عبدالستار ایدھی — انسانیت کا سچا خادم
یہ کہانی ہے ایک ایسے شخص کی، جس نے زندگی بھر نہ کوئی محل بنایا، نہ کوئی گاڑی خریدی، نہ لباس کا شوق رکھا، نہ شہرت کا۔ اُس کا نام تھا عبدالستار ایدھی۔
کراچی کی گلیوں میں ایک شخص پرانا سا کرتا پہنے، بوسیدہ چپلوں میں، ایک ایمبولینس چلاتا تھا۔ وہ لوگوں کو اسپتال پہنچاتا، لاوارث لاشوں کو غسل دیتا، بچوں کو گود لیتا، بوڑھوں کو سنبھالتا، اور مریضوں کی دوا خود خریدتا۔ لوگ اُسے فقیر سمجھتے، لیکن وہ اُس فقیر سے بھی عظیم تھا، جو سب کچھ بانٹ کر خود خالی ہو جاتا ہے۔
ایک دن ایک صحافی نے پوچھا:
"ایدھی صاحب، آپ کے اپنے بچے کیا کرتے ہیں؟"
ایدھی نے مسکرا کر جواب دیا:
میرے سب بچے وہ ہیں، جنہیں کوئی اپنا کہنے والا نہیں۔
انہوں نے 1951 میں صرف 500 روپے سے ایدھی فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ پھر خود سڑک پر ایمبولینس لے کر کھڑے ہو گئے۔ جب جنگ ہو، بم دھماکہ ہو، یا سیلاب — سب بھاگتے، لیکن ایک ایدھی تھا جو لپکتاتھا.
ایک بار کسی نے ان پر الزام لگا دیا کہ وہ غیر مسلم بچوں کو مسلمان بنا رہے ہیں۔ عدالت میں پیشی ہوئی۔ جج نے پوچھا:
کیا یہ سچ ہے؟
ایدھی نے جواب دیا:
"میں تو صرف بھوکے کو کھانا دیتا ہوں، ننگے کو کپڑا، بیمار کو دوا۔ ایمان دینا میرے اختیار میں نہیں، وہ خدا کا کام ہے!
اور کمرہ عدالت تالیوں سے گونج اُٹھا۔
انہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ انسانوں کے لیے وقف کیا۔ اُن کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہ تھا، کوئی جائیداد نہیں، کوئی سیاست نہیں — بس خدمت، صرف خدمت۔
8 جولائی 2016 کو وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ پوری قوم نے انہیں سلامی دی۔ فوج نے اُن کی میت کو عزت دی۔ وہ شخص جو کبھی حکومت کا حصہ نہ بنا، اُس کے جنازے پر ساری حکومت جھکی کھڑی تھی۔
ایدھی نے مرتے وقت صرف یہ وصیت چھوڑی:
"میرے کپڑے اور جوتے بھی میرے غریب بھائیوں کو ہدیہ کر دینا۔"
سبق:
ایدھی ہمیں سکھا گئے کہ سچا مذہب انسانیت ہے۔ جو انسانوں کی خدمت کرتا ہے، وہی اللہ کا ولی ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بغیر اقتدار، بغیر طاقت، اور بغیر دولت کے بھی قوم کی خدمت کی جا سکتی ہے — بس دل میں درد ہونا چاہیے۔
Al Haseeb Online Quran Academy
Qualified in Quranic Education and Quran teaching all over the world
10/04/2025
22/03/2025
ایک چوہا کسان کے گھر میں بل بنا کر رہتا تھا، ایک دن
چوہے نے دیکھا کہ کسان اور اس کی بیوی ایک تھیلے
سے کچھ نکال رہے ہیں،چوہے نے سوچا کہ شاید کچھ کھانے کا سامان ہے-
خوب غور سے دیکھنے پر اس نے پایا کہ وہ ایک چوهےدانی تھی-
خطرہ بھانپنے پر اس نے گھر کے پچھلے حصے میں جا کر کبوتر کو یہ بات بتائی کہ گھر میں چوهےدانی آ گئی ہے-
کبوتر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ مجھے کیا؟ مجھے کون سا اس میں پھنسنا ہے؟
مایوس چوہا یہ بات مرغ کو بتانے گیا
مرغ نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ... جا بھائی یہ میرا مسئلہ نہیں ہے تو اپنا کام خود کر
مایوس چوہے نے دیوار میں جا کر بکرے کو یہ بات بتائی ... اور بکرا ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہونے لگا-
*اسی رات چوهےدانی میں كھٹاك کی آواز ہوئی جس میں ایک زہریلا سانپ پھنس گیا تھا-*
اندھیرے میں اس کی دم کو چوہا سمجھ کر کسان کی بیوی نے اس کو نکالا اور سانپ نے اسے ڈس لیا-
طبیعت بگڑنے پر کسان نے حکیم کو بلوایا،
حکیم نے اسے کبوتر کا سوپ پلانے کا مشورہ دیا،
کبوتر ابھی برتن میں ابل رہا تھا کہ اچانک سے
خبر سن کر کسان کے کئی رشتہ دار ملنے آ پہنچے جن کے کھانے کے انتظام کیلئے اگلے دن مرغ کو ذبح کیا گیا
کچھ دنوں کے بعد کسان کی بیوی مر گئی ... جنازہ اور موت ضیافت میں بکرا پروسنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ......
*چوہا دور جا چکا تھا ... بہت دور ............
اگلی بار کوئی آپ کو اپنے مسئلے بتائے اور آپ کو لگے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے تو انتظار کیجئیے اور دوبارہ سوچیں .... *ہم سب خطرے میں ہیں ....*
سماج کا ایک عضو، ایک طبقہ، ایک شہری خطرے میں ہے تو پورا ملک خطرے میں ہے ....
ذات، مذہب اور طبقے کے دائرے سے باہر نكليے-
میرا اشارہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے مظلوم مسلمانوں کی طرف ہے
خود تک محدود مت رہیے- دوسروں کا احساس کیجئے
ورنہ اپنی باری کا انتظار کریں
😥یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود !!اپنَـــ͜ـؔــا ضَمِیــ͜ـؔـــر مُطمئـــ͜ـؔــن ھے ؛؛💯
بھَـــ͜ـؔــاڑ مِیِــ͜ـؔــں جائیں مُنافِــ͜ـؔــق لــ͜ـؔــوّگ🔥
19/03/2025
ایک چوہا کسان کے گھر میں بل بنا کر رہتا تھا، ایک دن
چوہے نے دیکھا کہ کسان اور اس کی بیوی ایک تھیلے
سے کچھ نکال رہے ہیں،چوہے نے سوچا کہ شاید کچھ کھانے کا سامان ہے-
خوب غور سے دیکھنے پر اس نے پایا کہ وہ ایک چوهےدانی تھی-
خطرہ بھانپنے پر اس نے گھر کے پچھلے حصے میں جا کر کبوتر کو یہ بات بتائی کہ گھر میں چوهےدانی آ گئی ہے-
کبوتر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ مجھے کیا؟ مجھے کون سا اس میں پھنسنا ہے؟
مایوس چوہا یہ بات مرغ کو بتانے گیا
مرغ نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ... جا بھائی یہ میرا مسئلہ نہیں ہے-
مایوس چوہے نے دیوار میں جا کر بکرے کو یہ بات بتائی ... اور بکرا ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہونے لگا-
*اسی رات چوهےدانی میں كھٹاك کی آواز ہوئی جس میں ایک زہریلا سانپ پھنس گیا تھا-*
اندھیرے میں اس کی دم کو چوہا سمجھ کر کسان کی بیوی نے اس کو نکالا اور سانپ نے اسے ڈس لیا-
طبیعت بگڑنے پر کسان نے حکیم کو بلوایا،
حکیم نے اسے کبوتر کا سوپ پلانے کا مشورہ دیا،
کبوتر ابھی برتن میں ابل رہا تھا کہ اچانک
خبر سن کر کسان کے کئی رشتہ دار ملنے آ پہنچے جن کے کھانے کے انتظام کیلئے اگلے دن مرغ کو ذبح کیا گیا
کچھ دنوں کے بعد کسان کی بیوی مر گئی ... جنازہ اور موت ضیافت میں بکرا پروسنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ......
*چوہا دور جا چکا تھا ... بہت دور .....
اگلی بار کوئی آپ کو اپنے مسئلے بتائے اور آپ کو لگے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے تو انتظار کیجئیے اور دوبارہ سوچیں .... *ہم سب خطرے میں ہیں ....*
سماج کا ایک عضو، ایک طبقہ، ایک شہری خطرے میں ہے تو پورا ملک خطرے میں ہے ....
ذات، مذہب اور طبقے کے دائرے سے باہر نكليے-
میرا اشارہ فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی طرف ہے
خود تک محدود مت رہیے- دوسروں کا احساس کیجئے
ورنہ اپنی باری کا انتظار کریں...!
16/03/2025
پرانے زمانے میں ایک امیر آدمی اپنے خادم کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ جب رات ہوئی تو انہوں نے ایک سرائے میں قیام کیا، اس امیر آدمی کا گھوڑا بہت قیمتی تھا اسے ڈر تھا کہ کہیں رات کو خادم بھی سو گیا تو میرا قیمتی گھوڑا چوری نہ ہو جائے، اس لئے اس نے خادم کو حکم دیا کہ تم ایسا کرو گھوڑا چونکہ بہت تھکا ہوا ہے اس لئے تم رات بھر گھوڑے کی مالش کرتے رہو جب تک میں نہ کہوں تم بس گھوڑے کو ملتے رہنا، یہ کہ کر وہ تو بے فکر ہو کر سو گیا ادھر خادم بیچارہ بھی دن بھر کے سفر سے تھکا ہوا تھا کیونکہ وہ بیچارہ تو اپنے مالک کے ساتھ ساتھ دن بھر پیدل چلتا رہا ، بہرحال اس نے مالک کے حکم کو بجا لاتے ہوئے گھوڑے کو ملنا یعنی مالش شروع کر دی لیکن آخرکار تھکاوٹ کی وجہ سے جلد ہی اس پر بھی نیند غالب آ گئی اور وہ بھی سو گیا۔
جب اس کی نیند پوری ہوئی اور ہڑبڑا کر جب جاگا اور ادھر ادھر دیکھا تو گھوڑا غائب تھا بہت پریشان ہوا کہ اب مالک کو کیا جواب دوں گا پریشانی کے عالم میں اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تو اسے پاس ہی ایک خرگوش نظر آیا کچھ سوچ کر اس نے خرگوش کو پکڑا اور اس پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ اتنے میں اس کا مالک بھی بیدار ہو گیا اس نے جب خادم کو دیکھا تو وہ گھوڑے کی بجائے خرگوش کو سہلا رہا تھا اسے بہت غصّہ آیا اس نے خادم سے پوچھا گھوڑا کدھر ہے تو خادم نے کتراتے ہوئے جواب دیا کہ یہی تو ہے گھوڑا رات بھر ملتے ملتے بس اتنا ہی رہ گیا ہے۔
پھر کیا ہونا تھا.
کہنے کو تو یہ ایک پرُ مزاح مثال ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو اس میں موجودہ دور میں دینِ اسلام کے ساتھ ہمارے شرمناک رویّے کی صحیح عکّاسی ہوتی ہے کہ آج ہم نے بھی اپنی زندگیوں سے اسلامی احکامات و روایات اور تعلیمات کو مٙل مٙل کر اتنا محدود کر دیا ہے کہ ہم بس نام کے مسلمان رہ گئے ہیں۔۔
😀😀😀😀😀😀
#فنی #کہانی #سٹوری
13/03/2025
آئیں تھوڑا مسکرا لیجیے! 😀😂
ایک وکیل صاحب نے ایک استاد کو اپنا کنواں بیچ دیا۔ دو دن بعد وکیل صاحب استاد کے پاس آئے اور کہنے لگے:
"معلم صاحب، میں نے آپ کو کنواں بیچا ہے، اس کا پانی نہیں! اگر پانی استعمال کریں گے تو اس کے پیسے الگ سے دینے ہوں گے۔"
استاد مسکرائے اور بولے:
"جی بالکل! میں بھی آپ کے پاس آنے والا تھا۔ کہنا یہ تھا کہ آپ اپنا پانی میرے کنویں سے نکال لیں، نہیں تو کل سے کرایہ بھرنا ہوگا!"
یہ سن کر وکیل گھبرا گئے اور بولے:
"اجی، میں تو بس مذاق کر رہا تھا!"
استاد نے ہنستے ہوئے جواب دیا:
"وکیل صاحب، آپ جیسے ہی ہمارے پاس پڑھ کر وکیل بنتے ہیں!"
🌟 اساتذہ کو سلام! 🌟
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Sahiwal
Opening Hours
| 09:00 - 17:00 |