Kpk private school
the page purpose is to inform and collect people for thier legal rights and
for the future of thier
19/06/2026
*باچا خان بابا – 20 سطروں میں پاکستان کے لیے ان کی جدوجہد*
1. باچا خان بابا کا اصل نام عبدالغفار خان تھا، پیدائش 1890ء میں اتمانزئی، چارسدہ میں ہوئی۔
2. انہیں "سرحد کا گاندھی" اور "باچا خان" کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔
3. انہوں نے انگریزوں کی غلامی کے خلاف عدم تشدد کی تحریک چلائی۔
4. 1929ء میں انہوں نے "خدائی خدمتگار تحریک" یا "سرخ پوش" تحریک کی بنیاد رکھی۔
5. اس تحریک کے رضاکار سرخ کپڑے پہنتے تھے، اس لیے "سرخ پوش" کہلائے۔
6. باچا خان کا نعرہ تھا: "تعلیم، امن اور بھائی چارہ"۔
7. انہوں نے پختونوں کے لیے سینکڑوں سکول کھولے تاکہ جہالت ختم ہو۔
8. انگریزوں نے انہیں کئی بار جیل میں ڈالا، لیکن وہ جھکے نہیں۔
9. کانگریس کے ساتھ مل کر انہوں نے ہندوستان کی آزادی کی جنگ لڑی۔
10. ان کا ماننا تھا کہ آزادی بندوق سے نہیں، اتحاد اور اخلاق سے ملتی ہے۔
11. انہوں نے پختونوں کو پیغام دیا: "پختون کو قلم چاہیے، تلوار نہیں"۔
12. 1947ء میں جب پاکستان بنا تو انہوں نے پرامن پاکستان کی حمایت کی۔
13. وہ چاہتے تھے کہ پختون، پنجابی، سندھی، بلوچی سب ایک قوم بن کر رہیں۔
14. انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں انہوں نے 30 سال سے زیادہ جیل کاٹی۔
15. کانگریس نے انہیں ہمیشہ عزت دی کیونکہ وہ سچے اور اصولوں کے پکے تھے۔
16. باچا خان نے کہا: "میں مسلمان ہوں، پختون ہوں، لیکن سب سے پہلے انسان ہوں"۔
17. انہوں نے فرقہ واریت، لسانیت اور نفرت کی سیاست کو ہمیشہ رد کیا۔
18. پاکستان کے لیے ان کا خواب تھا: ایک پرامن، تعلیم یافتہ اور متحد قوم۔
19. 1988ء میں پشاور میں ان کا انتقال ہوا، لاکھوں لوگ ان کے جنازے میں شریک ہوئے۔
20. آج بھی باچا خان بابا ہمیں سکھاتے ہیں کہ ملک ترقی صرف محبت، تعلیم اور قربانی سے کرتا ہے۔
*سبق*: پاکستان کو آگے لے جانے کے لیے باچا خان کا فلسفہ - "عدم تشدد + تعلیم + اتحاد" - آج بھی سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔
کوئی خاص واقعہ سننا چاہیں گے ان کی زندگی کا؟
*خانِ غنی خان بابا – چارسدہ کی تاریخ کا درخشاں باب*
*پورا نام*: خانِ غنی خان
*پیدائش*: 1914ء - ہشتنغر، چارسدہ، خیبرپختونخوا
*والد*: باچا خان، پختونوں کے عظیم رہنما
*وفات*: 1996ء
*کون تھے غنی خان بابا؟*
وہ شاعر تھے، مصور تھے، فلسفی تھے، اور سب سے بڑھ کر "پختون کے درد کے شاعر" تھے۔ باچا خان کے بیٹے ہونے کے باوجود انہوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی اور قلم و برش کو اپنا ہتھیار بنایا۔
*چارسدہ سے رشتہ*
چارسدہ کی مٹی، دریائے کابل کے کنارے، ہشتنغر کے پہاڑ – یہ سب ان کے کلام میں بسے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے تھے:
"چارسدہ میری ماں ہے، میں اس کی گود میں کھیل کر بڑا ہوا ہوں۔"
ان کا زیادہ وقت ہشتنغر کے باغ میں گزرتا تھا جہاں وہ پینٹنگ کرتے اور پشتو شاعری لکھتے۔
*ان کی پہچان*
1. *شاعری*: "کلیاتِ غنی" ان کی مشہور کتاب ہے۔ سادہ پشتو، گہرے فلسفیانہ خیالات۔ وہی اشعار جو آپ نے بھیجے:
"باره ما ګوره حسینہ... جنګ خو نه وې، قتلی عام وې" – یہ انہی کا انداز ہے۔
2. *مصوری*: وہ ایک بہترین مصور تھے۔ ان کی پینٹنگز میں پختون کلچر، پہاڑ، اور انسان کی تنہائی نظر آتی ہے۔
3. *فلسفہ*: انہوں نے "انسان" کو سب سے بڑا مذہب کہا۔ نفرت، جنگ اور تعصب کے خلاف آواز اٹھائی۔
*مشہور قول*
"پختون کو تلوار نہیں، قلم چاہیے۔ تعلیم چاہیے۔ محبت چاہیے۔"
"خدائے نے انسان بنایا، ہم نے اسے پٹھان، پنجابی، سندھی میں بانٹ دیا۔"
غنی خان بابا آج بھی چارسدہ کے ہر گلی، ہر چائے خانے میں زندہ ہیں۔ ان کا مزار ہشتنغر میں ہے، جہاں لوگ آج بھی ان کے کلام پڑھنے آتے ہیں۔
آپ کو ان کا کوئی خاص شعر سمجھنا ہے؟ میں آسان اردو میں مطلب بتا دوں گا 🌸
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Telephone
Website
Address
Peshawar
25000