*قرآن و اہلبیت گمراہی سے بچنے کا ذریعہ۔*
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَالْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي، أَحَدُهُمَا أَعْظَمُ مِنَ الْآخَرِ، كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، وَلَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا۔
*اردو ترجمہ*
حضرت حبیب ابن ابی ثابت اور زید بن ارقم رضی اللّٰہ عنھما سے روایت ہے دونوں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم میں ایسی چیز چھوڑنے والا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے: ان میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے اور وہ اللہ کی کتاب ہے گویا وہ ایک رسی ہے جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے، اور دوسری میری «عترت» یعنی میرے اہل بیت ہیں یہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گے، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے، تو تم دیکھ لو کہ ان دونوں کے سلسلہ میں تم میری کیسی جانشینی کر رہے ہو“
*English Translation*
Narrated Zaid bin Arqam, may Allah be pleased with both of them:
that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed, I am leaving among you, that which if you hold fast to them, you shall not be misguided after me. One of them is greater than the other: The Book of Allah is a rope extended from the sky to the earth, and my family - the people of my house - and they shall not split until they meet at the Hawd, so look at how you deal with them after me.
*جامع الترمذی حدیث نمبر 3788 کتاب المناقب*
*جمعہ 19 جون 2026ء*
*3 محرم الحرام 1448 ہجری*
Dhoke Chaudhrian Official
Delivering good messages to people
*حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی اہل بیت۔*
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، رَبِيبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا (سورة الأحزاب آية 33) فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَدَعَا فَاطِمَةَ، وَحَسَنًا، وَحُسَيْنًا فَجَلَّلَهُمْ بِكِسَاءٍ وَعَلِيٌّ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَجَلَّلَهُ بِكِسَاءٍ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي، فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: وَأَنَا مَعَهُمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ: أَنْتِ عَلَى مَكَانِكِ وَأَنْتِ عَلَى خَيْرٍ۔
*اردو ترجمہ*
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زیر پرورش عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
جب آیت «إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا» ”اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والو! تم سے وہ ( ہر قسم کی ) گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ ( الاحزاب: ۳۳ ) ، ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی تو آپ نے فاطمہ و حسن و حسین ( رضی الله عنہم ) کو بلایا اور انہیں ایک چادر کے نیچے ڈھانپ دیا، علی رضی الله عنہ آپ کی پیٹھ کے پیچھے تھے آپ نے انہیں بھی چادر کے نیچے کر لیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ یہ ہیں میرے اہل بیت، میرے گھر والے، ان سے ناپاکی دور کر دے اور انہیں ہر طرح کی آلائشوں سے پوری طرح پاک و صاف کر دے“، ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: اور میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں، اے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: ”تم اپنی جگہ ہی ٹھیک ہو، تمہیں خیر ہی کا مقام و درجہ حاصل ہے“
*English Translation*
Narrated 'Umar bin Abi Salamah - the step-son of the Prophet (ﷺ): When these Ayat were revealed to the Prophet (ﷺ): 'Allah only wishes to remove the Rijs from you, O members of the family, and to purify you with a thorough purification (33:33)' in the home of Umm Salamah, he called for Fatimah, Hasan, Husain, and wrapped him in the cloak, and 'Ali was behind him, so he wrapped him in the cloak, then he said: 'O Allah! These are the people of my house, so remove the Rijs from them, and purify them with a thorough purification.' So Umm Salamah said: 'And I, Prophet of Allah?' He said: 'You are in your place (meaning you are already a member of my household), and you are goodness.'
*جامع الترمذی حدیث نمبر 3205 کتاب التفسیر*
*جمعرات 18 جون 2026ء*
*2 محرم الحرام 1448 ہجری*
*حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کی شان۔*
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا: لِشَابٍّ مِنْ قُرَيْشٍ فَظَنَنْتُ أَنِّي أَنَا هُوَ، فَقُلْتُ: وَمَنْ هُوَ ؟ فَقَالُوا: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ۔
*اردو ترجمہ*
حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنت کے اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میں ایک سونے کے محل میں ہوں، میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے کہا: قریش کے ایک نوجوان کا ہے، تو میں نے سوچا کہ وہ میں ہی ہوں گا، چنانچہ میں نے پوچھا کہ وہ نوجوان کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: وہ عمر بن خطاب ہیں“۔
*English Translation*
Narrated Anas: that the Prophet (ﷺ) said: I entered Paradise and it was as if I was in a palace of gold. So I said: 'Whose palace is this?' They said: 'A youth's, from the Quraish.' So I thought that I was him. I said: 'And who is he?' They said: 'Umar bin Al-khattab.
*جامع الترمذی حدیث نمبر 3688 کتاب المناقب*
*نوٹ*
بعض آئمہ کرام کے نزدیک حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کا یومِ شہادت 26 ذی الحجہ ہے، جبکہ کچھ کے نزدیک 27 ذی الحجہ بھی ہے، لیکن جمہور علماء کرام، آئمہ کرام و مشائخِ عظام کے نزدیک حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کا یومِ شہادت یکم محرم الحرام ہے۔ جو کہ زیادہ صحیح قول بھی ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب و رسولہ۔
اور یکم محرم الحرام آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت سے کسی قسم کی کسی کی بھی کوئی بھی تنقیص لازم نہیں آتی۔
اسی وجہ سے بغیر کسی سے اختلاف کیے 26 ذی الحجہ سے لے کر آج یکم محرم الحرام تک الحمدللہ العظیم حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کی شان میں احادیثِ مبارکہ پیش کی گئی ہیں۔
نیز حدیث شریف میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرشتے سے محل کے متعلق سوال کرنا کہ یہ کس کا ہے؟ تو اس سے آپ کے علم کی کوئی نفی ثابت نہیں ہوتی، بلکہ اور فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ جب ایک چیز کا علم ہو اور پھر بھی اس کے متعلق پوچھا جائے تو اس سے اس چیز کی مزید فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ وہ چیز کوئی مقام و مرتبے والی ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب و رسولہ۔۔
*بدھ 17 جون 2026ء*
*یکم محرم الحرام 1448 ہجری*
*حضرت عمرِ فاروق رضی اللّٰہ عنہ کی شان۔*
حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحُسَيْنِ الْمَكِّيُّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : إِنِّي لَوَاقِفٌ فِي قَوْمٍ فَدَعَوْا اللَّهَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَقَدْ وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ إِذَا رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي قَدْ وَضَعَ مِرْفَقَهُ عَلَى مَنْكِبِي ، يَقُولُ : رَحِمَكَ اللَّهُ إِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ , لِأَنِّي كَثِيرًا مَا كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : كُنْتُ وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ وَفَعَلْتُ وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ وَانْطَلَقْتُ وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ ، فَإِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَهُمَا , فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ .
*اردو ترجمہ*
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا جو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لیے دعائیں کر رہے تھے، اس وقت ان کا جنازہ چارپائی پر رکھا ہوا تھا، اتنے میں ایک صاحب نے میرے پیچھے سے آ کر میرے شانوں پر اپنی کہنیاں رکھ دیں اور ( عمر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے ) کہنے لگے اللہ آپ پر رحم کرے۔ مجھے تو یہی امید تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ ( دفن ) کرائے گا، میں اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے سنا کرتا تھا کہ ”میں اور ابوبکر اور عمر تھے“، ”میں نے اور ابوبکر اور عمر نے یہ کام کیا“، ”میں اور ابوبکر اور عمر گئے“ اس لیے مجھے یہی امید تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان ہی دونوں بزرگوں کے ساتھ رکھے گا۔ میں نے جو مڑ کر دیکھا تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔
*English translation*
Narrated Ibn `Abbas: While I was standing amongst the people who were invoking Allah for `Umar bin Al-Khattab who was lying (dead) on his bed, a man behind me rested his elbows on my shoulder and said, (O `Umar!) May Allah bestow His Mercy on you. I always hoped that Allah will keep you with your two companions, for I often heard Allah's Apostle saying, I, Abu Bakr and `Umar were (somewhere). I, Abu Bakr and `Umar did (something). I, Abu Bakr and `Umar set out.' So I hoped that Allah will keep you with both of them. I turned back to see that the speaker was `Ali bin Abi Talib.
*صحیح البخاری حدیث نمبر 3677 کتاب المناقب*
*منگل 16 جون 2026ء*
*30 ذی الحجہ 1447 ہجری*
*حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شان، اور آپ کی علمی حیثیت کا بیان۔*
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتُ كَأَنِّي أُتِيتُ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ، فَأَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: اَلْعِلْمَ۔
*اردو ترجمہ*
حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے خواب میں دیکھا گویا مجھے دودھ کا کوئی پیالہ دیا گیا جس میں سے میں نے کچھ پیا پھر میں نے اپنا بچا ہوا حصہ عمر بن خطاب کو دے دیا“، تو لوگ کہنے لگے اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ آپ نے فرمایا: ”اس کی تعبیر علم ہے“۔
*English Translation*
Narrated Ibn 'Umar: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'I saw that I was brought a cup of milk, so I drank from it, and I gave my leftover to 'Umar bin Al-Khattab.' They said: 'So what did you interpret it as O Messenger of Allah?' He said: '(It is) Knowledge.'
*جامع الترمذی حدیث نمبر 3687 کتاب المناقب*
*نوٹ*
اس روایت میں جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے علم کا بیان ہوا ہے اس سے کسی بھی دیگر صحابی کے علم کی مِن جملہ نفی نہیں ہوتی۔
علم کے لحاظ سے ہر صحابی کا ایک اپنا مقام ہے، اپنی فضیلت ہے۔
واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب و رسولہ۔
*سوموار 15 جون 2026ء*
*29 ذی الحجہ 1447 ہجری*
*حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شان، کہ آپ کی بعض رائے کو اللہ پاک نے قرآن پاک میں آیت کی صورت میں نازل فرما دیا۔*
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ حُمَيْدٍ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ : قَالَ عُمَرُ : وَافَقْتُ اللَّهَ فِي ثَلَاثٍ أَوْ وَافَقَنِي رَبِّي فِي ثَلَاثٍ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوِ اتَّخَذْتَ مَقَامَ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ، وَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَدْخُلُ عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ ، فَلَوْ أَمَرْتَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِالْحِجَابِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ ، قَالَ : وَبَلَغَنِي مُعَاتَبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ نِسَائِهِ ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِنَّ ، قُلْتُ : إِنِ انْتَهَيْتُنَّ أَوْ لَيُبَدِّلَنَّ اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا مِنْكُنَّ حَتَّى أَتَيْتُ إِحْدَى نِسَائِهِ ، قَالَتْ : يَا عُمَرُ ، أَمَا فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَعِظُ نِسَاءَهُ حَتَّى تَعِظَهُنَّ أَنْتَ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ : عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ (سورة التحريم آية 5 الْآيَةَ) , وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ , سَمِعْتُ أَنَسًا , عَنْ عُمَرَ۔
*اردو ترجمہ*
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا، تین مواقع پر اللہ تعالیٰ کے نازل ہونے والے حکم سے میری رائے نے پہلے ہی موافقت کی یا میرے رب نے تین مواقع پر میری رائے کے موافق حکم نازل فرمایا۔ میں نے عرض کیا تھا کہ یا رسول اللہ! کیا اچھا ہوتا کہ آپ مقام ابراہیم کو طواف کے بعد نماز پڑھنے کی جگہ بناتے تو بعد میں یہی آیت نازل ہوئی۔ اور میں نے عرض کیا تھا کہ یا رسول اللہ! آپ کے گھر میں اچھے اور برے ہر طرح کے لوگ آتے ہیں۔ کیا اچھا ہوتا کہ آپ امہات المؤمنین کو پردہ کا حکم دے دیتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت حجاب ( پردہ کی آیت ) نازل فرمائی اور انہوں نے بیان کیا اور مجھے بعض ازواج مطہرات سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خفگی کی خبر ملی۔ میں ان کے یہاں گیا اور ان سے کہا کہ تم باز آ جاؤ، ورنہ اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بدل دے گا۔ بعد میں ازواج مطہرات میں سے ایک کے ہاں گیا تو وہ مجھ سے کہنے لگیں کہ عمر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنی ازواج کو اتنی نصیحتیں نہیں کرتے جتنی تم انہیں کرتے رہتے ہو۔ آخر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ» ”کوئی تعجب نہ ہونا چاہئیے اگر اس نبی کا رب تمہیں طلاق دلا دے اور دوسری مسلمان بیویاں تم سے بہتر بدل دے۔“ آخر آیت تک۔ اور ابن ابی مریم نے بیان کیا، انہیں یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، ان سے حمید نے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا۔
*English Translation*
Narrated Anas: `Umar said, I agreed with Allah in three things, or said, My Lord agreed with me in three things. I said, 'O Allah's Messenger ! Would that you took the station of Abraham as a place of prayer.' I also said, 'O Allah's Messenger ! Good and bad persons visit you! Would that you ordered the Mothers of the believers to cover themselves with veils.' So the Divine Verses of Al-Hijab (i.e. veiling of the women) were revealed. I came to know that the Prophet had blamed some of his wives so I entered upon them and said, 'You should either stop (troubling the Prophet ) or else Allah will give His Apostle better wives than you.' When I came to one of his wives, she said to me, 'O `Umar! Does Allah's Messenger haven't what he could advise his wives with, that you try to advise them?' Thereupon Allah revealed:-- It may be, if he divorced you (all) his Lord will give him instead of you, wives better than you Muslims (who submit to Allah)..(66.5)
*صحیح البخاری حدیث نمبر 4483 کتاب التفسیر*
*ہفتہ 13 جون 2026ء*
*27 ذی الحجہ 1447 ہجری*
*حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ کی شان۔*
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ۔
*اردو ترجمہ*
حضرت عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے“
*English Translation*
Narrated 'Uqbah bin 'Amir: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: If there was to have a Prophet after me, it would have been 'Umar bin Al-Khattab.
*جامع الترمذی حدیث نمبر 3686 کتاب المناقب*
*جمعہ 12 جون 2026ء*
*26 ذی الحجہ 1447 ہجری*
*مؤمن کو پہنچنے والی تکلیف، تھکاوٹ، بیماری، غم اور فکر کے بدلے اس کے گناہوں کے مٹائے جانے کا بیان۔*
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلَا نَصَبٍ وَلَا سَقَمٍ وَلَا حَزَنٍ حَتَّى الْهَمِّ يُهَمُّهُ إِلَّا كُفِّرَ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ۔
*اردو ترجمہ*
عطاء بن یسار نے حضرت ابوسعید اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ مومن کو کوئی تکلیف نہیں پہنچتی ، نہ تھکاوٹ ، نہ بیماری ، نہ غم حتی کہ کوئی فکر بھی جو اسے فکرمند کر دے مگر اس کے بدلے اس کے گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے ۔‘‘
*English translation*
Abu Sa'id and abu Huraira reported that they heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) as saying:
Never a believer is stricken with discomfort, hardship or illness, grief or even with mental worry that his sins are not expiated for him.
*صحیح مسلم حدیث نمبر 6568 کتاب الصلة والأدب*
*جمعرات 11 جون 2026ء*
*25 ذی الحجہ 1447 ہجری*
*مرد کےلیے زعفرانی رنگ پہننے کی ممانعت کا بیان۔*
و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ۔
*اردو ترجمہ*
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں عبدالعزیز بن صہیب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرد کو زعفرانی رنگ ( پہننے ) سے منع فرمایا۔
*English translation*
Anas reported that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) forbade that a person should (wear) clothes dyed in saffron.
*صحیح مسلم حدیث نمبر 5507 کتاب اللباس والزینة*
*بدھ 10 جون 2026ء*
*24 ذی الحجہ 1447 ہجری*
*سیدھے لیٹ کر ایک ٹانگ کھڑی کر کے دوسری کو اس کے اوپر رکھنے کی ممانعت کا بیان۔*
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْأَخْنَسِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَسْتَلْقِيَنَّ أَحَدُكُمْ ثُمَّ يَضَعُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى۔
*اردو ترجمہ*
عبیداللہ بن اخنس نے ابوزبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص چت لیٹ کر اپنی ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ ( کھڑی کر کے اس ) پر نہ رکھے ۔‘‘
*English translation*
Jalbir b. Abdullah reported Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) as saying:
None of you should lie on his back and place one of his feet upon the other.
*صحیح مسلم حدیث نمبر 5503 کتاب اللباس والزینة*
*منگل 9 جون 2026ء*
*23 ذی الحجہ 1447 ہجری*
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
Rawalpindi
4600