ASHAR Public School

ASHAR Public School

Share

Enter to learn leave to serve

06/10/2025

Muslim minds that changed the world

23/09/2025

“دی ٹرمنئیٹر” (1984) کے ڈائریکٹر جیمز کیمرون نے ایک بار پھر مصنوعی ذہانت (AI) پر عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے کہا: “میں نے 1984 میں خبردار کیا تھا مگر کسی نے بات نہیں مانی۔” ان کی فلم نے ایسے خودمختار مشینوں کا تصور پیش کیا تھا جو انسانیت پر قابض ہو جائیں — ایک وقت میں محض کہانی سمجھا جانے والا یہ خیال آج کی تیز رفتار AI ترقیات کے ساتھ حقیقت کے قریب ہوتا جا رہا ہے۔

آج کے جدید AI ماڈلز کوڈ لکھ سکتے ہیں، تصویریں بنا سکتے ہیں، بیماریوں کی تشخیص کر سکتے ہیں اور تقریباً کمال درجے کی انسانی مکالمہ نگاری کر سکتے ہیں۔ کیمرون کا کہنا ہے کہ اگرچہ AI کے حیرت انگیز فوائد ہیں، لیکن غلط ہاتھوں میں یہ ایک ہتھیار بھی بن سکتا ہے — چاہے وہ خودکار فوجی ڈرونز ہوں یا جمہوریت کو غیر مستحکم کرنے والی جھوٹی معلوماتی مشینیں۔

ایلون مسک اور “گاڈ فادر آف AI” جیوفری ہنٹن جیسے ماہرین بھی ایسے ہی خدشات کا اظہار کر چکے ہیں اور زور دیتے ہیں کہ قوانین بنائے جائیں تاکہ AI انسانی کنٹرول میں رہے۔ عسکری ماہرین کو یہ اندیشہ ہے کہ AI پر مبنی جنگی نظام ایسے فیصلے کر سکتے ہیں جن کا تعلق زندگی اور موت سے ہو، مگر ان میں اخلاقیات شامل نہ ہوں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنس فکشن فلمیں ہمیں طویل عرصے سے اس قسم کی بحث کے لیے ذہنی طور پر تیار کر رہی ہیں — چاہے وہ “دی میٹرکس” ہو یا “ہر”۔ کیمرون کے یہ الفاظ یاد دہانی ہیں کہ حقیقت اور تخیل کی لکیر تیزی سے دھندلا رہی ہے، اور معاشرے کو یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم مصنوعی ذہانت کو کہاں تک آگے جانے دیں گے، اس سے پہلے کہ اس پر سے ہمارا کنٹرول ختم ہو جائے

29/08/2025

ناسا کے ایک ماہر ماحولیات نے حال ہی میں ایک ایسی لرزہ خیز رپورٹ جاری کی ہے جس نے دنیا بھر کے سائنسی حلقوں کو خاموش کر دیا ہے۔ اس رپورٹ میں ایسا ہولناک انکشاف کیا گیا ہے جو انسانیت کے مستقبل پر ایک سیاہ سایہ ڈال رہا ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ زمین کی گہرائیوں میں، تقریباً 200 کلومیٹر نیچے، ایک پراسرار اور ناقابلِ وضاحت تبدیلی وقوع پذیر ہو رہی ہے۔ دس سال پہلے زمین کے نیچے موجود لاوے کا اوسط حجم صرف 130 کلومیٹر تک محدود تھا۔ لیکن آج، محض ایک دہائی بعد، یہ لاوا خطرناک حد تک اوپر کی جانب سرک چکا ہے اور اب یہ 160 کلومیٹر کی سطح تک آ پہنچا ہے۔ یہ محض ایک عدد نہیں، بلکہ ایک ایسا الارم ہے جو زمین کے اندرونی نظام میں کسی بڑی تبدیلی کی خبر دے رہا ہے۔

اس کی وجہ سے زمین کی پرتیں (plate tectonics) غیر متوقع حد تک حرکت کر رہی ہیں، جس کے اثرات زلزلوں اور سمندری طوفانوں کی صورت میں ہمارے سامنے آ رہے ہیں اور یہ صرف آغاز ہے۔

مگر اصل خوفناک بات ابھی باقی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، زمین کے مرکز میں موجود لاوا اب اپنی گردش کی سمت (rotation direction) بدل رہا ہے۔ یہ وہ تبدیلی ہے جس نے سائنس دانوں کو بھی خاموش کر دیا ہے، کیونکہ اس کے اثرات زمین کے نارتھ اور ساؤتھ پولز کو آہستہ آہستہ اُلٹ رہے ہیں۔ قطبین کی یہ تبدیلی معمولی بات نہیں، یہ وہ علامت ہے جو زمین کے مقناطیسی نظام کے مکمل طور پر اُلٹنے کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

اور اگر یہ سب کچھ اسی رفتار سے جاری رہا… تو 2030 تک وہ لمحہ آ سکتا ہے جب لاوا زمین کی سطح سے صرف 10 کلومیٹر نیچے رہ جائے گا یعنی 190 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر لے گا۔ اُس کے بعد زمین کی درجہ حرارت 65 ڈگری سیلسیس تک بڑھ سکتا ہے۔ سوچیں… انسان، جانور، پودے سب کچھ آگ کی لپیٹ میں جا سکتا ہے۔

سائنس خاموش ہے، ماہرین بے بس، اور انسانیت ایک ایسے خطرے کے دہانے پر کھڑی ہے جس کا نہ کوئی حل ہے، نہ کوئی یقین۔

کیا ہم نے زمین کے ساتھ کچھ ایسا کر دیا ہے جو اب پلٹ کر ہمارا انجام لکھنے آ رہا ہے؟

یہ صرف وقت ہی بتائے گا… یا شاید، وقت بہت کم رہ گیا ہے۔
copied

24/08/2025

اس
صدی کی کمزور ترین نسل
ایک سخت مگر سچائی سے بھرپور آئینہ۔۔۔
وہ نسل جو سن 2000 کے بعد پیدا ہوئی۔۔۔
آج 23، 24 سال کی عمر میں ہے۔۔۔
مگر یہ انسانی تاریخ کی سب سے کمزور، ناتواں اور نفسیاتی دباؤ کا شکار نسل ہوچکی ہے۔
جسمانی طور پر لاغر۔۔۔
ذہنی طور پر منتشر۔۔۔
اور تربیت سوشل میڈیا سے حاصل کی گئی ہے، نہ کہ بزرگوں سے۔
📱 ہر وقت موبائل فون، اسکرین، ٹک ٹاک، انسٹاگرام۔۔۔
📉 نتیجہ؟
گردن میں خم
آنکھوں میں کمزوری
جسم میں طاقت کی کمی
رشتوں میں برداشت کی عدم موجودگی
اور صفر جذباتی ذہانت (EQ)
💥 یہ وہ نسل ہے جو پانچ کلومیٹر پیدل نہیں چل سکتی،
دھوپ میں آدھا گھنٹہ کھڑے ہو کر گزار نہیں سکتی،
چھوٹا سا اختلاف ہو تو بلاک، ان فالو، اور رشتہ ختم۔
🧠 سب کچھ فوری چاہئے ۔۔۔
صبر صفر، غصہ 100%
👈 مغرب میں انہیں Boomerang Generation کہا جا رہا ہے۔
کیونکہ یہ باہر رہ کر زندہ نہیں رہ سکتے، اور واپس ماں باپ کے گھروں میں آرہے ہیں۔
پاک و ہند میں یہ نسل TikTok Generation کہلاتی ہے۔۔۔
جنہیں نہ تہذیب، نہ زبان، نہ مقصد، نہ غیرت، نہ ایمان کی فکر ہے۔
اور ذرا سوچیں۔۔۔
اگر اللّٰہ نہ کرے، قوم پر کبھی غزہ، شام، عراق، یا یمن جیسی آزمائش آگئی۔۔۔
تو کیا یہ نسل زندہ رہ سکے گی؟
🔥 لکڑی سے آگ جلانا تو دور،
انہیں مشرق اور مغرب کا فرق بھی نہیں پتہ،
یہ سروائیول تو چھوڑیں، سوشل میڈیا ڈاؤن ہوجائے تو پاگل ہوجاتے ہیں!
ابھی وقت ہے بیداری کا،
💪 اپنی نسل کو بچائیں
📚 انہیں قرآن، سیرت، غیرت، حیا، قربانی اور جدوجہد سکھائیں. مقصد دیں، ورنہ یہ دنیا انہیں گمراہی کردے گی۔ (

14/08/2025

یہ 1971 کے بعد پاکستان کی تاریخ میں پہلا 14 اگست ہے جہاں بنگلہ دیش نے اپنے پرچم کیساتھ پاکستانی پرچموں سے ڈھاکہ کے سڑکوں کو اور بڑی عمارتوں کو سجادیا ہے

02/08/2025

🚀 چین کا خلائی انقلاب: سورج سے بجلی، سیدھا خلا سے! 🚀
کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک شمسی توانائی کا پلانٹ جو ایک کلومیٹر چوڑا ہو، زمین سے 36,000 کلومیٹر اوپر مدار میں گردش کر رہا ہو؟ یہ کوئی سائنس فکشن نہیں، چین اسے حقیقت بنا رہا ہے – انسانی تاریخ کے سب سے بڑے صاف توانائی کے منصوبوں میں سے ایک!
⚡️ کیوں یہ گیم چینجر ہے؟
* 100 ارب kWh سالانہ صاف توانائی: یہ دنیا کے تمام باقی تیل کے ذخائر میں موجود توانائی سے بھی زیادہ ہے۔
* 24/7 سورج کی توانائی: بادلوں، موسم یا رات کے بغیر، یہ زمینی سولر پینلز سے 10 گنا زیادہ مؤثر طریقے سے کام کرتا ہے۔
* وائرلیس بجلی کی ترسیل: مائیکروویو ٹیکنالوجی کے ذریعے زمین پر مسلسل، وائرلیس بجلی کی فراہمی۔
اس میگا پروجیکٹ کو "تھری گورجز ڈیم ان اسپیس" کہا جا رہا ہے، جسے طاقتور لانگ مارچ-9 راکٹ پر لانچ کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ انسانیت کے توانائی کے مستقبل کو یکسر بدل سکتا ہے۔
یہ صرف جدت نہیں، یہ تاریخ بن رہی ہے!

19/07/2025

بل گیٹس نے ایک ہولناک پیش گوئی کی ہے جو ٹیکنالوجی اور کاروباری دنیا میں سنسنی پھیلا رہی ہے۔ حالیہ بیان میں، مائیکروسافٹ کے بانی نے خبردار کیا ہے کہ صرف تین قسم کی نوکریاں ایسی ہیں جو مصنوعی ذہانت (AI) کے انقلاب میں باقی رہ سکیں گی — باقی تمام کام یا تو ختم ہو جائیں گے یا مشینوں کے حوالے کر دیے جائیں گے۔

جیسے جیسے AI تیز تر اور ذہین بنتی جا رہی ہے، گیٹس کا ماننا ہے کہ ہم اس مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں زیادہ تر روایتی پیشے یا تو مٹ جائیں گے یا مکمل طور پر بدل جائیں گے۔ تو آخر کیا بچے گا؟ بل گیٹس کے مطابق صرف یہ شعبے نسبتاً محفوظ ہیں:

صحت کا شعبہ، جہاں انسانوں کی ہمدردی اور مریض سے براہِ راست رابطہ اب بھی اہمیت رکھتا ہے

انجینئرنگ اور AI ڈیولپمنٹ کے شعبے، جہاں انہی نظاموں کی تعمیر اور نگرانی کی ضرورت ہے

تخلیقی شعبے، جیسے فنکار، مصنفین، اور ڈیزائنرز، جہاں انسانی تخیل اور جذباتی اظہار کی اہمیت برقرار ہے

لیکن گیٹس کہتے ہیں کہ یہ شعبے بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ AI معاونت تو کر سکتی ہے، مگر صرف وہی نوکریاں دیرپا ہوں گی جو انسانی جذبے، تخلیقی سوچ یا گہرے تکنیکی علم پر مبنی ہوں۔

اس انتباہ نے روزگار، تعلیم اور معیشت کے مستقبل پر ایک سنجیدہ مکالمہ چھیڑ دیا ہے۔ جیسے جیسے ChatGPT، Grok اور Gemini جیسے AI ٹولز تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، لوگوں میں بڑے پیمانے پر بیروزگاری اور نوکریوں کے ختم ہونے کا خوف بڑھ رہا ہے۔

گیٹس حکومتوں اور صنعتوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ابھی سے تیاری کریں: افراد کو نئے ہنر سکھائیں، تعلیمی نظام کو ازسرِ نو سوچیں، اور انسان کو مرکز میں رکھتے ہوئے پیشہ ورانہ شعبے تشکیل دیں۔

پیغام واضح ہے: AI صرف آنے والا نہیں، پہنچ چکا ہے۔ اگر ہم نے فوری طور پر خود کو نہ بدلا، تو لاکھوں لوگ اس دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔ Hj

10/07/2025

"سچے لوگ"
ساری اچھائی مشرق و مغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وہ شخص ہے جو اللّٰہ تعالیٰ پر ،قیامت کے دن پر ،فرشتوں پر،کتاب اللّٰہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو ،جو مال سے محبت کرنے کےباوجودقرابت داروں یتیموں،مسکینوں،مسافروں اور سوال کرنے والے کو دے،غلاموں کو آزاد کرے،نماز کی پابندی اور زکوٰۃ کی ادائیگی کرے،جب وعدہ کرے اسے پوراکرے،تنگدستی،دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر
کرے،یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں

07/07/2025

AMAZING CREATURES
Largest animal:
The Blue Whale is the world's largest animal weighing up to 200 tons and reaching lengths of 100 feet.
Smallest Mammal:
The bumblebee bat weighs less than a penny and is only about 1.5 inches long.
Fastest Animal:
The peregrine falcon can dive at speeds over 200 miles per hour.
Largest Reptile:
The salt water crocodile can grow up to 23 feet in length and weigh over 2,200 pounds.

02/07/2025

People thrive when they feel supported, not stressed.

29/06/2025

ایک اور جنگ کی تیاریاں: برصغیر میں خطرناک ہتھیاروں کی دوڑ

جنوبی ایشیا میں جنگ کی گھنٹیاں ایک بار پھر بجنے لگی ہیں۔ متعدد دفاعی ماہرین اور تجزیہ کار آنے والے چھ ماہ سے ایک سال کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور جنگ کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق نریندر مودی کی حکومت اور ہندوتوا نظریے کے سیاسی تسلسل کے لیے جنگ ناگزیر بنتی جا رہی ہے۔ داخلی سیاسی بحران، معاشی دباؤ، اور عالمی منظرنامے میں بھارت کی عسکری قوت کے اظہار کی خواہش، اسے خطے میں ایک اور محدود یا بھرپور جنگ کی جانب دھکیل رہی ہے۔

اس ممکنہ جنگ کے پیش نظر بھارت نے بڑے پیمانے پر ایمرجنسی اسلحہ خریداری کر دی ہے۔ 'ایمرجنسی پروکیورمنٹ فیز 5' اور 'فیز 6' کے تحت بھارت نے چودہ سے زائد ہتھیاروں کے نظام کی فوری خریداری کا عمل شروع کیا ہے، جن کی ترسیل فوی ہونی ہے۔ اس خریداری میں سب سے نمایاں روسی ساختہ Igla-S وی شورٹ رینج ایئر ڈیفنس میزائل شامل ہیں، جو Rosoboronexport کمپنی سے خریدے گئے ہیں، اور Adani Defence کے اشتراک سے بھارت میں اسمبل کیے جا رہے ہیں۔ یہ نظام بھارت کو کم اونچائی پر حملہ آور ڈرون، کروز میزائل اور ہیلی کاپٹرز سے بچانے کی صلاحیت فراہم کرے گا، جو کسی بھی سرحدی تصادم کے دوران اہمیت رکھتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی بھارت نے مقامی دفاعی کمپنیوں سے Nagastra-1R کامکازی ڈرونز، Switch UAVs، کم وزن والے ریڈار، نائٹ سائٹس، بلٹ پروف جیکٹس اور بلیسٹک ہیلمٹس بھی فوری بنیادوں پر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان تمام اشیاء کی ترسیل اگلے چند ماہ کے اندر مکمل ہونا ہے، تاکہ کسی بھی جنگی صورتحال میں بھارتی فوج کو ٹیکنالوجی اور لاجسٹکس میں برتری حاصل رہے۔

دوسری جانب پاکستان بھی اس بڑھتے ہوئے خطرے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ چار روزہ جنگی تجربے اور بھارت کی ممکنہ جارحیت کے پیش نظر پاکستان نے دفاعی تیاریوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ سب سے اہم پیشرفت چین سے J-35A (جسے FC-31 یا Gyrfalcon بھی کہا جاتا ہے) اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کی خریداری ہے۔ توقع ہے کہ ان جہازوں کا پہلا بیچ رواں سال ہی پاکستان پہنچ جائے گا۔ J-35A جدید ترین پانچویں نسل کا اسٹیلتھ طیارہ ہے، جو 400 کلومیٹر دور ہدف کو نشانہ بنانے والے PL-17 جیسے beyond-visual-range میزائلوں سے لیس ہوگا۔
پاکستان نے ڈرون خطرے سے نمٹنے کے لیے بھی نمایاں اقدامات کیے ہیں۔ "آپریشن سندور" کے دوران بھارت کی جانب سے ڈرونز کے استعمال اور کامکازی حملوں سے سیکھتے ہوئے پاکستان نے GIDS (Global Industrial & Defence Solutions) کے تحت Spider نامی مقامی اینٹی ڈرون سسٹم تیار کیا ہے۔ یہ نظام موٹرائزڈ اور پورٹیبل دونوں صورتوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ 10 کلومیٹر سے زائد فاصلے پر دشمن کے ڈرونز کو جیم، اسپوف یا نیوٹرلائز کر سکتا ہے۔ اس نظام کی خاص بات یہ ہے کہ یہ RF، GPS اور EO/IR سینسرز کو ملا کر جامع دفاعی جال بچھاتا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان ترکی سے HAVA SOJ (Stand-Off Jammer) الیکٹرانک وارفیئر سسٹم بھی حاصل کر رہا ہے۔ اس سسٹم کی تنصیب کے لیے پاکستان نے اپنے J-135 طیارے ترکی بھجوا دیے ہیں تاکہ انہیں HAVA SOJ سسٹم سے لیس کیا جا سکے۔ یہ نظام دشمن کے ریڈار، کمیونیکیشن، اور کمانڈ کنٹرول سسٹمز کو دور سے جام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے بھارتی ڈیفنس نیٹورکس اور ڈیٹا لنکس کو مفلوج کیا جا سکتا ہے۔ HAVA SOJ کی موجودگی پاکستان کو الیکٹرانک ڈومین میں زبردست برتری فراہم کرے گی، خصوصاً کسی ہائبرڈ یا محدود جنگی ماحول میں جہاں الیکٹرانک برتری فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔

ان سب تیاریوں کے تناظر میں اگر ہم برصغیر کی حالیہ عسکری رفتار اور سیاسی بیانات کا تجزیہ کریں، تو واضح ہوتا ہے کہ دونوں ممالک نہ صرف دفاعی طور پر پوزیشن لے رہے ہیں بلکہ حملے کی صلاحیتوں کو بھی فعال بنا رہے ہیں۔ بھارت کا ہندوتوا پر مبنی سیاسی بیانیہ، الیکشنز کے لیے دشمن تراشی کی حکمت عملی، اور پاکستان کو نیچا دکھانے کی خواہش ایک ممکنہ جنگ کی بنیاد بن سکتی ہے۔ دوسری طرف پاکستان بھی جارحیت کی صورت میں فوری اور بھرپور جواب کی پالیسی پر قائم ہے۔

لہٰذا، آنے والے مہینے خطرناک ہو سکتے ہیں۔ چاہے وہ ایک محدود سرحدی جھڑپ ہو، یا مکمل جنگ،۔۔ لیکن تصادم کےامکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہ تصادم اس خطے کی تاریخ کا سب سے مہنگا اور مہلک ٹکراؤ ثابت ہو سکتا ہے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


5/Qutub Colony Rehmanpura Ferozpur Road
Lahore