26/06/2026
آج یوم عاشورہ پر استاذ الاساتذہ پروفیسر رانا محمد اسلام صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، آپ کی قیمتی علمی آراء سے مستفید ہونے اور بالخصوص امام حسین رضی اللہ عنہ کے اسوہ، اور امام عالی مقام کی تعلیمات کو عصری تناظر میں استاد گرامی نے اپنے خاص انداز میں بندہ ناچیز کو سمجھانے کی کوشش کی
08/06/2026
سورۂ اخلاص صرف چار آیات پر مشتمل ایک مختصر سورت ہے، لیکن یہ انسان کے سب سے بڑے سوال کا جواب دیتی ہے،
"اس پوری کائنات کے پیچھے حقیقت کیا ہے؟"
دنیا میں انسان نے طاقت، دولت، قوم، نسل، نظریات، شخصیات اور بے شمار چیزوں کو مرکزِ عقیدت بنایا۔ لیکن سورۂ اخلاص انسان کو یاد دلاتی ہے کہ حقیقتِ مطلق صرف ایک ہے۔
قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ
وہ ایک ہے،
ایسا ایک نہیں جو تعداد میں ایک ہو، بلکہ ایسا ایک جس کا کوئی شریک، کوئی ہمسر، کوئی مقابل اور کوئی متبادل نہیں۔
اللّٰهُ الصَّمَدُ
وہ سب کا سہارا ہے، مگر خود کسی کا محتاج نہیں۔
ہم سب کسی نہ کسی چیز کے محتاج ہیں، محبت کے، دولت کے، طاقت کے، سہارے کے،
مگر ایک ذات ایسی ہے جو سب کو سنبھالتی ہے اور خود کسی کے سہارے کی محتاج نہیں۔
لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ
وہ نہ کسی کا باپ ہے، نہ کسی کا بیٹا۔
وہ انسانی رشتوں، نسبوں اور مادی حدود سے ماورا ہے۔
وَلَمْ يَكُنْ لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ
اور اس جیسا کوئی نہیں۔
شاید یہی پیغام انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزاد کرتا ہے۔
جب انسان سمجھ لیتا ہے کہ اصل طاقت، اصل اختیار، اصل عزت اور اصل سہارا صرف ایک ذات کے پاس ہے، تو پھر وہ انسانوں، گروہوں، شخصیات اور دنیاوی طاقتوں کے سامنے جھکنا چھوڑ دیتا ہے۔
سورۂ اخلاص صرف خدا کا تعارف نہیں کراتی،
یہ انسان کو بھی اس کی اصل آزادی کا راستہ دکھاتی ہے۔
ایک خدا،
ایک مرکز،
ایک حقیقت،
اور اسی میں انسان کے منتشر وجود کا سکون پوشیدہ ہے۔
#عبدالغفارخان
05/06/2026
سورۂ الکافرون صرف اختلافِ عقیدہ کا اعلان نہیں،
یہ حق اور باطل کے درمیان حدِ فاصل کھینچنے کا نام ہے۔
کچھ راستے ایسے ہوتے ہیں جہاں مکالمہ ہو سکتا ہے،
اور کچھ راستے ایسے ہوتے ہیں جہاں سمجھوتہ ممکن نہیں ہوتا۔
ارتقاء اور جمود،
عدل اور استحصال،
آزادی اور غلامی،
روشنی اور تاریکی،
یہ ایک ہی چھت کے نیچے نہیں رہ سکتے۔
سورۂ الکافرون ہمیں سکھاتی ہے کہ جو نظام انسان کی صلاحیتوں کو دباتا، شعور کو قید کرتا اور حق کو چھپاتا ہے، اس کے ساتھ مصالحت نہیں بلکہ واضح لاتعلقی درکار ہوتی ہے۔
کیونکہ ہر نئی صبح کا آغاز،
گزشتہ رات کی تاریکی سے وفاداری نبھا کر نہیں ہوتا۔
"تمہارے لیے تمہارا راستہ،
اور میرے لیے میرا راستہ۔"
یہ نفرت کا اعلان نہیں،
اصول پر استقامت کا اعلان ہے۔
05/06/2026
سورۂ المطففین صرف ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے خلاف نہیں، بلکہ ہر اُس ظلم کے خلاف اعلان ہے جس میں طاقتور کمزور کا حق کھا جاتا ہے۔
یہ سورت بتاتی ہے کہ معاشرے اُس وقت بگڑتے ہیں جب انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ دولت ہی طاقت ہے، بازار ہی قانون ہے، اور حساب کتاب کا کوئی دن نہیں آئے گا۔
پھر انسان صرف ترازو میں ہی ڈنڈی نہیں مارتا، بلکہ انصاف، دیانت، امانت اور انسانیت کے ساتھ بھی ڈنڈی مارنے لگتا ہے۔
قرآن ایک ہی سوال اٹھاتا ہے،
کیا تم بھول گئے ہو کہ ایک دن تمہیں رب العالمین کے سامنے کھڑا ہونا ہے؟
یہی وہ احساس ہے جو تجارت کو عبادت بناتا ہے، اقتدار کو امانت بناتا ہے اور دولت کو خدمت کا ذریعہ بناتا ہے۔
سورۂ المطففین کا پیغام یہ ہے کہ ظلم خواہ بازار میں ہو، عدالت میں ہو، سیاست میں ہو یا معاشرت میں، وہ ہمیشہ اُس سوچ سے جنم لیتا ہے جو خود کو جوابدہی سے آزاد سمجھتی ہے۔
اور ایمان صرف نماز، روزے اور عبادات کا نام نہیں،
ایمان یہ بھی ہے کہ انسان کسی کا حق نہ کھائے، کسی کے حصے پر قبضہ نہ کرے، کسی کی مجبوری کو اپنی کمائی کا ذریعہ نہ بنائے اور ہر معاملے میں یہ یاد رکھے کہ ایک دن اسے اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔
دنیا میں طاقت کے ترازو بدلتے رہتے ہیں، مگر حق کا ترازو کبھی نہیں بدلتا۔
04/06/2026
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ 18 ذی الحجہ یوم شہادت
نام و نسب:
عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان بن ابی العاص بن امیہّ بن عبد شمس اموی قریشی۔ (ابن عساکر بحوالہ حضرت عثمان ذی النورین صفحہ ۲۵)
جب حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنھم حملے میں شدیدزخمی ہوگئے اور ان کے انتقال کا وقت قریب آنے لگا تولوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت سے پہلے آپ سے درخواست کی کہ اپنے بعد کسی کو خلیفہ مقرر کر دیں۔ پہلے تو آپ تیار نہ ہوئے مگر لوگوں کے زور دینے پر آپ نے چھ آدمیوں کی ایک کمیٹی بنادی، جس کے ارکان میں حضرت عبدالرحمن بن عو ف رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ (نبی کریم ﷺ نے ان تمام حضرات کے جنتی ہونے کی بشارت دی ہے) شامل تھے، اور فرمایا کہ ان میں کسی ایک شخص کو منتخب کرکے امیر بنا لو۔اس کے بعد حضرت مقداد رضی اللہ عنہ بن اسود کو حکم دیا کہ جب مجھے دفن کرکے فارغ ہو جائیں تو ان چھ آدمیوں کو ایک مکان میں جمع کرنا تاکہ یہ اپنے آپ میں سے کسی کو امیر منتخب کرلیں۔اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہما) کے بارے میں بطور خاص وصیت فرمائی کہ دوسروں کی طرح انھیں بھی رائے دینے کے لیے بلا لینا لیکن امارت سے ان کو کوئی سروکار نہ ہوگا، فیصلہ کثرت رائے سے ہوگا۔ چنانچہ ان حضرات نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو یہ اختیار دیا کہ وہ جسے چاہیں خلیفہ مقرر کردیں، انھوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اس طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کی ابتدا یکم محرم 24ھ مطابق 7 نومبر 644ء سے ہوئی۔ آپ کو عوام نے کھلے طور پر بھی منتخب کیا، اور نامزد کمیٹی کے فیصلہ کی تائید کی۔ بیعت خلافت سے کسی شخص نے بھی انکار نہیں کیا بلکہ بیعت کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ہم نے اپنے میں سے افضل ترین شخص کی بیعت کی اور ہم نے (افضل کے انتخاب میں) کوتاہی نہیں کی‘‘۔
دور عثمانی ؓ کے نمایاں کارنامے
(۱) اسلام میں اول وقف عام مسلمانوں کے لیے بیر رومہ خرید کرکیا۔ (۲) بیت المال سے مؤذنین کے لیے وظائف کا تقرر فرمایا۔ (۳) پولیس کا محکمہ قائم فرمایا۔ (۴) تمام مسلمانوں کو ایک قرأت پر متفق کیا، اسی وجہ سے آپرضی اللہ عنہ ’’جامع القران‘‘ بھی کہلاتے ہیں۔ (۵) جگہ جگہ ضرورت کے تحت سڑکیں اور پل تعمیر کرائے۔ (۶) مفتوحہ علاقوں اور ملکوں میں مساجد اور دینی مدارس قائم کیے۔ (۷) ملک شام میں سمندری جہازوں کے بنانے کا کارخانہ قائم کیا۔ جہاں لبنان کے جنگلات سے لکڑی لائی جاتی تھی۔ (۸) مدینہ کو سیلاب سے بچانے کے لیے ایک بند تعمیر کرایا۔ (۹) جگہ جگہ پانی کی نہریں نکلوائیں۔ مدینہ اور دوسرے شہروں میں نئے کنویں کھدوائے۔ غرض تعمیرات عامہ کے پیش نظر دوسرے شہروں میں بھی سرکاری عمارتیں، سڑکیں وغیرہ تعمیر کرائیں۔ آپرضی اللہ عنہ نے رفاہ عامہ کے بہت کام کرائے۔ (۱۰) عرب میں اسلام سے پہلے سونے اور چاندی کے ایرانی اور رومی سکے رائج تھے۔ آنحضرت ﷺ اور خلیفۂ اول حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے وقت میں یہی سکے چلتے تھے۔ جب ایران فتح ہوگیا تو 18ھ میں حضرت عمررضی اللہ عنہ کے حکم سے ایرانی سکوں کے نمونوں پر مختلف وزن کے درہم ڈھالے گئے اور نقش میں تبدیلی کردی گئی کسی پر لاالہ الا اللّٰہ اور کسی پر محمدرسول اللہ اور کسی پر صرف عمر تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں جو درہم و دینار ڈھالے گئے ان کا نقش ’’اللہ اکبر‘‘ تھا۔
خلیفۂ راشد کے خلاف زیرزمین سازش
کوفہ کی ایک جماعت جس میں اشتر نخعی، ابن ذی الحبکہ، جندب، صعصعہ بن الکوار، کمیل اور عمیر بن ضابی وغیرہ خاص طور پر شامل تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ملک کی امارت اور سیاست پر صرف قریش کا حق نہیں۔ دوسرے مسلمانوں نے بھی ملک فتح کیے ہیں، اس لیے وہ بھی اس کے مستحق ہیں۔ اسی طرح بصرہ میں بھی ایک سازشی جماعت تھی۔ مفسدین کا سب سے بڑا مرکز مصر تھا جہاں ایک یہودی النسل عبد اللہ بن سبا نے الگ فرقہ بنایا ہوا تھا۔ یہ سب گروہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو معزول کرنے اور بنوامیہ کے خاتمے پر متفق تھے۔ عبداللہ بن سبا نے ان سب جماعتوں کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مخالفت پر متحد کردیا۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ اقدام کیا کہ انھوں نے تمام گورنروں کو مدینہ منورہ میں طلب کیا اور مجلس شوریٰ بلائی گئی جس میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مختصر تقریر کے بعد سب کی رائے طلب کی۔ ملک کے مختلف حصوں میں حالات کی تحقیق کے لیے وفود روانہ کیے۔ تمام ملک میں ہنگامی اعلان جاری کیا کہ جس کسی کو گورنر سے شکایت ہو وہ حج کے موقع پر خلیفہ سے بیان کرے۔ حج سے چند دن پہلے بصرہ، کوفہ اور مصر کے فتنہ پر دازوں نے آپس میں طے کرکے اپنے اپنے شہر سے حاجیوں کے روپ میں مدینہ منورہ کا رخ کیا۔ شہر سے باہر قیام کرکے اپنے چند سرکردہ افراد کو باری باری حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ، حضرت زیبر رضی اللہ عنہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا۔ (تاریخ طبری۔ البدایہ والنہایہ) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مفسدین کے اجتماع کی خبر سنی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کو راضی کرکے واپس بھیج دیں۔ میں ان کے جائز مطالبات تسلیم کرلوں گا۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سمجھانے پر وہ واپس چلے گئے، لیکن پھر بعد میں مسلّح ہوکر مدینہ میں داخل ہوگئے، ان کی تعداد 500 کے قریب تھی۔ اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہ حج پر گئے ہوئے تھے۔ جو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم موجود تھے انہیں بھی خلیفۂ وقت کی طرف سے مقابلے کی اجازت نہیں تھی، بلکہ سخت ممانعت تھی۔ باغی انتقام انتقام کے نعرے لگا رہے تھے۔ انھوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے خلافت سے دست برداری کا بھی مطالبہ کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے مفسدین سے فرمایا: ’’جب تک مجھ میں جان باقی ہے، میں اس خلعت (خلافت) کو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پہنائی ہے، خود اپنے ہاتھوں سے نہیں اتاروں گا اور حضور ﷺ کی وصیت کے مطابق میں اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک صبر کروں گا‘‘۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خلافت سے کنارہ کشی کا مطالبہ مسترد کردیا تاکہ دستور اسلامی کی حفاظت ہوسکے، تو مفسدین نے ان کے گھر کا محاصرہ کرلیا جو چالیس روز سے زائد تک جاری رہا، اس عرصہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کا کھانا پینا بند کر دیا گیا اور ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا، حضرت علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کو بھی یہ چیزیں نہ لے جانے دیں۔ باغیوں نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسے اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی بھی ایک نہ سنی اور جب خلیفہ راشد کے ان ساتھیوں نے جو اس وقت قصر خلافت میں ایک بڑی تعداد میں موجود تھے، مفسدین سے جنگ کرنے کی اجازت طلب کی تو فرمایا: ’’میں باہر نکل کر ان سے جنگ کروں تو میں وہ پہلا خلیفہ نہیں بننا چاہتا جو امت محمدی کی خونریزی کرے‘‘۔ پھر فرمایا ’’اگر ایک شخص کا بھی ارادہ ہو تو میں اس کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کہ وہ میرے لیے اپنا خون نہ بہائے‘‘۔ گورنر شام حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شام چلے آنے کی درخواست بھی مسترد کردی کہ میں دیارِ رسول کو نہیں چھوڑنا چاہتا۔ جمعرات کو آپ رضی اللہ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ آنحضرت ﷺ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ و حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف فرما ہیں اور ان سے فرما رہے ہیں: عثمان! جلدی کرو ہم تمھارے منتظر ہیں۔ (البدایہ والنہایہ)
خلیفۂ راشد کی شہادت کا جاں سوزواقعہ:
باغیوں کو خطرہ تھا کہ حج کے ایام ختم ہونے والے ہیں، حجاج کی واپسی کے بعد ان کے لیے اپنے مقصد کی تکمیل ممکن نہ رہے گی، چنانچہ بالآخر انھوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے گھر پر حملہ کر دیا۔ حضرت زیاد، حضرت مغیرہ اور حضرت نیار اسلمی رضی اللہ عنھم شہید ہوگئے، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ مروان اور حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ جو دروازے پر متعین تھے، مدافعت میں شدید زخمی ہوئے۔ چار باغی دیوار سے اندر کود گئے۔ اور آپ رضی اللہ عنہ پر پے درپے وار شروع کر دیے۔ آپ کی بیوی نائلہ رضى الله عنها نے آگے ہاتھ کیا جس سے ان کی بھی تین انگلیاں کٹ گئیں، بالآخر بروز جمعہ بوقتِ عصر روزے کی حالت میں تلاوت قرآن کے دوران ۱۸ ذی الحجہ ۳۵ھ کو انتہائی مظلومانہ طریقے سے خلیفہ ثالث، جامع القرآن، کامل الحیاء والعرفان حضرت سیدنا عثمان غنی ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ہوگئی۔ شہادت کے وقت قرآن مجید کھلا ہوا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ سورۃ بقرہ کی تلاوت فرما رہے تھے، آپ رضی اللہ عنہ کے جسم اطہر سے فواروں کی طرح نکلنے والے خون کے پہلے قطرے کو قرآن مجید نے اپنے اندر جذب کیا اور اس آیت پر آپ کا لہو مبارک گرا: ’’فسیکفیکهم اللہ‘‘ (اور اللہ تعالیٰ تم لوگوں کے لیے کافی ہوجائے گا) شہادت سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ کی زبان سے یہ آخری کلمہ نکلا:’’بسم اللّٰہ توکلت علی اللّٰہ‘‘(اللہ کے نام کی برکت سے، میں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسا کیا)۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر سن کر بڑے افسوس سے فرمایا:’’ اے لوگو! اب تم پر ہمیشہ تباہی رہے گی‘‘۔ ان کی یہ بات محض ان کے ظن و تخمین کی پیداوار نہ تھی بلکہ مخبرصادق صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اس بات کی نشان دہی فرمائی تھی کہ ۳۵ھ میں اسلام کی چکی گھومے گی اور یہ بھی فرمایا تھا کہ جب ایک بار مسلمانوں کے درمیان تلوار چل پڑے گی تو وہ پھر کبھی نیام میں نہ جاسکے گی۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ یا حضرت جبیر رضی اللہ عنہ بن مطعم نے نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع کے باغ میں دفن کردیے گئے۔ (رضی اللہ عنہ وارضاہ)
29/05/2026
ایٹم بم کی مکمل کہانی
اکتوبر 1954 میں وزیر اعظم محمد علی بوگرہ نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر آئزن ہاور سے ملاقات کی۔ پاکستان نے امریکہ کے ایٹم برائے امن کے منصوبہ میں شمولیت کے ساتھ جوہری توانائی کے شعبہ میں تحقیق اور ترقی کے لیے جوہری توانائی کمیشن کے قیام کا اعلان کیا۔
1963 میں بھٹو نے کابینہ میں پاکستان کے جوہری ہروگرام کی تجویز پیش کی، صدر ایوب و انکے وزیروں نے تجویز مسترد کر دی۔
1967 میں صدر ایوب فرانس کے دورے پر گئے تو فرانسسی صدر چارلس ڈیگال نے پاکستان میں جوہری ری پراسسنگ پلانٹ کی تعمیر کی پیشکش کی لیکن ایوب خان نے یہ پیشکش ٹھکرا دی۔
صدر بننے کے بعد بھٹو نے ایران ترکی مراکش الجزائر تیونس لیبیا مصر و شام کا طوفانی دورہ کیا، جسکا مقصد مسلم ممالک سے تجدید تعلق اور جوہری پروگرام کے لیے مسلم امہ کی مالی مدد حاصل کرنا تھا۔
1973 میں بھٹو نے ایٹمی پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا۔ جوہری توانائی کمیشن کے سربراہ کو تبدیل اور سائنسی مشیر ڈاکٹر عبدالسلام کو برطرف کر کے ہالینڈ سے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو بلایا۔ فرانس حکومت سے ایٹمی پلانٹ خریدا۔
بھٹو کی تیزی کو امریکہ نے پسند نہ کیا۔ انکے وزیر خارجہ کیسنجر نے کھلم کھلا دھمکی دی کہ اگر بھٹو نے ایٹمی پروگرام کے منصوبہ پر اصرار کیا تو وہ نہی رہیں گے۔
1974 کہوٹہ لیبارٹری میں یورینیم افزودگی کا کام شروع ہوا۔ محنت 1978 میں رنگ لائی، 1982 تک 90 فیصد افزودگی کے قابل ہو گئے۔ 1984 میں جوہری بم تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی۔ ڈاکٹر خان نے جنرل ضیاء سے کہا کہ جوہری بم کی تیاری کے عزم کا اعلان کریں لیکن انکے وزیروں نے سخت مخالفت کی۔
10مئی کو بھارت نے ایٹمی دھماکے کر دئے۔ اگلے دن وزیراعظم نواز شریف وطن واپس پہنچے، آتے ہی اعلیٰ سطحی اجلاس بلایا۔ جس میں وزیر خارجہ گوہر ایوب، وزیر خزانہ سرتاج عزیز، وزیر داخلہ شجاعت حسین، تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے شرکت کی۔
وزیراعظم نواز شریف سے شدید اختلافات کے باوجود جب وزیر خارجہ گوہر ایوب نے محترمہ بینظیر بھٹو سے بھارت کے معاملے میں حمایت مانگی تو بے نظیر بھٹو نے حکومت کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا۔
امریکی صدر بل کلنٹن نے بھارتی تجربات کے فوراً بعد وزیراعظم نواز شریف سے رابطہ کیا۔
18 دنوں میں صدر کلنٹن نے 5بار نواز شریف کو ٹیلی فون کیا۔ جاپانی وزیراعظم کا نمائندہ خط لے کر آیا۔ سب کی ایک ہی درخواست تھی کہ پاکستان بھارت کے تجربات کا جواب نہ دے۔ 15 مئی کو صدر کلنٹن نے اپنے خصوصی مندوب سٹروب ٹیلبوٹ کو پاکستان بھیجا جس کا مقصد پاکستان کو تجربات سے روکنا تھا۔
25 مئی کو PIA کا طیارہ ہائی جیک کر لیا گیا۔ ہائی جیکرز کا مطالبہ تھا کہ ایٹمی تجربات کے لیے بلوچستان کا انتخاب نہ کیا جائے۔ پاکستان آرمی نے آپریشن کر کے طیارہ ہائی جیکرز کے قبضے سے چھڑوا لیا۔
آخر کار 28 مئی 1998 کو پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر دئے۔
27/05/2026
عید الاضحٰی کے موقع پر فیملی ممبران ساتھ