Water Vibes

Water Vibes

Share

WaterVibes is an effort to create an awareness among masses about the importance of water before it's too late to realize.

05/05/2026

Watch his work, follow him.
He seems like a single man army to not only educate people about water saving by rain water harvesting, but have also practically done more than 1000 projects on ground. Inspiring!

#walkofwater #finalcall #photographycontest #waterstories #identities #oneweekleft #visualstorytelling #deadlineapproaching | Onewater 12/12/2025

تصویری کہانی کے مقابلے میں حصہ لیجئے
ایک ایسی کہانی جو تصویروں کی زبانی بیان کی جا سکے۔
اکیس دسمبر : آخری تاریخ

We invite photographers of all levels, from experienced professionals to amateurs, to explore and unravel the rich tapestry of human experiences with water.

From cultural and spiritual traditions to everyday moments, livelihoods, gender, and the environment, your photos can reveal how water connects us all and influences who we are.

The contest leans on the United Nation’s theme for World Water Day 2026, which will focus on the vital connections between water and gender, exploring how water shapes identities, opportunities, and equality. Onewater.blue

#walkofwater #finalcall #photographycontest #waterstories #identities #oneweekleft #visualstorytelling #deadlineapproaching | Onewater We are now entering the final week of submissions for the Walk of Water Photostory Contest 🌊 . The deadline to submit is December 7th. We have challenged you to explore the theme of "Identities". To show us how water shapes culture, gender, livelihoods, and the human experience. We don't just wan...

18/11/2025

I recently came across this profile and was pleasantly surprised to see someone working towards water sustainability in Pakistan, particularly as a start-up. Highly Commendable! Such initiatives are greatly needed in a water-scarce country like ours.

Kindly go through, and learn about rainwater harvesting also they can help you installing a set-up to store and filter rainwater to make it potable even.
Sustanovation

17/09/2025

Students, Teachers and Schools can Register:

The Earth Prize Competition

The Earth Prize is a $100,000 environmental sustainability competition open to teenage students worldwide. It recognizes and awards students who develop the best solutions to accelerate positive change towards environmental sustainability.

Registration is open from September 1st until January 31st.

ELIGIBILITY
Participants must have been born between 2006 and 2012 and be registered in a school or educational program.

Web-page in the 1st comment.

25/08/2025

Please Take Care !

Photos from Water Vibes's post 05/07/2025

ماحولیاتی تبدیلیاں کیسے ہمارے کرہ ارض کو تیزی سے متاثر کررہی ہیں اور بظاہر ناقابل تسخیر نظر آنے والی بلند و بالا برفانی چوٹیاں جو ہماری بقا میں انتہائی اہم کردار ادا کررہی ہیں، اب ان کی اپنی بقا کو کیسے خطرات لاحق ہیں، جانیے ایک کوہ پیما اور فوٹوگرافر کی (تصویری) کہانی کے ذریعے:
----------------------
بلندیوں کو سر کرتے ہوئے اکتیس دن، دو سو نوے کلومیٹر اور انیس ہزار سات سو میٹر سفر :

ایورسٹ کے علاقے میں ایسے ٹریک ہیں جو کہ دنیا کی بلند ترین اور انتہائی ہیبت ناک چوٹیوں سے گزرتے ہیں، یہ نیپال کا سولو کھمبو کا خطہ ہے۔ میں نے جُنبسی / Junebesi سے آغاز لے کر Sir Edmund Hillary /سر ایڈمنڈ ہیلرے کے نقوش قدم پر چلتے ہوئے ان گہری وادیوں اور آسمان کی طرح بلند ہوتی دیو ہیکل چوٹیوں کے روبرو چلتے ہوئےایک مہینہ گزارا ہے۔

کئی شامیں میں نے انتہائی بلند مقامات، جیسے کالا پتھر اور گوکیوری، پررگوں میں خون جما دینے والی شدید سردی کا سامنا کیا ہے۔ اور پہاڑوں کو سنہری، بنفشی اور برفانی نیل گوں رنگوں میں زندگی کو وجود میں آتے دیکھا ہے۔

21/05/2025

To survive the water crisis in coming years, the cities need start building:
1. Rainwater storage facilities all over the city to collect rainwater whenever it rains
2. Recycling of kitchen water, wudu water, or water used in washing clothes
3. Solar power-based atmospheric water generation (costly)
4. Experiment with air wells to see if they work in Karachi
5. Sunlight-based distillation glass houses
6. Reuse AC water (some buildings have 100s of ACs, each generating 10-20 liters of water per day)
7. Desalinate sea water (costly)
etc.

Courtesy: Dr Omar Javaid

27/04/2025

سندھ طاس معاہدہ معطل ہونے سے پاکستان میں پانی کی موجودہ صورتِ حال پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

اس کا سادہ سا جواب تو ہے کہ فوری طور پر پاکستان کی پانی کی صورت حال پر کچھ زیادہ اثر نہیں پڑے گالیکن اگر معاہدہ لمبے عرصے تک معطل رہتا ہے تو انڈیا ہمیں تھوڑا بہت پریشان کرسکتا ہے لیکن زیادہ تنگ نہیں کرسکتا۔

زیادہ سے دریائے چناب کے پانی کو موڑنے کے لیے انڈیا کچھ بڑے ڈیم بنا سکتا ہے جن کے لیے بہت زیادہ وقت اور سرمایہ چاہئے۔ یہ ڈیم دریائے چناب کے مون سون کے سارے پانی کو ،جو کہ 18 ملیئن ایکڑ فٹ تک ہوتا ہے، کو پھر بھی نہ روک سکیں گے۔چناب پر اب تک بگلیار ڈیم اور 70 سے زیادہ رن آف رِور ہائیڈروپاور پراجیکٹس بن چُکے ہیں لیکن ان سب کی سٹوریج مل کر بھی مون سون میں دریا کے بہاؤ میں بڑی کمی نہیں لا سکے گی۔ تاہم اگر انڈیا دریائے چناب پر اگلے پانچ سے دس سال میں کوئی بڑے ڈیم بناتا ہے تو سردیوں میں دریائے چناب کا پانی ( 5ملیئن ایکڑ فٹ تک) بالکل بند کر سکتا ہے۔ اس سے بچنے کے لئے منگلا مرالہ لنک کینال اور چنیوٹ ڈیم کا بننا اب ضروری لگ رہا ہے۔

دریائے جہلم پر بڑے ڈیم بناکر پانی روکنا انڈیا کے لیے معاشی طور پر فائدہ مند نہیں کیونکہ دریائے جہلم کا پانی انڈیا کے زرعی صوبوں کی طرف اونچے پہاڑی سلسلوں میں سے موڑنا تکنیکی طور پر بہت ہی مشکل اور مہنگا کام ہے۔ اس سے مقبوضہ کشمیر میں نہ صرف بڑے پیمانے پر زمینیں زیرِ آب آجائیں گی بلکہ ریل روڈ کے کئی زمینی راستے بھی تبدیل کرنا ہوں گے۔ انڈیا پھر بھی دریائے جہلم پر ڈیم بنا کر پاکستان کو سیلاب کے دنوں میں پانی چھوڑ کر پریشان کرسکتا ہے اور سردیوں میں دریا میں پانی کا بہاؤ بند کرسکتا ہے لیکن اس سے نپٹنے کے لیے دریائے جہلم پر موجود منگلا ڈیم بفر کا کام کرے گا۔ تاہم ہمیں منگلا کمانڈ کی نہروں کی فصلوں کی ترتیب بدلنا پڑے گی اور قطراتی نظامِ آب پاشی پر جاکر اس کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔

دریائے سندھ کے ساتھ انڈیا کوئی بڑی چھیڑ چھاڑ نہیں کرسکتا ۔ اگر کوئی ڈیم بناتا بھی ہے تو اس کا مثبت اثر پڑے گا۔

پاکستان بھی سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈیا سے آنے والے زہریلے پانی کے ڈرینوں ( ہڈیاڑہ وغیرہ) کا بہاؤ بند کرسکتا ہے۔

Zafar Iqbal Wattoo

22/03/2025

پانی کے عالمی دن پر دنیا بھر میں پانی کے بحران کی بات کرنا ایک طرف اور غ۔ز۔ہ کے نفوس جس امتحان سے گزر رہے ہیں اور کیسے پانی کے ایک ایک قطرے کے لئے تڑپائے جارہے ہیں، وہ ایک الگ آزمائش ہے۔ نہ صرف پانی بلکہ ضرورت زندگی کی ہر شئے۔ ان کے لئے زندگی کو ایک بار پھر سے تنگ کردیا گیا ہے، شدید بمباری اور تباہی رمضان شروع ہوتے ہی پھر سے چل رہی ہے، امداد بند ہے، بجلی بند، گھر، سکول، سپلائیز، ہر طرح کا انفراسٹرکچر، ہسپتال پہلے ہی تباہ ہیں، واحد کینسر ہاسپٹل کل اڑادیا گیا ہے۔ نسل کشی کے اس مرحلے میں کثیر تعداد میں لوگ پھر سے شہید ہورہے ہیں، اب تک سینکڑوں بچے شہید اور کئی معذور ہوچکے ہیں، خاندانوں کے خاندان مٹ گئے ہیں، کوئی بچہ اپنے والدین کے بغیر ہلکان ہے تو کئی والدین، یا ان میں سے کوئی ایک اپنا پورا خاندان کھو کر نڈھال ہے۔ تباہی سی تباہی ہے، ویرانی سی ویرانی ہے۔
غم دل کو کھا رہا ہے، دل غم کو کھا رہا ہے۔
مگر پوری دنیا کی انسانیت خونی جنونی اذرائیل کو روکنے سے قاصر ہے۔
۔
آپ کو کیا لگتا ہے، آپ کو پانی نل میں کیوں مل رہا ہے اور ان کو کیچڑ سے قطرہ قطرہ کیوں نچوڑنا پڑ رہا ہے۔ ۔ ؟؟؟

22/03/2025

پانی کا عالمی دن :

22 مارچ کو پانی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔
پہلی مرتبہ اس کی قرار داد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 22 دسمبر 1992 میں پیش کی گئی جس کے بعد 22 مارچ کو پانی کا عالمی دن قرار دیا گیا اور اب تک دنیا بھر میں اسے منایا جاتا ہے۔اس دن کے منانے کا مقصد دنیا بھر میں پانی کے بحران کے حوالے سے عوام الناس کو آگہی دینا تھا۔

سو یہ دن ہمیں پانی کی اہمیت کی یادہانی کرواتا ہے۔ انفرادی اور اجتماعی طور ہمیں پانی کے عالمی بحران کے حوالے سے شعور اور آگہی حاصل کرنے پر اکساتا ہے۔ اس لئے یہ وقت پانی کے وسائل کو محتاط اور مناسب طریقے سے استعمال میں لانے کے لئے بہترین حکمت عملی کو اپنانے کا وقت ہے۔ ہر کسی کو اپنے اپنے حوالے سے ممکنہ احتیاط اور اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، جس میں پانی کے ہر طرح کے ضیاع کو روکنا، پانی کو محفوظ اور ریچارج کرنا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے زیر اثر پیدا ہونے والے مسائل کا ادراک اور تدارک کی کوششیں کرنا شامل ہے۔ اور ظاہر ہے اس میں ہماری انفرادی اور اجتماعی کوششیں بہت معانی رکھتی ہیں لیکن قومی سطح پر اس معاملے کو اہمیت دینا، عملی اقدامات کرنا سب سے اہم ہے۔ یہاں بھی ایسا لگتا ہے، کہ ہماری آگہی اہم ہے تاکہ ہم اپنی حکومتوں کو احساس دلاسکیں کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردرا ادا کرنے میں کسی بھی قسم کی کوتاہیوں سے گریز کریں، اور بین الاقوامی سطح پر اس معاملے کو اجاگر کریں۔ ورنہ آنے والی نسلیں بہت مشکلات کا شکار ہونگی۔

اس سال پانی کے عالمی دن کا عنوان " Glaciers Preservation " رکھا گیا ہے یعنی گلیشئیرز کی حفاظت۔ پانی ہماری زندگی کے بہت سے پہلووذں کا احاطہ کرتا ہے، پینے اور روز مرہ گھریلو استعمال سے لے کر، ہماری خوراک اور پھر خوراک کے ذرائع خواہ وہ نباتاتی ہوں،حیواناتی یا مصنوعی پانی کا استعمال ناگزیر ہے۔ ہماری فصلیں، ہماری زراعت پانی پر منحصر ہے، ان کی آب پاشی دریاؤں پر، اور دریاؤں کے پانی کا بہت بڑا حصہ پہاڑی چوٹیوں پر موجود برف کے پگھلنے سے میسر آتا ہے۔ لیکن افسوس وہ برف سے ڈھکی پہاڑی چوٹیاں جن کو دیکھ کر لگتا تھا کہ ان کو دوام حاصل ہے اور یہ دیو ہیکل چوٹیاں اسی طرح ہمارے دریاوں کو زندگی بخشتی رہیں گی، مگرجس تیزی سے وہ پگھل کر غائب ہوتی جارہی ہیں، ان کی ابدیت اب ایک خواب لگتی ہے۔ اور اگر ان کے اس طرح ختم ہونے کا یہ سلسلہ جاری رہا تو ہمارے دریا خشک ہوجائیں گے (اس کا حالیہ ثبوت ہمارے خشک ہوتے ہوئے ڈیم ہیں) یعنی ہماری بقا، ہمارے آبی وسائل کی بقا خطرے میں ہے۔ وہ آبی وسائل جن سے ہماری کھیت لہلہاتے ہیں، ہمارے پھل سبزیاں اور جانور نشونما پاتے ہیں۔ وہ وسائل جن سے ہمارے کھانے پینے کا انتظام ہوتا ہے، جن سے گھر اور کارخانے چلتے ہیں، وہ معدوم ہوجائیں گے۔

یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ پانی کی قدرو اہمیت اس کی قیمتِ خرید سے یا اِس کی ظاہری قیمت سے کہیں زیادہ ہے۔ خواہ وہ گھریلو ضروریات ہوں، زراعت ہو، صنعت یا صحت کا شعبہ ہو، لائیو سٹاک، تعلیم، ثقافت، معاشیات ہو یا ہمارے ماحول کی بقا کا معاملہ ہو پانی کی بے انتہا اہمیت کو ہم کہیں بھی نظر انداز نہیں کرسکتے۔ لیکن جس رفتار سے ہماری اجتماعی اور انفرادی لا پرواہیاں اور کوتاہیاں جاری ہیں، شائید نہیں یقینا قحط سالیاں، ویرانیاں اور ریگ زار ہمارے منتظر ہونگے۔ لیکن یہ مت بھولئیے کہ پانی کا کوئی اور نعم البدل اس کائنات میں موجود نہیں۔

مقدس طارق

16/03/2025

مُلک کے پانی کے ذخیرے آج تقریباً خُشک ہوگئے ہیں۔

منگلا ڈیم کل ڈیڈ سٹوریج لیول 1050 فُٹ پر پہنچ گیا تھا جس کے بعد ڈیم سے پانی کی سپلائی بند کردی گئی ہے۔

تربیلا ڈیم میں پانی کا لیول ڈیڈ سٹوریج لیول 1402 فُٹ سے صرف 2 فُٹ اوپر رہ گیا ہے جو صرف آج کے دن کے لئے کافی ہے ۔

مُلک کے تینوں بڑے ذخیروں (تربیلا، منگلا اور چشمہ) میں اس وقت کُل مِلا کر صرف 1 لاکھ ایکڑ فٹ پانی بچا ہے جب کہ ہم نے تقریباً 27 ملیئن ایکڑ فٹ پانی صرف اس سال مون سون کے موسم میں سمندر میں بہا دیا۔
Via Zafar Iqbal Wattoo

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Lahore
54500