21/06/2026
انسان کی غفلت کے باوجود بھی مالک کریم کی شفقت اس پہ رہتی ہے۔۔۔۔
سورۃ البقرة
آیت نمبر 64
تفسیر:
پھر تم اس سب کے بعد پھر گئے۔ یہ خطاب ظاہر ہے کہ زمانہ نزول قرآن کے بنی اسرائیل سے ہے درآنحالیکہ یہ فعل اعراض ان کے پہلوں سے صادر ہوا تھا اور یہ لوگ اس راہ میں موجد نہیں بلکہ اپنے اگلوں کے مقلد تھے۔ یہ طرز خطاب اس حقیقت کی طرف نہایت بلیغ اشارہ کر رہا ہے کہ اگر اخلاف گمراہی یا ہدایت کے معاملہ میں ٹھیک ٹھیک اپنے اسلاف کے نقش قدم ہی پر چل رہے ہوں تو ان کی تاریخ اور ان کے اسلاف کی تاریخ گویا ایک ہی ہے۔ اسلاف کے افعال بے تکلف اخلاف کی طرف بھی منسوب ہوں گے اور اخلاف کی گمراہیوں کی تاریخ اسی وقت سے شروع ہو گی جب سے ان کے اسلاف نے اس برائی کی اپنے معاشرے میں طرح ڈالی۔
مِنْ بَعْدِ ذٰلِكَ کا ترجمہ ہم نے اس سب کے بعد کیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ عربی زبان اور قرآن میں اس اسلوب کے استعمالات سے واضح ہوتا ہے کہ ذٰلِكَ جب اس طرح استعمال ہوتا ہے تو اوپر بیان کی ہوئی پوری سرگزشت کی طرف ایک جامع اشارہ کر دیتا ہے۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ تورات کی پابندی کا میثاق باندھ چکنے، خدا کا جلال دیکھ لینے اور تمام تنبیہات وتہدیدات سے اچھی طرح واقف ہو چکنے کے بعد تمہارے اسلاف نے اس عہد سے منہ موڑا اور تم نے اس معاملہ میں ٹھیک ٹھیک انہی کی روش کی تقلید کی۔
فَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ الآیہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تمہارے اعمال وافعال تو شروع ہی سے ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دھتکار دیتا لیکن یہ محض اس کا فضل اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس نے تمہیں آج تک مہلت دی۔ اس کے اس فضل و رحمت کا حق یہ ہے کہ اس کے شکرگزار بنو اور اپنی اس روش کو درست کرو لیکن تم الٹے اپنی اس روش پر فخر کر رہے ہو۔ اور اس فخر میں مبتلا ہو کر اس آخری موقع کو بھی ضائع کرنا چاہتے ہو جس کے بعد تمہارے لئے اصلاح حال کا کوئی موقع بھی باقی نہیں رہے گا۔
تدبر قرآن
مفسر: مولانا امین احسن اصلاحی
Daily Quran and Hadees #قرآن
20/06/2026
خدا کی شریعت اسکے بندوں اور خدا کے درمیان ایک معاہدہ ہوتی ہے اور وعدے کے بارے میں ضرور پرسش ہو گی۔۔۔۔
سورۃ البقرة
آیت نمبر 63
تفسیر:
مَوثِق اور میثاق کے معنی عہدوپیمان کے ہیں۔ اس لفظ کی روح وثوق اور استحکام ہے اس وجہ سے یہ خاص طور پر اس عہدوپیمان کے لئے استعمال ہوتا ہے جو کسی اہم معاملہ کے لئے پورے شعور اور پورے احساس ذمہ داری کے ساتھ باندھا گیا ہو اور جس کی وفاداری کا تاکید کے ساتھ اظہار و اقرار کیا گیا ہو۔ یہاں اس سے مراد وہ عہد ہے جو بنی اسرائیل سے تورات کی پابندی کا لیا گیا۔ شریعت الہٰی خدا اور بندوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوتی ہے اس وجہ سے اس کو میثاق سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
یہ پہاڑ ان کے سروں پر لٹکا دینا بنی اسرائیل کو معاہدہ پر مجبور کرنے کے لئے نہیں تھا اگر وہ یہ معاہدہ نہیں کرتے ہیں تو اس پہاڑ سے کچل کر رکھ دئیے جائیں گے، معاہدہ کو قبول کرنا یا نہ کرنا ایک امر اختیاری ہے۔ دین کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے زبردستی اور جبر کو پسند نہیں فرمایا ہے جو کچھ ہوا وہ محض اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے جلال کا ایک مظاہرہ تھا تاکہ بنی اسرائیل اس بات کو یاد رکھیں کہ جس خدا کے ساتھ وہ شریک معاہدہ ہو رہے ہیں وہ کوئی کمزور اور بے اختیار ہستی نہیں ہے بلکہ اس کی قدرت بے پناہ ہے۔ معاہدہ کی پابندی کی شکل میں جس طرح دنیا اور آخرت دونوں میں اس کے انعامات کی کوئی حد نہیں ہے اسی طرح اس کی خلاف ورزی کی صورت میں اس کے غضب کی بھی کوئی حد نہیں ہے۔ وہ طور جیسے عظیم پہاڑ کو ان کے سروں پر لٹکا سکتا اور اس سے ان کو کچل کے رکھ دے سکتا ہے۔
خُذُوۡا مَآ اٰتَيْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوۡا مَا فِيۡهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوۡنَ: یعنی اس تورات کا جو تمہارے لئے اللہ کا ایک عظیم عطیہ ہے پوری مضبوطی اور پوری عزیمت کے ساتھ لو اور زندگی کے تمام مراحل میں پورے استقلال اور پوری پامردی کے ساتھ اس کے احکام اور اس کی ہدایات کو نباہو۔ اس کے احکام نرم بھی ہیں اور سخت بھی، نیز اس کی ذمہ داری یُسر میں بھی ہے اور عُسر میں بھی، اس وجہ سے کمزور ہاتھوں اور ڈھیلے ارادوں کے ساتھ اس کا حق ادا نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لئے قوت اور عزیمت مطلوب ہے۔
وَاذْكُرُوۡا مَا فِيۡهِ: جو کچھ اس میں ہے اس کو یاد رکھو، سے مراد احکام وہدایات بھی ہیں اور خاص طور پر وہ تنبیہات اور تہدیدات بھی جو اس میثاق کی خلاف ورزی کے نتائج سے متعلق بنی اسرائیل کو سنا دی گئی تھیں۔ تورات میں بڑی تفصیل کے ساتھ ان کو آگاہ کر دیا گیا تھا کہ اگر وہ اس عہد پر قائم رہیں گے تو وہ زمین اور آسمان دونوں طرف سے خدا کا فضل پائیں گے اور اگر انہوں نے اس کی ناقدری کی تو دنیا اور آخرت دونوں میں اس کی سزا بھی بڑی ہی سخت ہو گی۔
لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوۡنَ: سے یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو، اس لئے کہ کتاب الہٰی کا اصل مقصد ہی راہ تقویٰ کی نشان دہی ہوتا ہے لیکن ہم نے موقع کلام اور سیاق وسباق کی روشنی میں اس سے خدا کے قہروغضب سے بچنا مراد لیا ہے۔ ہمارا ذہن اس طرف اس وجہ سے گیا ہے کہ اس سے پہلے ان کو خاص طور پر، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، ان تنبیہات وتحذیرات کو یاد رکھنے کی نصیحت کی گئی ہے جو تورات میں میثاق الہٰی کی خلاف ورزی کے نتائج سے متعلق اس کو سنائی گئی تھیں اور ان کے سنانے سے مقصود یہی تھا کہ وہ اپنی آئندہ زندگی میں خدا کے قہر وغضب سے محفوظ رہیں۔
تدبر قرآن
مفسر: مولانا امین احسن اصلاحی
20/06/2026
خدا کے ہاں فیصلہ کسی گروہ بندی کی بجائے ایمان اور عمل صالح کی بنیاد پہ ہو گا۔۔۔۔
سورۃ البقرہ
آیت نمبر 62
تفسیر:
اس آیت میں اس امر کی وضاحت فرمائی جا رہی ہے کہ نجات کا دارو مدار نسب اور قومیت پر نہیں بلکہ ایمان اور عمل پر ہے۔ یہود اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ ان کا عقیدہ کتنا بگڑا ہوا کیوں نہ ہو اور ان کے اعمال کتنے خراب کیوں نہ ہوں جنت ان کی ہے اور ان کے علاوہ جتنی قومیں ہیں وہ کتنی پاکباز کیوں نہ ہوں سب دوزخ کا ایندھن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس غلط فہمی کو نہایت صاف الفاظ سے دور کردیا۔ اور لطف یہ ہے کہ مخاطب مسلمانوں، یہودیوں، نصرانیوں اور صابیوں سب کو بنایا اور مسلمانوں کا ذکر پہلے کر کے انھیں تنبیہ فرما دی کہ مبادا تم بھی کہیں اپنی قومیت پر نازاں ہو کر ایمان وعمل سے غفلت برتنے لگو۔ نجات و فلاح ایمان وعمل کے بغیر حاصل نہیں ہو سکے گی۔
جو شخص ایک دین چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کرے اسے صابی کہتے ہیں اور اصطلاح میں ایک مذہبی فرقہ کا نام ہے جو شام و عراق کی سرحد پر آباد تھا۔ یہ لوگ توحید اور رسالت کے قائل تھے۔ حضرت عمر اور ابن عباس (رض) انھیں اہل کتاب سے شمار کرتے تھے اور ان کے ذبیحہ کو حلال فرماتے تھے۔
ضیاءالقرآن
پیر محمد کرم شاہ الازہری صاحب
Daily Quran and Hadees #قرآن
19/06/2026
کفران نعمت و نا شکری ہمیشہ انسان کو ذلت و پستی میں دھکیل دیتی ہے۔۔۔۔
سورۃ البقرة
آیت نمبر 61
ترجمہ:
اور جب تم نے کہا: اے موسیٰ! ہم فقط ایک کھانے (یعنی منّ و سلویٰ) پر ہرگز صبر نہیں کر سکتے تو آپ اپنے رب سے (ہمارے حق میں) دعا کیجئے کہ وہ ہمارے لئے زمین سے اگنے والی چیزوں میں سے ساگ اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز پیدا کر دے، (موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے) فرمایا: کیا تم اس چیز کو جو ادنیٰ ہے بہتر چیز کے بدلے مانگتے ہو؟ (اگر تمہاری یہی خواہش ہے تو) کسی بھی شہر میں جا اترو یقیناً (وہاں) تمہارے لئے وہ کچھ (میسر) ہو گا جو تم مانگتے ہو، اور ان پر ذلّت اور محتاجی مسلط کر دی گئی، اور وہ الله کے غضب میں لوٹ گئے، یہ اس وجہ سے (ہوا) کہ وہ الله کی آیتوں کا انکار کیا کرتے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے تھے، اور یہ اس وجہ سے بھی ہوا کہ وہ نافرمانی کیا کرتے اور (ہمیشہ) حد سے بڑھ جاتے تھے، ؏
19/06/2026
اللہ کریم کی طرف سے دی گئی ہر نعمت اسکے حق کی یاددہانی کراتی ہے۔۔۔۔
سورۃ البقرة
آیت نمبر 60
تفسیر:
یہ اس عظیم نعمت کا حق بیان ہوا ہے جس کا ذکر اوپر ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی ہر نعمت جو ہمیں حاصل ہوتی ہے زبان حال سے ہمیں اس حق کی یاد دہانی بھی کرتی ہے جو اس سے بہرہ مند ہونے کے سبب سے ہم پر عائد ہوتا ہے۔ یہ اس حق کی تعبیر ہے اور انسان کی فطرت اگر کفران نعمت کی سیاہی سے مسخ نہ ہو چکی ہوتی تو وہ اس حق سے انکار نہیں کر سکتا ہے۔ یہ اس کی فطرت ہی کی صدا ہے جو وحی الہٰی اس کے کانوں کو سنا رہی ہے۔
یہاں یہ نکتہ بھی ملحوظ رکھنے کا ہے کہ من وسلویٰ کے بعد صرف کُلُوا (کھاؤ) کا لفظ وارد ہوا ہے اس لئے کہ اس وقت تک بہتات کے ساتھ صرف غذا کا اہتمام فرمایا تھا۔ جب اسی بہتات اور فراوانی کے ساتھ پانی کا بھی انتظام فرما دیا تو کُلُوا کے ساتھ وَاشۡرَبُوۡا (اور پیو) کا بھی اضافہ کر دیا۔
تدبر قرآن
مفسر: مولانا امین احسن اصلاحی
Daily Quran and Hadees #قرآن
18/06/2026
اللہ کا عذاب بلا وجہ نہیں آتا۔۔۔۔
سورۃ البقرہ
آیت نمبر 59
تفسیر:۔
اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب کسی قوم پر بلاوجہ نہیں آتا بلکہ ان کی اپنی بد اعمالیوں کا طبعی نتیجہ ہوتا ہے۔
ضیاءالقرآن
پیر محمد کرم شاہ الازہری صاحب
Daily Quran and Hadees #قرآن
17/06/2026
جب کوئی فتح، کوئی کامیابی یا نعمت ملے تو ظالم و جابر بننے اور متکبر ہونے کی بجائے شکر گزاری اور عاجزی اختیار کرنی چاہئیے۔۔۔
سورۃ البقرہ
آیت نمبر 58
تفسیر:
اس میں اختلاف ہے کہ وہ بستی کون سی تھی اور کس زمانے میں بنی اسرائیل نے اسے فتح کیا۔ بائیبل کی تصریح یہ ہے۔ ” اس شہر کو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے اخیر زمانہ میں فتح کیا اور وہاں بڑی بدکاریاں کیں۔ جن کے نتیجہ میں خدا نے ان پر وبابھیجی اور 24 ہزار آدمی ہلاک کر دئیے “۔ (گنتی باب 25 آیت 1 ۔ 8)
ایک چیز قرآن کا معالعہ کرتے وقت ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے وہ یہ کہ قرآن جن واقعات کا ذکر کرتا ہے اس سے مقصود صرف عربت وموعظت ہوتی ہے اس سے اس واقعہ کی تاریخی حیثیت کا بیان مطلوب نہیں ہوتا۔ اس لیے قرآن ان واقعات کے صرف ان پہلوؤں کو بیان کرتا ہے جن میں درس عبرت ہو۔ عموماً غیر ضروری تفصیلات کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ جو لوگ قرآن حکیم کی اس خصوصیت کو ملحوظ نہیں رکھتے وہ قصص قرآنی میں تاریخی کتب کی طرح تفصیلات کا تسلسل اور زمان ومکاں کا تعین نہیں پاتے تو وہ طرح طرح کے شکوک و شبہات میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
انھیں ہدایت فرمائی جا رہی ہے کہ جب فاتحانہ طور پر شہر میں داخل ہونے لگیں تو دوسرے فاتحین کی طرح سرکش و مغرور ہو کر داخل نہ ہوں بلکہ دل میں عجزو تواضع اور زبان پر (حطۃ) طلب مغفرت کی دعائیں ہوں۔ جیسے فتح مکہ پہ حضور رسالت مآب کا کردار تھا۔
یہاں سجدہ کا لغوی معنی یعنی تذلل اور انکسار مراد ہے۔
ضیاءالقرآن
پیر محمد کرم شاہ الازہری
Daily Quran and Hadees #قرآن
16/06/2026
نعمت کی ناشکری خود اپنے آپ پہ ہی ظلم ہے۔۔۔۔
سورۃ البقرة
آیت نمبر 57
تفسیر:
یہاں کلام کا سیاق وسباق اس امر کو واضح کر رہا ہے کہ بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کی ان عظیم نعمتوں کا حق نہیں پہچانا۔۔ وہ ان نعمتوں کو پاکر شکرگزار بننے کے بجائے ان کی ناقدری اور خدا کی نافرمانی کرتے رہے۔ یہ بات چوں کہ سیاق کلام سے واضح ہے اس وجہ سے لفظوں میں ظاہر نہیں کی گئی بلکہ اس کی جگہ یہ بات کہہ دی گئی ہے کہ “انہوں نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے رہے”۔ اس فقرہ سے بنی اسرائیل کا ان نعمتوں سے متعلق رویہ بھی واضح ہو گیا ہے اور یہ بات بھی واضح ہو گئی ہے کہ جو لوگ خدا کی کسی نعمت کی ناقدری کرتے ہیں وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنا ہی بگاڑتے ہیں۔ یہ آخری بات اوپر کی باتوں کی طرح یہود کو براہ راست مخاطب کر کے کہنے کے بجائے ان سے منہ پھیر کر غائب کے صیغہ سے کہی گئی ہے جس سے ان کی طرف سے متکلم کی بیزاری کا اظہار ہو رہا ہے۔
تدبر قرآن
مفسر: مولانا امین احسن اصلاحی
Daily Quran and Hadees #قرآن
16/06/2026
عظیم ترین نعمت کے بعد ناشکری نعمت کے خاتمے کا سبب۔۔۔۔۔
سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 56
تفسیر:
یہ اشارہ جس واقعہ کی طرف ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ چالیس شبانہ روز کی قرارداد پر جب حضرت موسیٰ ؑ طُور پر تشریف لے گئے تھے، تو آپ ؑ کو حکم ہوا تھا کہ اپنے ساتھ بنی اسرائیل کے ستّر نمائندے بھی لے کر آئیں۔ پھر جب الله تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو کتاب اور فرقان عطا کی، تو آپ نے اسے ان نمائندوں کے سامنے پیش کیا۔ اس موقع پر قرآن کہتا ہے کہ ان میں سے بعض شریر کہنے لگے کہ ہم محض تمہارے بیان پر کیسے مان لیں کہ خدا تم سے ہم کلام ہوا ہے۔ اس پر الله تعالیٰ کا غضب نازل ہوا اور انہیں سزا دی گئی۔ لیکن بائیبل کہتی ہے کہ
”انہوں نے اسرائیل کے خدا کو دیکھا۔ اس کے پاؤں کے نیچے نیلم کے پتھر کا چبوترا تھا، جو آسمان کی مانند شفاف تھا۔
اور اس نے بنی اسرائیل کے شرفا پر اپنا ہاتھ نہ بڑھایا۔ سو انہوں نے خدا کو دیکھا اور کھایا اور پیا۔“ (خرُوج، باب 24۔ آیت 11-10)
لُطْف یہ ہے کہ اسی کتاب میں آگے چل کر لکھا ہے کہ جب حضرت موسیٰ ؑ نے خدا سے عرض کیا کہ مجھے اپنا جلال دکھا دے، تو اس نے فرمایا کہ تو مجھے نہیں دیکھ سکتا۔ (دیکھو خروج، باب 33۔ آیت 23-18)
تفہیم القرآن
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی
Daily Quran and Hadees #قرآن
15/06/2026
شک کی بیماری کا علاج ممکن نہیں جب تک ہم عقل و شعور کا استعمال نہ کریں۔۔۔۔
سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 55
تفسیر:
ہم تمہارا یقین اس وقت تک نہیں کرنے کے جب تک خدا کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔ بنی اسرائیل شک کے ایسے مریض تھے کہ انہیں کسی طرح یقین ہی نہیں آتا تھا کہ فی الواقع اللہ تعالیٰ موسیٰ ؑ سے کلام بھی کرتا ہے اس وجہ سے جب موسیٰ ؑ ان سے کہتے تھے کہ خداوند تمہیں یہ حکم دیتا ہے تو وہ کہتے کہ جب خدا تم سے کلام کرتا ہے تو وہ ہم سے بھی کلام کرے اور ہم بھی اس کو آنکھوں سے دیکھیں، اس کے بغیر ہم تمہاری بات کی صحت کس طرح تسلیم کر لیں؟
جہاں تک اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی خواہش کا تعلق ہے، یہ خواہش کوئی قابل ملامت خواہش نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے بھی یہ خواہش کی تھی لیکن بڑا فرق ہے اس بات میں کہ یہ خواہش شرح صدر اور اطمینان قلب حاصل کرنے کے لئے ہو اور اس بات میں کہ اس کو انکار اور تکذیب کا بہانہ بنایا جائے۔ حضرت موسی ؑ کی یہ خواہش اسی طرح تھی جس طرح حضرت ابراہیم ؑ نے یہ دیکھنا چاہا تھا کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے تاکہ آخرت کے باب میں انہیں پورا پورا شرح صدر حاصل ہو جائے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو ملامت نہیں فرمائی بلکہ صرف یہ فرمایا ہے کہ تم ان ناسوتی آنکھوں سے میری ذات کو نہیں دیکھ سکتے، صرف میری صفات ہی کو دیکھ سکتے ہو۔
تدبر قرآن
مفسر: مولانا امین احسن اصلاحی
Daily Quran and Hadees #قرآن