سپریم کورٹ آف پاکستان نے اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ ریٹائرمنٹ یا استعفے کے بعد پنشن اور دیگر پنشنری فوائد سرکاری ملازم کا قانونی حق بن جاتے ہیں، اور صرف تاخیر سے درخواست دینے کی بنیاد پر یہ حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ پنشن کے دعوے پر نہ تو (غیر ضروری تاخیر) کا اصول لاگو ہوتا ہے اور نہ ہی محض تاخیر کو نااہلی کا سبب بنایا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ اگر کوئی سرکاری ملازم ایک سرکاری ملازمت چھوڑ کر ایسی دوسری ملازمت اختیار کرے جہاں سابقہ سروس شمار کرنے کی گنجائش ہو تو مخصوص شرائط کے تحت اس کی سابقہ ملازمت بھی پنشن کے لیے شمار کی جا سکتی ہے۔ یہ فیصلہ پنشنرز کے حقوق کے تحفظ اور سرکاری اداروں کی غلط تشریح کے خلاف ایک اہم نظیر ہے۔
2026 SCMR 429
Adv Usama Akbar Gill
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Adv Usama Akbar Gill, Office 31, 3rd Floor Sadiq Plaza Mall Road, Lahore.
Where Legal Expertise Meets Trusted Advocacy ⚖️
Criminal | FIA | Family | Civil | Banking | Anti-Terrorism
Agreements • Contracts • Legal Drafting • Dispute Resolution
Bail Matters • Court Representation • Legal Consultancy
🤙 03076753065
**نور محمد بنام ریاست وغیرہ
Cr.M No. 326-A of 2026**
1۔ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 371-A اور 371-B کا مقصد انسانی خرید و فروخت، کرایہ پر دینے، جسم فروشی کے لیے استحصال اور تجارتی بنیادوں پر جنسی استحصال کی روک تھام ہے۔ صرف یہ الزام کہ مرد اور عورت ایک نجی مکان میں موجود تھے، ان دفعات کے اطلاق کے لیے کافی نہیں، جب تک خرید و فروخت، کرایہ داری، اسمگلنگ یا جسم فروشی کے لیے تجارتی استحصال کے واضح شواہد موجود نہ ہوں۔
2۔ نجی رہائش گاہ پر سرچ وارنٹ کے بغیر پولیس چھاپہ اور معزز گواہوں کو شامل نہ کرنا آئین کے آرٹیکلز 4، 9 اور 14 کے تحت حاصل شہریوں کے وقار، آزادی اور گھر کے تقدس سے متعلق سنگین آئینی سوالات پیدا کرتا ہے۔ عدالتوں پر لازم ہے کہ محض خفیہ اطلاع یا شبہ کی بنیاد پر پولیس کارروائیوں کے ذریعے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہونے دیں۔
3۔ جب ایف آئی آر میں جسم فروشی کے لیے خرید و فروخت، انسانی اسمگلنگ، کرایہ داری یا تجارتی استحصال کے الزامات موجود نہ ہوں اور مقدمہ صرف مخالف جنس کے افراد کی نجی مکان میں موجودگی پر مبنی ہو تو ایسا معاملہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(2) کے تحت مزید تفتیش کا متقاضی قرار پاتا ہے اور ملزمان رعایتِ ضمانت کے مستحق ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ اگر معاملہ صرف رضامندی سے قائم ہونے والے تعلق یا زنا تک محدود ہو تو اس کی کارروائی صرف دفعہ 203-C ضابطہ فوجداری کے تحت شکایت کے ذریعے کی جا سکتی ہے، نہ کہ دفعات 371-A اور 371-B تعزیراتِ پاکستان کے تحت ایف آئی آر درج کر کے۔
20/06/2026
الحمدللہ!
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج مورخہ 20 جون 2026 کو، ارشان نیاز کے خلاف پولیس کی جانب سے درج کیے گئے آٹھ (8) جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات میں کامیابی حاصل ہوئی۔ ماڈل ٹاؤن کورٹس، لاہور میں فاضل عدالت کے روبرو پیش ہو کر ہم نے دلائل دیے، جنہیں سماعت کے بعد عدالت نے درست تسلیم کرتے ہوئے آٹھوں ایف آئی ارز میں ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی ہے۔
ٹیم اللّٰہ بخش لغاری لا ایسوسی ایٹ
ایڈووکیٹ چوہدری اسامہ اکبر گل
ایڈووکیٹ مہر آصف جیون
ایڈووکیٹ سردار حسن خان لغاری
ایڈووکیٹ شعیب قیصرانی
ہماری قانونی خدمات آپ کے حقوق کے تحفظ کے لیے حاضر ہیں۔
03076753065
03016910408
20/06/2026
1. اگر استغاثہ یہ مؤقف اختیار کرے کہ منشیات گاڑی میں بنائی گئی خفیہ یا خصوصی خفیہ خانوں (Secret Cavities) سے برآمد ہوئی ہے تو اس دعوے کو محض زبانی گواہی کی بنیاد پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔
2. خفیہ خانوں کی موجودگی، محلِ وقوع، ساخت، حجم اور ان میں منشیات چھپانے کی صلاحیت ایسے مادی حقائق ہیں جنہیں بہترین دستیاب شہادت کے ذریعے ثابت کرنا ضروری ہے۔
3. ایسے مقدمات میں استغاثہ پر لازم ہے کہ جہاں ممکن ہو گاڑی کو عدالت میں پیش کرے، بصورت دیگر خفیہ خانوں کی واضح اور غیر مبہم تصاویر ریکارڈ پر لائے۔
4. تصاویر میں خفیہ خانوں کی کھلی اور بند حالت، ان کا درست مقام اور گاڑی کا رجسٹریشن نمبر واضح طور پر نمایاں ہونا چاہیے تاکہ گاڑی کی درست شناخت ممکن ہو سکے۔
5. گاڑی یا اس کی تصاویر پیش کرنے کا مقصد عدالت کو یہ موقع فراہم کرنا ہے کہ وہ خود جانچ سکے کہ خفیہ خانے واقعی موجود تھے اور مبینہ برآمدگی کو چھپانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
6. پولیس اہلکاروں کے محض دعوے، جن کی تائید کسی بصری یا مادی شہادت سے نہ ہو، فوجداری مقدمات میں مطلوبہ معیارِ ثبوت پورا نہیں کرتے۔
7. گاڑی یا اس کے فوٹوگرافک ریکارڈ کی عدم پیشی تفتیش کی شفافیت اور مقدمہ کے منصفانہ جائزے کے لیے ایک سنگین خلا (Lacuna) تصور ہوگی، خصوصاً جب مبینہ خفیہ خانہ ہی الزام کی بنیاد ہو۔
8. ایسی شہادت پیش نہ کرنے کی صورت میں استغاثہ کے مقدمہ پر سنجیدہ شبہات پیدا ہوتے ہیں اور جھوٹے پھنسائے جانے، مبالغہ آرائی یا بے جا اضافہ کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
**Criminal Petition No. 51 of 2023**
**Alam Khan vs. The State**
**Decided on: 09-06-2026**
درخواست ضمانت: معظم بنام ریاست
مقدمہ نمبر: Crl. Misc. No. 31715-B/2026 — ایف آئی آر نمبر 156/2026، تھانہ خیالی، گوجرانوالہ
**1.** ملزم معظم کو منشیات کے مقدمہ میں گرفتار کیا گیا، جس کے بعد اس پر مبینہ طور پر پولیس تشدد کا الزام سامنے آیا۔
**2.** پولیس نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ملزم گرفتاری سے بچنے کی کوشش میں فرار ہوا اور بجلی کے کھمبے سے ٹکرا گیا، جس کے باعث اسے چوٹیں آئیں۔
**3.** عدالتی ریکارڈ کے مطابق میڈیکل معائنہ تاخیر سے کروایا گیا جبکہ میڈیکل سرٹیفکیٹ کے اہم کالم (چوٹوں کی نوعیت اور وجہ) خالی چھوڑے گئے، جس پر عدالت نے سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا۔
**4.** میڈیکل دستاویزات مکمل نہ ہونے کی وجہ سے جیل حکام نے ملزم کو وصول کرنے سے انکار کیا، اور عدالت نے فیصلے کی کاپی ریجنل پولیس آفیسر (RPO) گوجرانوالہ کو ارسال کرنے کا حکم دیا تاکہ انکوائری اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔
**5.** لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ کسی بھی ملزم کو غیر قانونی حراست میں رکھنا، تشدد کرنا یا قانونی تقاضوں سے انحراف کرنا آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے۔
**6.** عدالت نے ملزم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے واضح کیا کہ تفتیش قانون کے مطابق ہوگی، تشدد یا غیر قانونی طریقہ کار کے ذریعے نہیں۔
19/06/2026
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان کا خواتین کے جائیدادوں میں وراثتی حقوق کے تحفظ کیلئے ملکی عدالتی تاریخ کا پہلا اور شاندار فیصلہ۔۔۔۔۔
وفاقی آئینی عدالت نے بی بی امینہ وغیرہ کیس میں خواتین کے وراثتی تنازعات میں راضی نامہ /تحریری مفاہمت کیلئے 13سخت قانونی اصول جاری کر دیئے
آئندہ تمام ملکی عدالتیں، ریونیو حکام خواتین کے وراثتی تنازعات میں درج ذیل اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کرینگے
پہلا حکم:تمام عدالتیں اورریونیو حکام خواتین کے وراثتی تنازعات کی دستاویزات پراعلی درجے کی احتیاط اور توجہ دیںگے
دوسرا حکم:کسی تحریری راضی نامہ والی دستاویز کی بنیاد پر انتقال وغیرہ (چاہے تصدیق شدہ ہی کیوں نہ ہو)تب تک درست تصور نہیں کیا جائیگا جب تک اس راضی نامہ کی رضامندی کا آزادانہ ثبوت نہ ہو اور راضی نامہ کے تمام اجزا بارے مکمل آگاہی نہ ہو۔
تیسرا حکم:وراثتی تنازعات میں خواتین کی تحریری مفاہمت /راضی نامہ کے آزادانہ ماحول میں ہونےکو ثابت کرنے کا بوجھ اس فریق پر ہوگا جو اس راضی نامے سے فائندہ لینے والا ہوگا۔
چوتھا حکم: تمام عدالتیں اس بات کو یقینی بنائیںگی کہ کیا ریکارڈ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ خواتین کے وراثتی تنازعات میں راضی نامہ یا وراثت سے دست برداری کی بابت کو خواتین کو مکمل آگاہی اور علم تھا۔
پانچواں حکم: یہ لازمی ثابت ہونا چاہیےکہ وراثتی تنازعات میں راضی نامہ لکھنے والی یا دستبرداری لکھنے والی خواتین کو تحریر سے قبل وراثتی حقوق اور تحریر کی بابت آزادانہ مکمل قانونی رہنمائی دستیاب تھی ۔
چھٹا حکم:وراثتی تنازعات کی مفاہمت کی جانچ پڑتال ایسے کی جائیگی کہ اس میں کسی قسم کا کوئی دبائو، سماجی برتری، فراڈ، غلط بیانی یا دبائو کا عنصر تو شامل نہیں تھا۔
ساتواں حکم:جہاں کہیں معاوضہ کا عنصر شامل ہو تو اس بات کو یقینی بنایا جائیگا کہ یہ معاوضہ خواتین قانونی طریقے سے واقعی ہی ملا ہے اور معاوضہ مناسب اور حقیقی ہے کہ نہیں۔
آٹھواں حکم:جو بھی دستاویز لکھی جائیگی، اس دستاویز کے تمام عناصر یا اجزا عام فہم زبان بالخصوص اس زبان میں ہوگی جو خواتین کیلئے آسانی سے سمجھ آنے والی ہو۔
نواں حکم:عدالتی اس امر کی تصدیق کرینگی کہ راضی نامہ یا مفاہمت لکھنے والی خواتین کوجلد بازی یا دبائو کے بغیرمشاورت کا مناسب موقع فراہم کیا گیا ہے۔
دسواں حکم :ہر اس ٹرانزیکشن کو سختی سے مسترد کیا جائیگا جو شعوری نہ ہو، غیرمناسب ہو اور خاتون وارث کے حق متاثر کرتی ہے، تاوقت یہ کہ اس کیخلاف ٹھوس شہادت نہ آ جائے۔
گیارہواں حکم:خواتین کے وراثتی تنازع کے اردگرد کے تمام مشکوک حالات و اقعات کو فائدہ لینے والا قابل اطمینان وضاحت کرے گاورنہ وہ مشکوک حالات اور واقعات فائدہ لینے والے کیخلاف پڑھے جائیں گے۔
بارہواں حکم:خواتین کے وراثتی تنازعات میں انہیں وراثتی حقوق سے مفاہت کے ذریعے دستبربرداری کی بابت فیصلہ دینے سے پہلے عدالتیں لازمی طور پر خواتین کی رضامندی اور آگاہ شدہ آگاہی کی بابت اپنی مثبت فائنڈنگ ریکارڈ کرینگی۔
تیرہواں حکم: تمام ریونیو حکم وراثتی انتقالات درج کرنے سے پہلے آئینی عدالت کے ان12احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں گی۔
18/06/2026
🚨 نان فائلرز کے لیے آخری سنہری موقع!
فنانس بل کی منظوری کے بعد لیٹ فائلر بننے کی فیس **Rs. 1,000** سے بڑھ کر **Rs. 25,000** ہونے جا رہی ہے۔
اگر آپ نے ابھی تک اپنی ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کی تو آج ہی اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور بھاری جرمانوں سے بچیں۔
✅ انکم ٹیکس ریٹرن فائلنگ
✅ نان فائلر سے فائلر اسٹیٹس
✅ پراپرٹی اور بینکنگ معاملات میں آسانی
✅ پروفیشنل قانونی و ٹیکس رہنمائی
✅ تیز، آسان اور قابل اعتماد سروس
آج ہی اپنی ٹیکس ریٹرن فائل کروائیں اور مالی سال 2026ء کے لیے خود کو محفوظ بنائیں۔
1️⃣ اگر مسلمان مرد کسی عیسائی یا اہلِ کتاب خاتون سے قانونی طور پر شادی کرے تو ایسی شادی قانوناً معتبر اور قابلِ نفاذ ہوتی ہے۔
2️⃣ طلاق، مذہب کی تبدیلی یا نکاح کے بارے میں صرف زبانی دعویٰ قانونی ثبوت نہیں بنتا؛ دعویٰ کرنے والے پر ثبوت پیش کرنا لازم ہے۔
3️⃣ جب طلاق کا دعویٰ متنازع ہو تو عدالت مضبوط، قابلِ اعتماد اور آزاد شہادت کا تقاضا کرتی ہے۔
4️⃣ اگر طلاق نامہ یا کوئی اور دستاویز حالات و واقعات سے مطابقت نہ رکھتی ہو تو عدالت اسے مسترد کر سکتی ہے۔
5️⃣ Handwriting Expert کی رائے معاون ثبوت ہے، فیصلہ کن ثبوت نہیں۔ عدالت تمام حالات کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرتی ہے۔
6️⃣ اسلام قبول کرنے کا دعویٰ صرف ذاتی بیان سے ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے معتبر اور آزاد شہادت درکار ہوتی ہے۔
7️⃣ اگر تبدیلیِ مذہب کا دعویٰ مکمل رازداری میں کیا جائے اور کوئی آزاد گواہ موجود نہ ہو تو عدالت اس کا سخت جائزہ لیتی ہے۔
8️⃣ جب تک پہلی شادی قانونی طور پر ختم ہونا ثابت نہ ہو، دوسری شادی قانونی تحفظ حاصل نہیں کر سکتی۔
9️⃣ کسی بھی نئے نکاح سے قبل سابقہ نکاح کے خاتمے کا قانونی ثبوت ہونا لازمی ہے۔
🔟 طلاق کے معاملات میں قانون کی مقرر کردہ شرائط اور طریقہ کار پر عمل ضروری ہے۔
1️⃣1️⃣ طلاق کے مؤثر ہونے کے لیے قانونی تقاضوں کی تکمیل انتہائی اہم ہے؛ صرف طلاق کا دعویٰ کافی نہیں۔
1️⃣2️⃣ خاندانی تنازعات میں قانون مصالحت اور مفاہمت کے مواقع فراہم کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔
1️⃣3️⃣ دفعہ 497 اور 498 PPC کے مقدمات میں سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ عورت قانونی طور پر کس کی زوجہ ہے۔
1️⃣4️⃣ عدالت ہر دستاویز، بیان اور شہادت کو مجموعی حالات کے ساتھ پرکھتی ہے۔
1️⃣5️⃣ اعلیٰ عدالتوں نے واضح کیا کہ ماتحت عدالتوں پر غیر ضروری تنقید عدالتی روایات کے خلاف ہے۔
1️⃣6️⃣ عدالت ہمدردی، قیاس آرائی یا مفروضات کے بجائے قانونی شہادت کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے۔
1️⃣7️⃣ نکاح نامہ، طلاق نامہ، رجسٹریشن اور سرکاری ریکارڈ خاندانی مقدمات میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
1️⃣8️⃣ جو فریق کسی حق، طلاق، مذہب کی تبدیلی یا نکاح کا دعویٰ کرے گا، ثبوت پیش کرنے کی ذمہ داری اسی پر ہوگی۔
1️⃣9️⃣ قانونی تقاضوں سے بچنے کے لیے بنائے گئے مشکوک یا مصنوعی انتظامات عدالت میں قبول نہیں ہوتے۔
2️⃣0️⃣ نکاح، طلاق اور مذہب کی تبدیلی جیسے حساس معاملات میں عدالت صرف واضح، مضبوط اور قابلِ اعتماد ثبوت کی بنیاد پر ہی قانونی حیثیت تسلیم کرے گی۔
Syed Ali Nawaz Gardezi vs. Lt. Col. Muhammad Yousaf
PLD 1963 SC 51
17/06/2026
• کمپنی رجسٹریشن (SECP)
• انکم ٹیکس ریٹرنز
• سیلز ٹیکس رجسٹریشن و کمپلائنس
• NTN رجسٹریشن
• ٹریڈ مارک رجسٹریشن
• کارپوریٹ کمپلائنس و سالانہ فائلنگ
• لیگل ڈرافٹنگ و کنٹریکٹ ریویو
• FBR امور میں رہنمائی
اعتماد • مہارت • پیشہ ورانہ خدمات
اپنے ٹیکس اور قانونی معاملات کے لیے رابطہ کریں
03076753065
03127396654
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Website
Address
Office 31, 3rd Floor Sadiq Plaza Mall Road
Lahore
51420