Suit for partial partition---😙 Maintainability---Scope---A party choosing to seek partition should not have the liberty to selectively choose and acquire a share in the more valuable aspects of the joint holdings while simultaneously excluding those portions of lesser value---Each co-owner possesses ownership rights over every inch of the joint holding corresponding to their share---Therefore, it is inappropriate for any part of the joint holding to be permitted for separate partition---This principle is rooted in the need to protect all co-owners from potential discrimination and inequity---As a result, the entire property corpus is aggregated into a common pool, overseen by the Court, which ensures that each co-owner receives their allocated share fairly, based on the relative value of the properties, taking into account their area, location, and nature.
LLB notes
A place where law students learn,
lawyers evolve,
and curious minds fall in love
with new legal words and laws every day.
13/06/2026
Police Register No 6
Miscellaneous Register
13/06/2026
🚨سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کوڈ آف کنڈکٹ میں ترامیم کر دیں۔
📌کوڈ آف کنڈکٹ کا اطلاق اب وفاقی آئینی عدالت اور وفاقی شرعی عدالت ججز پر بھی ہو گا۔
📌کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت ججز کے سوشل کلچرل، پولیٹیکل، ڈپلومیٹک فنکشنز میں شامل ہونے پر پابندی
✅ترمیم کے بعد ججز صرف سیاسی اور ڈپلومیٹک فنکشنز میں چیف جسٹس کی اجازت سے شمولیت کر سکیں گے
🚨کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 15 کے پیرا 2 اور 3 میں ترمیم کر کے وفاقی آئینی عدالت کا نام بھی شامل کردیا گیا ہے
(13-Jun-2026).
13/06/2026
3۔ خواتین وارثوں کے شرعی حقوق
عدالت نے سپریم کورٹ کے نظائر کی روشنی میں قرار دیا کہ خواتین کو وراثتی حقوق سے محروم کرنا ایک قابلِ مذمت سماجی رویہ ہے، جس کی قانون ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ خواتین وارث نہ صرف اپنے شرعی حصے کی حق دار ہیں بلکہ اگر انہیں جائیداد کے قبضے اور استعمال سے محروم رکھا گیا ہو تو وہ منافعِ ایامِ قبضہ (Mesne Profits) کی بھی مستحق ہو سکتی ہیں۔
اصولِ قانون (Legal Principle):
جو فریق سابقہ عدالتی کارروائی میں اختیار کیے گئے مؤقف سے فائدہ اٹھا چکا ہو، وہ بعد میں اس کے برعکس مؤقف اختیار نہیں کر سکتا؛ نیز خواتین وارثوں کے شرعی حقوق کے تحفظ اور ان کی مؤثر عملداری کو عدالتیں خصوصی اہمیت دیتی ہیں۔
13/06/2026
خواتین کے شرعی وراثتی حقوق، استحکام
اور لوکل کمیشن کی حدود
پس منظر:
جواب دہندہ نمبر 1 (مدعیہ) نے اپنے دادا زر مست خان کی جائیداد میں شرعی حصہ طلب کرتے ہوئے دعویٰ دائر کیا۔ بعد ازاں اس نے اپنے والد میر فیاض کی جائیداد میں بھی اپنے قانونی و شرعی حصے کا مطالبہ کیا۔ درخواست گزار، جو اس کے بھائی تھے، نے اس کے حقِ وراثت کو اصولی طور پر تسلیم کیا، تاہم مؤقف اختیار کیا کہ پہلے تمام جائیداد کی تقسیم اور تعین ہونا ضروری ہے۔
قانونی نکات:
1۔ استحکام (Estoppel):
عدالت نے قرار دیا کہ کوئی فریق ایک مقدمے میں اختیار کیے گئے مؤقف سے مکر کر دوسرے مقدمے میں اس کے برعکس مؤقف اختیار نہیں کر سکتا۔ چونکہ سابقہ مقدمے میں یہی فریق یہ موقف اختیار کر چکے تھے کہ "زر مست خان کی وفات کے وقت ان کے نام کوئی جائیداد موجود نہیں تھی"، لہٰذا انہیں اب اس کے برخلاف دعویٰ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ایسا طرزِ عمل قانونِ استحکام کے اصول کے منافی ہے۔
2۔ لوکل کمیشن کی تقرری کی حدود:
درخواست گزاروں نے جائیداد کی نوعیت، مقدار اور مالیت کے تعین کے لیے لوکل کمیشن مقرر کرنے کی استدعا کی، لیکن عدالت نے اسے مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ:
- لوکل کمیشن کا مقصد فریقین کے لیے ثبوت اکٹھا کرنا یا ان کی شہادت میں موجود خامیوں کو پورا کرنا نہیں ہوتا؛
- جب متعلقہ حقائق براہِ راست شواہد سے ثابت ہو چکے ہوں تو کمیشن کی تقرری غیر ضروری ہے؛
- چونکہ یہ امر پہلے ہی ثابت ہو چکا تھا کہ دادا کی وفات کے وقت ان کے نام کوئی قابلِ تقسیم جائیداد موجود نہیں تھی، اس لیے کمیشن مقرر کرنے کی ضرورت نہ تھی۔
3۔ خواتین وارثوں کے شرعی حقوق:
عدالت نے سپریم کورٹ کے نظائر کی روشنی میں قرار دیا کہ خواتین کو وراثتی حقوق سے محروم کرنا ایک قابلِ مذمت سماجی رویہ ہے، جس کی قانون ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ خواتین وارث نہ صرف اپنے شرعی حصے کی حق دار ہیں بلکہ اگر انہیں جائیداد کے قبضے اور استعمال سے محروم رکھا گیا ہو تو وہ منافعِ ایامِ قبضہ (Mesne Profits) کی بھی مستحق ہو سکتی ہیں۔
فیصلہ:
پشاور ہائیکورٹ نے درخواستِ نظرثانی مسترد کرتے ہوئے ماتحت عدالت کے احکامات برقرار رکھے اور ہدایت کی کہ فائنل ڈگری (Final Decree) کے تمام مراحل دو ماہ کے اندر مکمل کیے جائیں تاکہ مدعیہ کو اس کا جائز اور شرعی حق بروقت فراہم کیا جا سکے۔
اصولِ قانون (Legal Principle):
جو فریق سابقہ عدالتی کارروائی میں اختیار کیے گئے مؤقف سے فائدہ اٹھا چکا ہو، وہ بعد میں اس کے برعکس مؤقف اختیار نہیں کر سکتا؛ نیز خواتین وارثوں کے شرعی حقوق کے تحفظ اور ان کی مؤثر عملداری کو عدالتیں خصوصی اہمیت دیتی ہیں۔
13/06/2026
پشاور ہائی کورٹ کی طرف سے تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز / ضلعی قاضیوں کو بھیجا گیا ہے۔ اس میں حکم دیا گیا ہے کہ ضلعی عدلیہ کے ماتحت دفتری عملہ (ministerial establishment) دفتری اوقات میں اسمارٹ فون استعمال نہ کرے۔ تمام عملہ اپنے موبائل فون اپنے انچارج/برانچ ہیڈ کے پاس جمع کرائے گا۔ کورٹ سے منسلک عملہ اپنے موبائل فون پریسائیڈنگ آفیسر کے مقرر کردہ کسی اہلکار کے پاس رکھے گا۔ کسی گھریلو ضرورت کے لیے عملہ سے متعلقہ دفتر یا عدالت کے لینڈ لائن نمبر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ رجسٹرار نے ان احکامات کی سختی سے تعمیل کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
12/06/2026
Register Number 5
Correspondence
رجسٹر نمبر 5
خط و کتابت
PLJ 2026 Cr.C. 290
[Lahore High Court] 😑
If place of occurrence alleged by the prosecution has not been proved during trial of the case, then it is fatal for the case of prosecution.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Telephone
Website
Address
53 Parkin Street
Mingora
M125RL