Online Quran Teaching

Online Quran Teaching

Share

Ummah Insight | Ideas, awareness, and inspiration for the global Ummah.

23/06/2026

🖤 واقعۂ کربلا اور امام زین العابدینؑ 🖤

کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ صبر، استقامت اور حق پر ڈٹے رہنے کا درس ہے۔ امام زین العابدینؑ نے کربلا کے بعد اپنی زندگی عبادت، صبر اور امت کی اصلاح کے لیے وقف کر دی۔ ان کی حیاتِ مبارکہ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مشکلات کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، اللہ پر بھروسہ اور حق کا راستہ کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔

آئیے محرم الحرام کے ان بابرکت دنوں میں اپنے کردار، اعمال اور اللہ سے تعلق کا جائزہ لیں، اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کریں۔

🤲 اللّٰہم صلِّ علیٰ محمد وآلِ محمد

23/06/2026

مرد کتنا ہی شریف کیوں نہ ہو، عورت کے جسم پر آنکھ ضرور ٹھہرتی ہے
ڈاکٹر طارق حسین سومرو، فیملی فزیشن، لاڑکانہ

نظر، فطرت اور کنٹرول کا امتحان
ایک کڑوی مگر حقیقی بات کی طرف اشارہ
اسے شرم کی بات نہیں، سمجھنے کی بات سمجھتے ہیں
سائیکالوجی
دماغ کا پہلا ریفلیکس
نظر پڑنا = فطرت، نظر ٹکرانا = امتحان
1. Visual Stimulus
سائنس کہتی ہے انسانی دماغ 0.13 سیکنڈ میں چہرے اور جسم کو اسکین کر لیتا ہے۔ یہ "Survival Reflex" ہے۔ خوبصورتی، رنگ، حرکت دماغ کا Attention فوراً کھینچتی ہے۔ یہ "گناه" نہیں، "Reaction" ہے۔
2. Testosterone کا اثر
مرد کے جسم میں Testosterone ہارمون فطری طور پر "جذب" اور "توجہ" بڑھاتا ہے۔ یہ اللہ کی بنائی فطرت ہے تاکہ نکاح، نسل، محبت کا نظام چلے۔
3. فرق یہاں ہے
پہلی نظر بے اختیار ہے۔ دوسری نظر بے شرمی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "اے علی، پہلی نظر تمہارے لیے ہے، دوسری تمہارے خلاف"۔ شریف وہی ہے جو پہلی نظر کے بعد آنکھ جھکا لے۔
Psychology Rule
"خیال آنا گناہ نہیں، خیال کو گھر بسانا گناہ ہے"
MEDICAL
- جسم پر اثر
"آنکھ، دماغ اور ہارمونز کا کھیل"
1. Dopamine Rush
جب آنکھ کسی حسین منظر پر پڑتی ہے تو دماغ فوراً Dopamine چھوڑتا ہے۔ یہ "خوشی کا ہارمون" ہے۔ بار دیکھنے سے دماغ اس کا عادی ہو جاتا ہے = نشہ۔
2. Cortisol اور Stress
جو مرد نظر کو قابو نہیں کرتا، وہ لاشعوری guilt میں رہتا ہے۔ نتیجہ: BP، بے خوابی، چڑچڑا پن۔ شرم سے نظریں جھکانے والا سکون کی نیند سوتا ہے۔
3. دماغ کی تربیت
Medical سائنس کہتی ہے "Neuroplasticity" کے ذریعے دماغ کو ٹرین کیا جا سکتا ہے۔ روز 40 دن آنکھ جھکانے کی پریکٹس کریں، 41ویں دن دماغ خود بخود نظر ہٹا دے گا۔
Medical Truth
"آنکھ کا روزہ رکھنے والا، دل کا مریض نہیں بنتا"
SOCIAL
- سماجی حقیقت
"شریف معاشرہ نظر سے بنتا ہے"
1. محرم و نامحرم کا فرق
معاشرہ تب خراب ہوتا ہے جب "سب جائز" سمجھ لیا جائے۔ ماں، بہن، بیوی پر نظر = محبت۔ نامحرم پر ٹکی ہوئی نظر = بے حیائی کی شروعات۔
2. عورت کا احترام
شریف مرد کی پہچان یہ ہے کہ وہ عورت کے جسم سے پہلے اس کے کردار، عزت، دماغ کو دیکھے۔ جسم 20 سال کا مہمان ہے، کردار قبر تک کا ساتھی۔
3. بچوں کی تربیت
باپ اگر بازار میں نظریں جھکا کر چلے گا تو بیٹا بھی سیکھے گا۔ باپ اگر گھورتا پھرے گا تو بیٹی کو بھی تحفظ نہیں ملے گا۔
Social Fact
"جس بازار کی دیواریں نظروں سے محفوظ ہوں، وہاں عزتیں محفوظ رہتی ہیں"
ISLAMIC
- اسلام کا قانون
"غض بصر - نظر کی حفاظت"
1. قرآن کا حکم
اللہ نے پہلے مرد کو حکم دیا "قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ" - ایمان والوں سے کہو اپنی نظریں نیچی رکھیں۔ عورت سے پہلے مرد کو خطاب ہوا۔
2. شریف کی تعریف
اسلام میں شریف وہ نہیں جس کی نظر کبھی نہ اٹھے۔ شریف وہ ہے جس کی نظر اٹھے تو فوراً جھک جائے۔ تقویٰ کا مطلب بے حسی نہیں، کنٹرول ہے۔
3. حجاب دو طرفہ
عورت کے پردے کے ساتھ مرد کے پردے کا حکم بھی ہے۔ مرد کا پردہ اس کی آنکھ ہے۔
4. قیامت کا انعام
حدیث: "جو اللہ کے ڈر سے نظر جھکا دے، اللہ اسے ایسا ایمان دے گا جس کی مٹھاس وہ دل میں محسوس کرے گا"۔ نظر کی حفاظت = دل کی مٹھاس۔
Islamic Principle
نظر شیطان کا زہر آلود تیر ہے۔ جو بچ گیا وہ ولی بن گیا
ڈاکٹر طارق کا 3 نکاتی علاج
"نظر کو کیسے قابو کریں؟"
1. فوری عمل
نظر پڑے تو فوراً "استغفراللہ" پڑھ کر رخ موڑ لیں۔ 3 سیکنڈ سے زیادہ نہ دیکھیں۔ یہ "Emergency Brake" ہے۔
2. مثبت مصروفیت
فارغ دماغ شیطان کی دکان ہے۔ تلاوت، ورزش، ہنر سیکھیں۔ مصروف مرد کی نظر کم بھٹکتی ہے۔
3. دعا
روز "اللهم ارزقني غض البصر وحفظ الفرج" پڑھیں۔ اللہ سے مانگیں، وہ دل اور آنکھ دونوں کا مالک ہے۔
آخری لکیر
شریف وہ نہیں جسے برا لگتا ہی نہیں، شریف وہ ہے جسے برا لگے تو وہ رک جائے۔ نظر کا امتحان روز ہے، اور اس میں پاس ہونے والا ہی اصل مرد ہے۔
Dr Tarique Hussain Soomro Larkana..

21/06/2026

*✍️ حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:*
*"ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے، پھر اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے۔ اُس کے نزدیک سب سے زیادہ مقرب وہ ہوتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ برپا کرے۔ اُن میں سے ایک آ کر کہتا ہے: 'میں نے یہ یہ کام کیا ہے۔' شیطان کہتا ہے: 'تو نے کوئی بڑا کام نہیں کیا۔' پھر دوسرا آتا ہے اور کہتا ہے: 'میں نے میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال کر ہی چھوڑا ہے۔' تو شیطان اسے اپنے قریب کر لیتا ہے اور کہتا ہے: 'ہاں! تو نے بڑا کام کیا ہے۔'"*

*(مسلم، رقم: 2813) ۔!!!🌴*

*☚ خــوش رہیں، خــوشیاں بانٹیں ۔🌱*

*_مثبت لفظ، مثبت جملہ، مثبت سوچ شئیر کریں... آپ کا دل سے نکلا ہوا ایک لفظ، ایک جملہ کسی کے بھی دل کی دنیا میں اتر جائے اور آپ کے لئے صدقہ جاریہ بن جائے...!!!_*

21/06/2026

ابلیس کے اندر ایسی کون سی ایک بیماری تھی جس نے اسکی عبادت کو تباہ کر دیا؟

اور کیا وہی بیماری آج بھی ہمارے دلوں میں چھپی ہوئی ہے؟

یہ تحریر شاید آپ کو ابلیس کے بارے میں نہیں، بلکہ اپنے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دے...

القرآن - سورۃ نمبر 2 البقرةt
آیت نمبر 34

ترجمہ:
پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے جُھک جاوٴ، تو سب جُھک گئے، مگر ابلیس نے انکار کیا وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑگیا اور نافرمانوں میں شامل ہوگیا۔

**ابلیس کا سب سے بڑا گناہ: تکبر**

جب ہم ابلیس کی کہانی پڑھتے ہیں تو بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس نے صرف ایک حکم کی نافرمانی کی تھی، لیکن قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اصل مسئلہ نافرمانی نہیں بلکہ **تکبر** تھا۔

﴿أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ﴾

"اس نے انکار کیا، تکبر کیا، اور کافروں میں شامل ہوگیا۔"

یہاں ایک بہت اہم سوال پیدا ہوتا ہے: آخر ابلیس کو حضرت آدمؑ سے حسد کس بات پر ہوا؟ نہ آدمؑ کو کوئی خزانہ دیا گیا تھا، نہ کوئی سلطنت، نہ کوئی دنیاوی انعام۔ پھر وہ کون سی چیز تھی جسے ابلیس برداشت نہ کر سکا؟

جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو ایک **امتیاز (Recognition)** عطا فرمایا۔ اللہ نے فرشتوں کے سامنے ان کے علم کو ظاہر کیا، ان کی صلاحیت کو نمایاں کیا، اور انہیں سجدے کے ذریعے ایک خاص مقام عطا کیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جسے ابلیس برداشت نہ کر سکا۔

تاریخ کا پہلا حسد دولت پر نہیں تھا، بلکہ **عزت اور پہچان** پر تھا۔

اور اگر ہم اپنے معاشرے کو دیکھیں تو آج بھی یہی بیماری زندہ ہے۔ جب کسی ایک شخص کو زیادہ اہمیت ملتی ہے، کسی کو تعریف ملتی ہے، کسی کو کامیابی ملتی ہے، کسی کو عزت ملتی ہے، تو بہت سے لوگ اس کی خوشی میں خوش ہونے کے بجائے اندر ہی اندر بے چین ہونے لگتے ہیں۔

یہی کیفیت بہن بھائیوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے، دوستوں میں بھی، کام کی جگہوں پر بھی، اور بعض اوقات دینی حلقوں میں بھی۔

تکبر ہمیشہ زبان پر نہیں آتا۔

قرآن نے ابلیس کے بارے میں "استکبر" کا لفظ استعمال کیا۔ یعنی تکبر اس کے دل میں تھا۔ وہ اپنے آپ کو آدمؑ سے بہتر سمجھتا تھا، حالانکہ اس نے شاید کبھی یہ دعویٰ کھل کر نہیں کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کو صرف اپنی زبان نہیں بلکہ اپنے دل کی بھی نگرانی کرنی چاہیے۔

ممکن ہے انسان عاجزی کی باتیں کرے، لیکن دل میں یہ احساس رکھتا ہو کہ "میں دوسروں سے بہتر ہوں۔"

اور یہی وہ بیماری ہے جو انسان کو حق قبول کرنے سے روک دیتی ہے۔

بعض دفعہ علم حاصل کرنے کے بعد انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اب وہ دوسروں سے بہتر ہو گیا ہے۔

کبھی حافظِ قرآن ہونے کا غرور،
کبھی عالم ہونے کا غرور،
کبھی داعی ہونے کا غرور،
کبھی نیکی کرنے کا غرور۔

یہ وہ مقام ہے جہاں ابلیس کی بیماری دوبارہ جنم لیتی ہے۔

یاد رکھیے!

دین کا علم انسان کو بڑا بنانے کے لیے نہیں آتا، بلکہ جھکانے کے لیے آتا ہے۔

اگر علم کے بعد عاجزی بڑھ رہی ہے تو یہ علم نافع ہے۔
اگر علم کے بعد خود پسندی بڑھ رہی ہے تو خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔

شاید اسی لیے بعض سلف فرمایا کرتے تھے:

"جتنا میرا علم بڑھتا گیا، اتنا ہی مجھے اپنی جہالت کا احساس ہوتا گیا۔"

ابلیس نے اللہ تبارک و تعالی کی بے پناہ عبادت کی، لیکن ایک لمحے کے تکبر نے سب کچھ برباد کر دیا۔

اس لیے انسان کو گناہوں سے جتنا ڈرنا چاہیے، اس سے کہیں زیادہ اپنے دل میں پیدا ہونے والے غرور سے ڈرنا چاہیے۔

کیونکہ گناہ کرنے والا انسان توبہ کر سکتا ہے، لیکن متکبر انسان اکثر یہ سمجھتا ہی نہیں کہ اسے توبہ کی ضرورت ہے۔

اور یہی تکبر کی سب سے خطرناک شکل ہے۔




21/06/2026

🌿 قرآنِ پاک کی تلاوت دلوں کو سکون، روح کو تازگی اور زندگی کو روشنی عطا کرتی ہے۔
آئیے اللہ تعالیٰ کے کلام سے اپنا تعلق مضبوط بنائیں اور اس کے پیغام کو سمجھ کر اپنی زندگی سنواریں۔ 🤍

19/06/2026

📖✨ قرآنِ کریم کی تلاوت دلوں کو سکون، روح کو روشنی اور زندگی کو ہدایت عطا کرتی ہے۔
آئیے روزانہ کچھ وقت قرآن کے ساتھ گزاریں اور اللہ تعالیٰ کے کلام سے اپنا تعلق مضبوط بنائیں۔ 🤍

19/06/2026

کہا جاتا ہے کہ:شیطان کو سب سےزیادہ وہ بندہ تھکاتا ہے جو قرآن کی طرف متوجہ ہو!

​امام ابن مفلحؒ فرماتے ہیں:

​"رہا قرآن، تو وہ سب سے بڑی شفا اور بہترین دوا ہے۔ ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے سوال کرتےہیں کہ وہ ہمیں اپنے فضل و رحمت سےقرآن والوں میں شامل فرمائے۔

[الآداب الشرعية: 3/39]

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Street 2
Lahore
54700