09/04/2026
ٹرمپ اصل میں اس طرح جیتا ہے کہ ۔۔۔
پہلی جیت :
آبنائے ہرمز جو پہلے کھلی تھی ۔۔۔۔ اب مکمل ایران کے کنٹرول میں ہے ۔۔۔ کوئی جہاز ایران کی اجازت اور جامہ تلاشی کے بغیر نہیں گزر سکتا ۔۔۔
دوسری جیت :
ٹرمپ پہلے ہر وقت مودی کے جہاز گنتا تھا ۔۔۔ اب اپنے گنتا پھرے گا ۔۔۔
تیسری جیت :
اپنے بحری بیڑوں ابراہم لنکن ۔ جیرالڈ فورڈ کی دھمکیاں دیتا تھا ۔۔۔
اب ان کی مرہم پٹیاں کرائے گا ۔
چوتھی فتح:
پہلے ایران کو دھمکیاں دیتا تھا اور غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا آرڈر جاری کرتا تھا ۔۔۔ اب پاکستان اور چین کی مدد سے ایران کو عارضی جنگ بندی پر راضی کیا ہے
پانچویں فتح:
پہلے ایران کے ایٹمی پروگرام اور میزائل پروگرام کو ختم کرنے کے مطالبے تھے ۔۔۔ اب ایران کے 10 مطالبات پر غور کر رہا ہے ۔۔۔ کونسا مانوں اور کونسا نہیں
چھٹی اور آخری فتح:
جنگ سے پہلے ایران پر پابندیاں تھی ۔۔۔ اور اب ایران نے ساری دنیا پر پابندیاں لگا کے خود کو عالمی طاقت ثابت کر لیا ہے ۔۔۔
مٹانے چلا تھا ایران کو ۔۔۔ ٹرمپ اپنے دفتر میں ایک یادگار لکھ کر جائے گا ۔۔۔ کوئی بھی آنے والا امریکی صدر ایران پر کبھی حملہ نہ کرے۔
12/03/2026
پاکستان تو ہمیشہ زندہ رہے گا
پاکستان 65 کی جنگ بھارت سے لڑ چکا 71 کی جنگ لڑ چکا
کارگل میں لڑ چکا سویت یونین سے لڑ چکا ہے
پچاس کے قریب نیٹو کے بدمعاشوں سے بیس سال لڑتا رہا گزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردوں سے لڑ رہا ہے
پچھلے سال بھارت سے ایک اور معرکہ لڑ چکا ہے
اب نمک حرام خوارج سے لڑ رہا ہے یہ ساری لڑائیاں پاکستان اکیلے نے اپنے بل بوتے پر لڑی ہیں کوئی ایک مسلم ملک بتاؤ جس نے ان جنگوں میں پاکستان کا ساتھ دیا ہو
اب کسی اسلامی ملک کی لڑائی میں اس کا ساتھ دے تو پاکستان کی اعلیٰ ظرفی ہے اگر ساتھ نا دے تو پاکستان سے کسی کا گلہ بنتا نہیں ہاں مگر گلی کے کتوں کے بھونکنے سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے پاکستان ہمیشہ زندہ باد
سب سے پہلے پاکستان🇵🇰
🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰
19/02/2026
آج سے ایک ماہ کے لیے احمقوں کی جانب سے پوچھا جانے والا لازمی سوال:
اور سنائیں، روزے کیسے جا رہے ہیں؟😂
10/02/2026
ڈیئر جیک!!
جیک سوانسن امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر فلوگر ول (Pflugerville) کا 7 سالہ بچہ ہے۔ اس کا خواب تھا کہ وہ اپنے لیے ایک آئی پیڈ خرید سکے۔ اس لیے وہ کچھ عرصے سے تھوڑی تھوڑی رقم جمع کر رہا تھا۔ مگر ایک دن اس نے ایسا فیصلہ کیا، جس نے اس کی معصوم سوچ کو غیر معمولی بلندی عطا کر دی۔
ایک دن جیک نے اپنی والدہ کو یہ کہتے سنا کہ ٹیکساس کے ایک علاقے میں واقع ایک مسجد کو نفرت انگیز حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اسے کافی نقصان پہنچایا ہے۔ یہ سن کر جیک کو شدید غصہ اور دکھ محسوس ہوا۔ اس نے سوچا کہ اگر کوئی عبادت گاہ محض مذہبی نفرت کی بنیاد پر نقصان کا شکار ہو رہی ہے تو خاموش رہنا درست نہیں۔
جیک نے ایک ایسا فیصلہ کیا جو عمر اور وسائل دونوں سے کہیں بڑا تھا۔ اس نے اپنے چھوٹے سے بینک میں جمع 20 ڈالر مسجد کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ یہی وہ رقم تھی جو اس نے آئی پیڈ خریدنے کے لیے جمع کی تھی۔ جیک نے یہ رقم ایک خط کے ساتھ مسجد کو بھیج دی، جس میں اس نے سادہ مگر گہرے احساسات کا اظہار کیا۔
کچھ دن بعد جیک کے گھر ڈاک کے ذریعے ایک پارسل اور ایک خط موصول ہوا۔ اس خط میں لکھا تھا:
“ڈیئر جیک!
ہمیں معلوم ہے کہ تم نے اپنے چھوٹے سے بینک میں 20 ڈالر جمع کر رکھے تھے تاکہ ایک آئی پیڈ خرید سکو۔ لیکن جب ایک مقامی اسلامی مسجد کو نقصان پہنچایا گیا تو تم نے وہ پوری رقم ہماری مسجد کو عطیہ کر دی۔ تمہاری یہ سخاوت اور تمہارا نرم دل ہمارے لیے بے حد قیمتی ہے۔ ہماری طرف سے یہ آئی پیڈ قبول کرو، خلوص دل کے ساتھ شکریہ کے طور پر۔”
یہ خط اور تحفہ بھیجنے والے شخص کوئی عام فرد نہیں تھا، بلکہ ارسلان افتخار تھے، جو ایک اسلامی ماہانہ میگزین کے چیف ایڈیٹر اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے ممتاز وکیل ہیں۔
بعد ازاں جب ارسلان افتخار سے اس واقعے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: “کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ جیک نے صرف 20 ڈالر عطیہ کیے، لیکن ہمارے نزدیک وہ رقم 20 ملین ڈالر کے برابر ہے، کیونکہ اس بچے نے وہ سب کچھ دے دیا جو اس کے پاس تھا۔”❤️
05/02/2026
_لکھنے والوں نے انسانی دل کی ہر اذیت کو قلمبند کیا ہے مگر والدین کے چہرے پر اداسی کے تاثرات دیکھنے والی بے بس اولاد کے ذکر کا خانہ ہمیشہ خالی ہی چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔!!!!_
27/01/2026
بارش ہو، ساتھ والدین ہوں
مکہ کے راستے میں ہوں اور قرآن پاک کی تلاوت کی آواز گونج رہی ہو۔❤️