24/05/2026
آنکھیں کھول دینے والے حقائق!
پنجاب کے سرکاری ہائی سکولوں کی اصل تصویر
پنجاب میں ہائی اور ہائر سیکنڈری سکول 9217 ہیں۔
ہیڈ ماسٹر اور پرنسپل صرف 2973 ہیں۔ 6244 سکول بغیر کسی مستقل سربراہ کے چل رہے ہیں۔ یعنی پنجاب کے دو تہائی ہائی سکولوں میں کوئی ہیڈ ماسٹر نہیں ہے۔کسی حد تک عارضی ناتجربہ کار ہیڈز تعینات کیے ہیں مگر انکی پالیسی بھی عارضی ہے
لیب اٹینڈنٹ صرف 4776 ہیں۔ ہر سکول میں فزکس، کیمسٹری، بیالوجی اور کمپیوٹر کی چار لیبز ہونی چاہئیں۔ یعنی 36868 لیبز کے لیے صرف 4776 لیب اٹینڈنٹ ہیں۔ ایک بندے کے ذمے اوسطاً 8 لیبز ہیں۔
کمپیوٹر لیب انچارج پورے پنجاب میں صرف 52 ہیں۔ 9165 سکولوں میں کمپیوٹر لیب کا کوئی انچارج نہیں۔
جس سکول میں ہیڈ ماسٹر نہ ہو وہاں جوابدہی نہیں۔ جہاں لیب اٹینڈنٹ نہ ہو وہاں لیب کیا ہو ؟ جہاں کمپیوٹر انچارج نہ ہو وہاں بچے صرف کمپیوٹر کا نام سنتے ہیں۔
اور ہم سوچتے ہیں کہ بچے پیچھے کیوں ہیں۔
یہ ڈیٹا کسی اخبار یا سیاستدان کا نہیں۔ یہ خود پنجاب حکومت کی ویب سائٹ sis.pesrp.edu.pk کا ہے۔
عین ممکن ہے کہ یہ ڈیٹا پبلک نہیں رہے۔
ان کے سکرین شاٹس کمنٹ سیکشن میں 👇
22/05/2026
سابقہ سوال و جواب ۱۴۶
عبد السلام
سوال ۱۹۵۱: مائیگرین جو آدھے سر کی درد ہے، میڈیکل سائنس اتنی ترقی کے باوجود اس کا پراپر علاج کیوں دریافت نہیں کرسکی ؟ اس کا باقاعدہ علاج دنیا بھر میں کیوں موجود نہیں؟
جواب: بیماری کی ظاہری سادگی اکثر اس کی اندرونی پیچیدگی کو چھپا لیتی ہے۔ مائیگرین محض سر کا درد نہیں ہے بلکہ ایک پیچیدہ اعصابی عارضہ ہے جس میں دماغ کی کیمسٹری، خون کی نالیاں اور اعصاب ایک خاص ترتیب میں ردِعمل ظاہر کرتے ہیں۔ سائنس کے لیے اس کا ایک حتمی علاج دریافت کرنا اس لیے مشکل ہے کیونکہ ہر مریض میں اس کی وجوہات یا ٹریگرز بالکل مختلف ہوتے ہیں، کسی کے لیے یہ ہارمونز کا عدم توازن ہے، کسی کے لیے مخصوص خوراک، اور کسی کے لیے محض موسم کی تبدیلی یا ذہنی تناؤ۔ چونکہ ہر مریض کی بیماری کی بنیاد الگ ہے اس لیے کوئی ایک دوا سب کے لیے شافی علاج نہیں بن سکتی۔
اس کے علاوہ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ جدید میڈیکل سائنس اب مائیگرین کو ایک ایسی بیماری کے طور پر لیتی ہے جسے جڑ سے ختم کرنے کے بجائے Manage کیا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے ذیابیطس یا بلڈ پریشر کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے لیکن انہیں کنٹرول کر کے انسان نارمل زندگی گزار سکتا ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ دنیا میں علاج موجود نہیں۔ پچھلی ایک دہائی میں سائنس نے ایسی جدید دوائیں جیسے Triptans اور CGRP inhibitors دریافت کی ہیں جو مائیگرین کے حملے کو روکنے اور اس کی شدت کم کرنے میں انتہائی مؤثر ہیں۔ لیکن یہ جادوئی گولی نہیں ہیں جو بیماری کو ہمیشہ کے لیے غائب کر دیں۔
&&&&&
سوال ۱۹۵۲: یہ کچھ مہینے پہلے کی بات ہے کہ میں کمرے میں بستر پر سو رہا تھا، اور خواب میں میں نے دیکھا کہ کسی چیز نے—شاید سانپ یا کوئی چوہا—میرے پاؤں کے انگوٹھے پر کاٹ لیا ہے۔ یہ سب کچھ میں خواب میں ہی دیکھ رہا تھا۔ فوراً میری آنکھ کھل گئی، اور جیسے ہی میں نے اپنے پاؤں کی طرف دیکھا، بالکل اسی جگہ پر واقعی کسی نے کاٹا ہوا تھا اور وہاں سے خون نکل رہا تھا۔ حالانکہ پورے کمرے میں ایسی کوئی چیز موجود نہیں تھی، اور نہ ہی کبھی اس جگہ پر ایسا واقعہ ہوا تھا—یہ پہلی بار ہوا۔ یعنی خواب کا ہماری جسمانی (حقیقی) دنیا سے تعلق کیسے بنتا ہے، جبکہ سارا کچھ خواب میں ہو رہا
جواب: جی ہاں، ایسا ہوسکتا ہے، لیکن نیورو سائنس کی رو سے اس واقعے کی ترتیب الٹ ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہوا کہ آپ کے خواب کی وجہ سے جسم پر زخم آیا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جسم پر لگنے والے زخم یا تکلیف کی وجہ سے آپ کو وہ خواب دکھائی دیا۔ سوتے وقت ہمارا دماغ بیرونی دنیا سے مکمل کٹ نہیں جاتا بلکہ یہ نیم بیدار حالت میں ہوتا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو محسوس کر سکے۔ جب آپ گہری نیند میں تھے تو یقیناً کسی چھوٹے کیڑے نے کاٹا ہوگا یا آپ کا پاؤں بستر کی کسی نوکیلی چیز سے رگڑ کھا کر زخمی ہوا ہوگا۔
جیسے ہی دماغ کو درد کا یہ سگنل ملا اس نے ملی سیکنڈز کے اندر اس درد کی توجیہہ پیش کرنے کے لیے اپنی یاداشت سے سانپ یا چوہے کی تصویر نکالی اور اسے ایک کہانی کی شکل میں آپ کے خواب میں شامل کر دیا تاکہ آپ فوراً جاگ جائیں۔ اسے سائنسی اصطلاح میں Sensory Incorporation کہتے ہیں۔ یعنی بیرونی احساسات کا خواب کا حصہ بن جانا۔ رہی بات یہ کہ کمرے میں کچھ نہیں ملا، تو عین ممکن ہے کہ وہ کوئی معمولی سا کیڑا ہو جو چھپ گیا ہو۔ کیونکہ خواب میں دماغ اکثر خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے، اس لیے ایک چھوٹی سی سوئی کی چبھن بھی خواب میں سانپ کا ڈسنا محسوس ہو سکتی ہے۔
&&&&&
سوال ۱۹۵۳: کسی نے سوال پوچھا تھا کہ منی خارج ہوتے وقت لذت کیوں محسوس ہوتی ہے جب کی دوسری رطوبت خارج ہونے پر مزہ نہیں آتا تو اس ہر ایک ممبر نے سوال پوچھا کہ کیا آپ کی بات کا مطلب ہے کہ پیشاب پاخانہ کرتے وقت بھی لذت محسوس ہونی چاہئے؟
جواب: اگر مذاق کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو یہ حقیقت ہے کہ پاخانے سے فارغ ہونے کی کیفیت میں آسودگی کا احساس ہوتا ہے کیونکہ اس صورت میں بھی ڈوپامین خارج ہوتا ہے۔ اگرچہ شدت کے اعتبار سے یہ آرگیزم سے مختلف ہوتا ہے۔
اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ excretion انسانی بقا کے لئے ضروری ہے۔
ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں صورتوں میں Vagus Nerve متحرک ہوتی ہے۔
&&&&&
سوال ۱۹۵۴: اگر ہم نے کوئی میٹھی چیز کھائی ہوئی ہو اور ہمارے منہ کا ذائقہ میٹھا ہو اس دوران اگر ہم مزید کوئی میٹھی چیز کھالیں تو اس کا ذائقہ ہمیں پھیکا کیوں لگتا ہے ۔۔۔
جواب: یہ ایک قدرتی عمل ہے جسے سائنس کی زبان میں Sensory Adaptation کہا جاتا ہے۔ جب آپ پہلی بار کوئی میٹھی چیز کھاتے ہیں، تو آپ کی زبان پر موجود مٹھاس کو محسوس کرنے والے سنسرز ینعی Taste Buds پوری شدت سے متحرک ہو کر دماغ کو سگنل بھیجتے ہیں۔ لیکن چونکہ یہ سنسرز مسلسل ایک ہی جیسا ذائقہ محسوس کر رہے ہوتے ہیں اس لیے ان کی حساسیت عارضی طور پر کم ہو جاتی ہے۔ اس دوران دماغ مٹھاس کا ایک نیا اور اونچا معیار یعنی Reference Level طے کر لیتا ہے۔ اب اسے مٹھاس کا احساس دلانے کے لیے پہلے سے زیادہ چینی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے جب آپ فوراً بعد دوسری میٹھی چیز کھاتے ہیں تو وہ آپ کے دماغ کو اتنی نہیں بھاتی اور پھیکی لگتی ہے کیونکہ آپ کے سنسرز کو دوبارہ نارمل حالت میں آنے کے لیے تھوڑا وقت درکار ہوتا ہے۔
&&&&&
سوال ۱۹۵۵: اگر دماغ سے پورا جسم کنٹرول ہوتا ہے تو دماغ پر کس کا کنٹرول ہوتا ہے؟
جواب: نیورو سائنس کے مطابق دماغ کے اوپر کوئی دوسرا باس یا الگ سے کنٹرولر نہیں بیٹھا ہوتا بلکہ یہ ایک مرکزی پروسیسر کی طرح ہے جو ایک خودکار Self-regulating نظام کے تحت چلتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دماغ مکمل طور پر آزاد ہے، ہماری جینیات جو پیدائش سے پہلے دماغ کا ہارڈویئر اور بنیادی اصول طے کرتی ہیں، اس کے علاوہ ہمارا ماحول اور حواس ہیں جو اسے مسلسل ڈیٹا فراہم کرتے ہیں۔ دماغ اس ڈیٹا کو اپنی بنیادی ساخت کے مطابق respond کرتا ہے۔
21/05/2026
بورڈ کے امتحانات میں نگران عملے کا مسئلہ دن بہ دن سنگین ہوتا جا رہا ہے اور اساتذہ اب خوش دلی سے نہیں بلکہ مجبوری کے تحت ڈیوٹی کرتے ہیں۔ ان دنوں اگرچہ چھٹیاں ہیں، لیکن حال ہی میں منعقد ہونے والے میٹرک امتحانات کے دوران کئی اسکولوں کو اسٹاف کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ متعدد اسکولوں میں پہلے ہی عملے کی کمی موجود ہے، اور امتحانات کے دوران اس کمی کو پورا کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ نگران اساتذہ پر غیر ضروری دباؤ ڈالا جاتا ہے، اور اگر کسی طالب علم سے معمولی سی غلطی بھی ہو جائے تو اس کی پوری ذمہ داری نگران اور سپرنٹنڈنٹ پر ڈال دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بورڈ کے وزٹ پر آنے والے افسران کا رویہ بھی اکثر نگران عملے کے لیے حوصلہ افزا نہیں ہوتا۔ کم معاوضہ اور دور دراز امتحانی مراکز پر ڈیوٹی لگنے کی وجہ سے اساتذہ میں مزید بے دلی پیدا ہو رہی ہے۔ اگر بورڈ چاہتا ہے کہ امتحانی نظام بہتر طریقے سے چلتا رہے تو اسے پہلے سے بہتر منصوبہ بندی، قریبی ڈیوٹیاں، مناسب معاوضہ اور نگران عملے کے ساتھ بہتر رویہ اپنانا ہوگا تاکہ اساتذہ خوش دلی سے نہیں بلکہ کم از کم اطمینان کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں
20/05/2026
پنکھے بند چلچلاتی دھوپ میں بچے بیٹھے ہوئے تھے مذکورہ PEF سکول کی انتظامیہ کے خلاف FIR درج
چنیوٹ میں نجکاری شدہ سکول میں بجلی کا بل زیادہ آنے پر اور بچت کرنے پر سکول کے پنکھے شدید گرمی میں بند ۔
یہ نجکاری شدہ سرمایہ داروں کی کمائی کا ذریعہ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کا مقصد غریب بچوں کی تکلیف میں صرف اضافہ کرنا ہے ۔
20/05/2026
پروٹیکٹڈ کیٹیگری ختم ہوگی دو میٹر کے 350 تک یونٹس کا بل 15۔20 ہزار آئے گا ایک غریب پنکھا بند کرکے بیٹھے گا ظالم حکمرانوں کوسے گا
20/05/2026
کیا ہی مشکل سے گزرے ہونگے وہ ماضی کے وہ بچے جنہوں نے نویں اور دسویں کا اکٹھا امتحان دیا ہوگا ۔