24/05/2026
صحیح بخاری
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: میت کو خوشبو لگانا۔
حدیث نمبر: 1266
حدیث نمبر: 1266 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ إِذْ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ فَأَقْصَعَتْهُ أَوْ قَالَ فَأَقْعَصَتْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا.
ترجمہ:
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ایوب نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس (رض) نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے ساتھ میدان عرفہ میں وقوف کئے ہوئے تھا کہ وہ اپنے اونٹ سے گرپڑا اور اونٹ نے انہیں کچل دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انہیں پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے کر دو کپڑوں کا کفن دو ، خوشبو نہ لگاؤ اور نہ سر ڈھکو کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انہیں لبیک کہتے ہوئے اٹھائے گا۔
Translation:
Narrated Ibn Abbas (RA):
While a man was at Arafat (for Hajj) with Allahs Apostle ﷺ the fell down from his Mount and broke his neck (and died). So Allahs Apostle ﷺ said, "Wash him with water and Sidr and shroud him in two pieces of cloth and neither perfume him nor cover his head, for Allah will resurrect him on the Day of Resurrection and he will be saying Labbaik."
________
24/05/2026
*” جب تم عشرہ ذوالحجہ میں گناہ چھوڑ دیتے ہو تو یہ اللہ کی شعائر (نشانیوں کی تعظیم کہلاتی ہے، یہ نفاق نہیں ہے۔ بلکہ ممکن ہے کہ اسی عمل کی وجہ سے اللہ تمہیں ہدایت دے دے، تمہیں اس گناہ سے توبہ کی توفیق مل جائے، اور اللہ تم سے راضی ہو جائے۔ کیونکہ تم اس کے شعائر کا احترام کرتے ہو، اپنے نفس سے جہاد کرتے ہو اور اسے حرام کاموں سے دور رکھتے ہو“💎🕋*
24/05/2026
❤️Welcome to Al-suffah online Quran Academy
🙆𝐍𝐨 𝐍𝐞𝐞𝐝 𝐭𝐨 𝐛𝐞 𝐰𝐨𝐫𝐫𝐢𝐞𝐝 𝐦𝐨𝐫𝐞 𝐚𝐛𝐨𝐮𝐭 𝐤𝐢𝐝𝐬'𝐐𝐮𝐫𝐚𝐧𝐢𝐜 𝐄𝐝𝐮𝐜𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧:
OUR COURSES:
✅Basic Noorani Qaidah With Tajweed
✅Quran Reading with Tajweed
✅Memorization Of Quran
✅Translation of Quran
✅Quranic prayers
✅Prayer/Namaz
✅Six kalma's/And Much more
✅(Trial Session Available)
🔆We are offering quality services all over the world for all age and gender groups
Contact WhatsApp #00923205931159
#تجوید
24/05/2026
حضرت زکریا علیہ السلام جیسا یقین پیدا کر لیجیے…
جب بال سفید ہو جائیں، بڑھاپا آ جائے، بیوی بھی بانجھ ہو، اولاد کا ہر سبب ختم ہو جائے… تب بھی اگر آپ اللہ سے دعا کریں کہ:
“اے میرے رب! مجھے اولاد عطا فرما دے”
اور یقین اس قدر پختہ ہو کہ ناممکن بھی ممکن لگنے لگے — تو اللہ وہ عطا فرما دیتا ہے جس کا انسان گمان بھی نہیں کرتا۔
قرآن میں آتا ہے:
يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَىٰ
“اے زکریا! ہم تمہیں ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں، جس کا نام یحییٰ ہوگا۔”
(سورۃ مریم: 7)
سبق یہ ہے:
یقین حالات سے بڑا ہوتا ہے۔
حضرت مریم علیہا السلام جیسا حیا پیدا کر لیجیے…
جب پوری قوم انگلیاں اٹھائے، الزام لگائے، اور آپ اکیلی کھڑی ہوں… مگر آپ کا یقین اللہ پر قائم رہے، تو اللہ گود میں ایک ایسا معجزہ رکھ دیتا ہے جو پوری دنیا کے لیے نشانی بن جاتا ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے گود میں بول کر اپنی ماں کی پاکدامنی کی گواہی دی:
قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللّٰهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا
“میں اللہ کا بندہ ہوں، اُس نے مجھے کتاب عطا کی اور نبی بنایا۔”
(سورۃ مریم: 30)
سبق یہ ہے:
حیا اور پاکدامنی کبھی ضائع نہیں جاتی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسا صبر پیدا کر لیجیے…
جب آپ کو آگ میں پھینک دیا جائے، اپنا گھر چھوڑنا پڑے، بیوی اور بچے کو بے آب و گیاہ صحرا میں چھوڑنا پڑے… پھر بھی دل میں شکایت نہ آئے اور زبان پر صرف رب کا نام ہو — تو اللہ آگ کو بھی ٹھنڈا کر دیتا ہے۔
قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ
“ہم نے فرمایا: اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔”
(سورۃ الأنبیاء: 69)
سبق یہ ہے:
صبر کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔
حضرت ایوب علیہ السلام جیسا شکر پیدا کر لیجیے…
جب مال، صحت، اولاد — سب چھن جائے، اور سالوں کی بیماری جسم کو توڑ دے… تب بھی اگر زبان پر شکایت کے بجائے شکر رہے، تو اللہ کھویا ہوا سب کچھ واپس لوٹا دیتا ہے۔
وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
“اور ایوب کو یاد کرو، جب اُس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے تکلیف پہنچی ہے، اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔”
(سورۃ الأنبیاء: 83)
سبق یہ ہے:
شکر اندھیروں میں بھی روشنی پیدا کرتا ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسا توکل پیدا کر لیجیے…
جب سامنے سمندر ہو، پیچھے فرعون کا لشکر ہو، راستہ بند نظر آئے… تب بھی اگر دل یہ کہے:
“میرا رب میرے ساتھ ہے”
تو سمندر بھی راستہ دے دیتا ہے۔
فَانفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ
“پھر سمندر پھٹ گیا، اور ہر حصہ بڑے پہاڑ کی مانند ہو گیا۔”
(سورۃ الشعراء: 63)
سبق یہ ہے:
توکل بند دروازوں میں راستے پیدا کرتا ہے۔
حضرت نوح علیہ السلام جیسی استقامت پیدا کر لیجیے…
جب برسوں نہیں، صدیوں تک لوگ مذاق اڑائیں، انکار کریں، اور اپنے بھی ساتھ چھوڑ دیں… تب بھی اگر قدم نہ ڈگمگائیں، تو اللہ زمین و آسمان کے دروازے کھول دیتا ہے۔
قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلًا وَنَهَارًا
“نوح نے کہا: اے میرے رب! میں نے اپنی قوم کو رات دن بلایا۔”
(سورۃ نوح: 5)
سبق یہ ہے:
استقامت معجزوں کو جنم دیتی ہے۔
حضرت لوط علیہ السلام جیسی جُرأت پیدا کر لیجیے…
جب پوری قوم ایک طرف ہو، اور آپ اکیلے حق پر کھڑے ہوں… تب بھی اگر انسان حق کہنے سے نہ ڈرے، تو اللہ فرشتوں کو مدد کے لیے بھیج دیتا ہے۔
قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَىٰ رُكْنٍ شَدِيدٍ
“لوط نے کہا: کاش میرے پاس تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا۔”
(سورۃ ہود: 80)
سبق یہ ہے:
حق پر اکیلا کھڑا ہونا بھی عبادت ہے۔
شاید ہمیں بھی خود سے ایک سوال پوچھنا چاہیے:
ہم کس نبی کی صفت اپنی زندگی میں پیدا کرنا چاہتے ہیں؟