئے تو سمجھ جانا چاہیے ضد نہیں باندھنی چاہیے۔
آپ سوال یہ ہے کہ غصہ کنٹرول کیسے کریں
اس میں سنت کے طریقے پہ عمل کریں
پانی پئیں
کھڑے ہیں تو بیٹھ جائیں بیٹھے ہیں تو لیٹ جائیں۔
جگہ بدل لیں منظر بدل لیں۔
دھیان ہٹا لیں۔
فون بند کر دیں۔
کمرے سے باہر چلے جائیں۔
شاور لے لیں۔
کوئی ایسا کام کریں جس سے غصہ نکل جائے۔
( گاڑی یا بائیک تیز چلانا ، دروازے زور سے بند کرنا، برتن توڑنا شامل نہیں ہے)
جب خواتین برتن خود 'مانجھا' کرتی تھیں۔
سل بٹے یا کونڈی میں مصالحے 'رگڑا' کرتی تھیں۔
جب کپڑوں کو دھوتے ہوئے ڈنڈے سے 'کوٹا' جاتا تھا۔
تب غصے کے اتنے مسائل نہیں تھے۔ اب واک کی جا سکتی ھے۔ جاگنگ کریں۔
اسی طرح مرد حضرات گاڑی یا بائیک کو دھو اور چمکا سکتے ہیں۔ گھر کے وہ تمام پینڈنگ کام جن میں کیل یا کوئی چیز ہتھوڑی سے ٹھونکنا ہو وہ کر سکتے ہیں۔
اس صورت میں پودوں کو پانی دینا ان کی کانٹ چھانٹ کرنا بھی مفید ہو سکتا ہے
اس کے علاوہ سب سے مفید ہے کہ لکھیں ڈائری لکھیں یا پوسٹ لکھیں اپنے احساسات کو الفاظ دیں کاغذ پہ اتاریں قلم کی طاقت کو سمجھیں یہ بہت بڑا کتھارسس کا زریعہ ہے۔
یہ میجک ہے غصہ نکل جاتا ھے
جبکہ دبایا ہوا غصہ خود کو نقصان پہنچاتا ھے۔
جب غصے کی حالت سے باہر آجائیں تو ردعمل ضرور دیں مسائل کو اگنور نا کریں ان کو بنا تصفیے کے پڑا رہنے نا دیں زخموں کو چھوڑ دیا جائے تو ناسور بن جاتے ہیں اسی طرح مسائل کو بھی ساتھ ساتھ حل نا کیا جائے تو وہ مصیبت اور عفریت بن جاتے ہیں۔
بعض مرتبہ ہم غصے سے بل کھا رہے ہوتے ہیں دوسرے کو اس کی غلطی پتہ ہی نہیں ہوتی یہ اپنے ساتھ ساتھ دوسرے سے بھی زیادتی ہے لوگوں سے کلئیر کٹ بات کریں اور انہیں صاف صاف بتائیں کہ ان کی کس بات سے آپ ہرٹ ہوئے ہیں۔
آخری بات یہ ہے کہ زیادہ اور بات بے بات غصہ آنا نفسیاتی بیماری بھی ہو سکتا ہے مستند ڈاکٹر سے علاج کروا لیں اس میں کوئی شرم نہیں۔
جـͣوͥیͬــͥــͣرᷱیـᷧــᷯـــہ ســاجͩــͥـᷯــⷶــ᩺ــد
#تعلیم
21/06/2026
سال کا سب سے لمبا دن اور سب سے مختصر رات ۔ ویسے تو گرمی کے موسم میں دن لمبے اور راتیں چھوٹی ہوجاتی ہیں، لیکن آج یعنی 21 جون کا دن شمالی نصف کرے میں سال 2023 کا سب سے طویل ترین دن ہے۔
22جون 2023 کو سال کا طویل ترین دن جبکہ مختصر ترین رات ہو گی ۔ 22 جون کے بعد دن کے دورانیہ میں بتدریج کمی آنا شروع ہوجائے گی۔
یکم جولائی کے بعد دن کا دورانیہ بتدریج کم ہونا شروع ہو جائے گا اور 22 ستمبر کو دن اور رات کا دورانیہ تقریباً برابر ہو جاتا ہے جبکہ اس کے بعد راتوں کے دورانیہ میں اضافہ اور دن کا دورانیہ مختصر ہونا شروع ہو جاتا ہے
#تعلیم
AI Enabled Educators (Batch-16)
تین روزہ آن لائن اے آئی ٹریننگ برائے ٹیچرز
فیس صرف 1000روپے، رجسٹریشن لنک کمنٹس میں ھے